Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت عبداللہ بن دینا ر بہرانی کہتے ہیں حضرت زید بن ثابت نے حضرت ابی بن کعب عنہما کو خط میں یہ لکھا اما بعد ! اللہ تعالیٰ نے زبان کو دل کا ترجمان بنایا اور دل کو خزانہ اور حکمران بنایا دل زبان کو جو حکم دیتا ہے زبان اسے پورا کرتی ہے۔
جب دل زبان کی موافقت پر ہوتا ہے تو گفتگو مرتب اور مناسب ہوتی ہے اور نہ زبان سے کوئی لغزش ہوتی ہے اورنہ زبان ٹھوکر کھاتی ہے اور جس انسان کا دل اس کی زبان سے پہلے ہو یعنی دل اس کی نگرانی اور دیکھ بھال نہ کرے تو اس کی بات عقل و سمجھ والی نہیں ہوگی جب آدمی اپنی زبان کو بات کرنے میں کھلا اور آزاد چھوڑ دے گا اور زبان دل کی مخالفت کرے گی تو اس طرح وہ آدمی اپنی ناک کاٹ ڈالے گا یعنی خود کو ذلیل کرلے گا اور جب آدمی اپنے قول کا اپنے فعل سے موازنہ کرے گا تو عملی صورت سے ہی اس کے قول کی تصدیق ہوگی اور یہ کہاوت عام طور سے بیان کی جاتی ہے کہ جو بخیل بھی تمہیں ملے گا وہ باتوں میں تو بڑا سخی ہوگا لیکن عمل میں بالکل کنجوس ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی زبان اس کے دل سے آگے رہتی ہے یعنی بولتی بہت ہے اور دل کے قابو میں نہیں ہے اور یہ کہاوت بھی عام طور سے بیان کی جاتی ہے کہ جب کوئی آدمی اپنے کہے کی پابندی نہ کرے یعنی اس پر عمل نہ کرے حالانکہ اس بات کو کہتے وقت وہ جانتا تھا کہ یہ بات حق ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہے تو کیا تم اس کے پاس شرف و عزت اور مردانگی پائو گے ؟ اور آدمی کو چاہیئے کہ وہ لوگوں کے عیبوں کو نہ دیکھے کیونکہ جو لوگوں کے عیب دیکھتا ہے اور اپنے عیبو ں کا ہلکا سمجھتا ہے وہ اس آدمی کی طرح ہے جو بتکلف ایسا کام کر رہا ہے جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا والسلام ۔
حضرت ابن عباس عنہما نے فرمایا اے گناہ کرنے والے ! گنا ہ کے برے انجام سے مطمئن نہ ہو جانا گنا ہ کرنے کے بعد بعض ایسی باتیں ہوتی ہیںجو گنا ہ سے بھی بڑی ہوتی ہیں گناہ کرتے ہوئے تمہیں اپنے دائیں بائیں کے فرشتو ں سے شرم نہ آئی تم نے جو گناہ کیا ہے یہ اس سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ کیا کریں گے اور پھر تم ہنستے ہو تمہار ایہ ہنسنا گناہ سے بھی بڑا ہے اور جب تمہیں گناہ کرنے میں کامیابی حاصل ہوجاتی ہے اور تم اس گناہ پر خوش ہوتے ہو تو تمہاری یہ خوشی اس گناہ سے بھی بڑی ہے اور جب تم گناہ نہ کر سکو اور اس پر تم غمگین ہو جائو تو تمہارا یہ غمگین ہونا اس گناہ کے کر لینے سے زیادہ بڑا ہے گناہ کرتے ہوئے ہوا کے چلنے سے تمہارے دروازہ کا پردہ ہل جائے اس سے تم ڈرتے ہو اور اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے اس سے تمہارا دل پریشان نہیں ہوتا تو یہ کیفیت اس گناہ کے کر لینے سے زیادہ بڑا گناہ ہے ۔
(حیاةا لصحابہ حصہ سوم)

صحابہ کرام کی یہ نصیحتیں زندگی اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہیں کیونکہ انہوںنے اپنی زندگی میں ان پر عمل کیا اور کامیاب زندگی گزاری ۔ 

اداریہ