انتخابی مہم

انتخابی مہم

مسلم لیگ ن نے بھی عام انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے ، اس سے پہلے تحریک انصاف بھی پارٹی ٹکٹوں کا اعلان کر چکی ہے اور دیگر جماعتوں نے بھی اپنی جماعتوں کے امیدواروں کے ناموں کے اعلان کر دیے ہیں۔ انتخابات کا میدان سج گیا ہے۔ اہم مقابلے کن امیدواروں کے درمیان ہوں گے یہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے۔پہلے تحریک انصاف میں امیدواروں کے ناموں پر اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے پارٹی کے فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے بھی دیے ہیں۔ تاہم یہ اختلافات پارٹی کے اندر ہی رہے اور لگتا ہے عمران خان نے صورت حال پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور خبر ہے کہ قطعی فیصلہ عمران خان پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہ دو ایک روز میں ان نشستوں کے امیدواروںکا اعلان کر دیں گے جن پر اختلافات سامنے آ رہے تھے۔ مسلم لیگ ن نے بھی امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے تاہم پارٹی کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جاری کردہ فہرست مکمل نہیں ہے باقی امیدواروں کا اعلان دو ایک روز میں کیا جائے گا۔ان کے اس بیان سے بھی ظاہر ہے کہ باقی نشستوں پر امیدواروں کے بارے میں اختلافِ رائے ہے۔ بڑی پارٹیوں میں انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافِ رائے اس بات کی دلیل کہ امیدوار ان پارٹیوں میں عوام کی دلچسپی کے قائل ہیں۔ لہٰذا پارٹیوں کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلاف رائے کو کسی پارٹی کی کمزوری کی بجائے اس پر اعتماد کی دلیل سمجھا جانا چاہیے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ اختلافِ رائے پارٹیوں پر عوام کے اعتماد کی دلیل ہے تو پارٹیوں نے یہ اعتماد کس طرح قائم کیا ہے۔ سیاسی پارٹیاں جس طرح اپنی سیاسی مہم چلاتی رہی ہیں کیا اس اندازکی انتخابی مہم جمہوریت کے لیے تقویت کا باعث ہو سکتی ہے۔ اب تک یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی جماعتوں خاص طور پر بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے بارے میں منفی تاثر قائم کرنے کی زیادہ کوشش کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا دوسرے کو برا کہنے سے کوئی اچھا ہو جاتا ہے۔ برائی ، خامی ، کمزوری یا نااہلی کے خلاف عوام کے غیظ و غضب کو آواز دینے سے کیا جمہوریت اور جمہوری رویہ مضبوط ہو سکتے ہیں۔ چند سال پہلے ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک‘ غدار اور وطن دشمن جیسے القابات سے نوازتی رہی ہیں۔ یہ منفی مہم اس قدر شدت سے چلائی گئی کہ کسی کا بھی محب وطن ہونے کا دعویٰ سچا نہ رہا۔ آج کی صورت حال میں سیاسی پارٹیاں ایک دوسری پر الزامات لگارہی ہیں ، یہ الزامات عدم صلاحیت یا عدم کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ بدنیتی پر بھی محمول نظر آتے ہیں۔ جو پاکستان کے استحکام اور وقار کو فروغ دینے کی بجائے ایک دوسری کو ملک کے لیے نقصان دہ ثابت کرنے کی طرف جاتے ہیں۔ اس سے قومی اتحاد کو فروغ حاصل نہیں ہوتا ۔ سیاسی لیڈر اپنی دانست میں ایک دوسرے کے بارے میں جوکچھ کہتے ہیں وہ صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی تاہم عوام کو یہی پیغام جاتا ہے کہ کوئی بھی ان الزامات کے ساتھ پذیرائی کے لائق نہیں۔اس سے جمہوری عمل پر عدم اعتماد کا تاثر قائم ہوتا ہے۔ انتخابی مہم کا مقصد عوام کو صحیح فیصلہ کرنے کے لیے مواد فراہم کرنا ہے ۔ اس کا ایک طریقہ کار ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنا اپنا منشور پیش کریں اور اگر چاہیں تو ایک دوسرے کی کارکردگی کے بارے میں وہائٹ پیپر جاری کریں تاکہ عوام اندازہ کر سکیں کہ الزامات کی بنیاد کیا ہے اور دعوے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ جہاں تک الزامات کی بات ہے تو گزشتہ کافی عرصہ سے عام جلسوں اور میڈیا سے گفتگوؤں میں سنائی دے رہے ہیں۔ اس میں کارکردگی کے دعوے بھی کسی قدر شامل ہوتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے سیاسی پارٹیاں اپنے پروگرام بھی پیش کریں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ملک کی موجودہ صورت حا ل کے بارے میں سیاسی پارٹیوں کا مشاہدہ کس قدر درست ہے اور اس صورت حال سے آگے لے جانے کے حوالے سے ان کے پاس پروگرام یا منشور کیا ہے اور کیا یہ پروگرام قابلِ عمل بھی ہے یا نہیں۔ 25جولائی کے عام انتخابات کے حوالے سے کسی سیاسی پارٹی کا منشور سامنے نہیں آیا۔ یہ منشور سامنے آئیں گے تو عوام یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ یہ کس قدر حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل ہیں اور ان کی بنیاد پر فیصلہ کر سکیں گے کہ وہ کس پارٹی کو ووٹ دیں۔ عام انتخابات میں گنے چنے دن باقی رہ گئے ہیں ، اب بھی وقت ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے منشور عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ ان پر عام بحث ہو سکے اور ووٹر اپنے انتخاب کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکیں۔ الزام تراشی کی سیاست معاشرے کو اس طرف لے جا رہی ہے جس میں کسی ٹھوس وجہ کے بغیر سنی سنائی کی بنیاد پر ناپسندیدگی کا رویہ اختیار کیاجائے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملک کی ترقی ‘ وقار اور خوشحالی کی بنیاد پر عوام کو ووٹ دینے کی طرف راغب کریں اور اس کے لیے اپنے پروگرام عوام کے سامنے پیش کریں۔

اداریہ