Daily Mashriq


اثاثوں کی پڑتال

اثاثوں کی پڑتال

مظفر گڑھ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر آزاد امیدوار محمد حسین شیخ نے پاکستان کے کروڑوں عوام کو حیران ششدر کر دیا جب انہوں نے انتخابی گوشوارے کے ساتھ بیان حلفی میں اپنے اثاثوں کی مالیت چار سو ارب روپے سے زیادہ ظاہر کر دی۔ لیکن یہ اراضی انہیں 88سال سے زیرِ سماعت مقدمے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے حاصل ہوئی ہے۔ ان کی کروڑوں روپے مالیت کی زمین اس کے علاوہ ہے۔ یقینا انہوںنے اثاثوں کی مالیت آج کے بھاؤ کے حساب سے ظاہر کی ہے ۔ وہ تو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی رُو سے یکایک اتنے تونگر ہوئے ہیں لیکن انتخابی گوشواروں کے ساتھ لف بیان ہائے حلفی میں بہت سے اہل سیاست نے اثاثوں کا اعلان کیا ہے۔ ان تفصیلات کو دیکھ کر پاکستان کے کروڑوں عوام کی قسمت کے بارے میں رشک آنا چاہیے یا قلق ہونا چاہیے یہ الگ موضوع ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا ان میں سے ہر ایک بلاول بھٹو کی طرح موروثی دولت کی بنا پر امیر ہے یا کوئی ایسے بھی جو کچھ عرصے میں ’’ترقی‘‘ کر کے اس مقام پر پہنچے ہیں۔ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ آیا جو اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں ان کی مالیت وہی ہے جو ظاہر کی گئی ہے۔ ان کی مالیت کا تعین کس معیار کے مطابق کیا گیا ہے اور دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ آیا ظاہر کیے گئے اثاثے ہی ہمارے اہلِ سیاست کے کل اثاثے ہیں یا کچھ ایسے اثاثے بھی ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یقینا ہمارے انتخابی امیدواروں نے اپنے کل اثاثے ہی ظاہر کیے ہوں گے۔ تاہم یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ان اثاثوں کی مالیت کا تعین کس معیار کے مطابق کیا گیا ہے۔ اثاثوں کی پرانی قیمت کے مطابق یا آج کی قیمت کے مطابق۔ کاغذات نامزدگی کی پڑتال مکمل ہو چکی ہے لیکن اثاثوں کی پڑتال ایک دیر طلب کام ہے۔ اس کے لیے بھی الیکشن کمیشن کو کوئی طریقہ کار اور ٹائم فریم طے کرنا ہوگا۔

بیگم کلثوم نواز کی صحت کے بارے میں آگاہی

اللہ کریم بیگم کلثوم نواز کو صحت کاملہ عطا فرمائے ۔ وہ صرف سابق وزیر اعظم کی اہلیہ ہی نہیں ملک میں جمہوریت کے لیے جدوجہد میں بھی ان کا ایک مقام ہے اور جس طرح وہ جمہوریت کے لیے کردار ادا کرنے کے بعد دوبارہ خانہ نشین ہو گئیں وہ بھی ایک مثال ہے۔ ان کی صحت کے بارے میں سبھی کو تشویش ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف جب کہتے ہیں کہ جب سے وہ ان کی عیادت کے لیے آئے ایک بار بھی ان سے بات نہیں ہو سکی تو ان کا دکھ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بیگم کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر ہیں، یعنی مسلسل بے ہوش ہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ بیگم صاحبہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ ان کی حالت بہتری کی طرف مائل ہو گی تبھی وہ ڈاکٹروں کے مشورے سے پاکستان جانے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ ان کے بیٹے حسین نواز نے کہا ہے کہ والدہ کی حالت قدرے بہتر ہے۔ ان کی بیٹی مریم نواز کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ انہوں نے بیگم صاحبہ کو امی کہہ کر پکارا تو انہوں نے آنکھ کھولی تھی۔ یہ سب اہل خانہ کے تاثرات ہیں ۔ میاں صاحب کی فکرمندی نظر آنے والی حقیقت پر مبنی ہو سکتی ہے تاہم وہ بھی کوئی معالج تو نہیں ہیں۔ پاکستان میں ان کی صحت کے بارے میں تشویش ہے اور ہر کوئی ان کے لیے دعاگو ہے۔ پاکستان کے متعدد اکابرین نے بھی ان کے لیے نیک خواہشات کے پیغامات ارسال کیے ہیں۔ اس تشویش کے باعث یہ ضروری ہونا چاہیے کہ جس ہسپتال میں بیگم صاحبہ زیرِ علاج ہیں وہاں کے معالجین کی رائے سے آگاہی حاصل ہو۔ وینٹی لیٹر پر بعض مریض ایک عرصے تک موت اور زندگی کی صورت حال میں رہتے ہیں اور صحتیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کی رائے سے آگاہی کا بندوبست کیا جانا چاہیے ، اگر ڈاکٹروں کے نزدیک مریض کی صحت کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ان کے پیشہ ورانہ اخلاق کے مطابق ہو تو ان کی صحت کے بارے میں عام لوگوں کی آگاہی کے لیے معلومات ضرور جاری کی جانی چاہئیں۔ ان کے اہل خانہ کی رائے پیشہ ور معالجوں کی رائے نہیں ہے۔ اس میں امید اور ناامیدی دونوں اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہسپتال کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وقفے وقفے سے بیگم صاحبہ کی صحت کے بارے میں اطلاع فراہم کی جائے۔

متعلقہ خبریں