نگران حکومت۔۔۔ بیلنس شیٹ

نگران حکومت۔۔۔ بیلنس شیٹ

آئین میں لکھا ہے کہ منتخب حکومت زیادہ سے زیادہ پانچ سال حکمرانی کے بعد ختم ہو جائے گی اور اس کی جگہ مختصر عرصہ کی نگران حکومت لے گی جو عام انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کو ملک کا انتظام سپرد کرکے چلی جائے گی۔ توقع یہ ہونی چاہئے کہ جانے والی حکومت جو کچھ چھوڑ کر جائے اس کی تحریری بیلنس شیٹ چھوڑ کر جائے۔ نگران حکومت اس کا جائزہ لیکر عوام کے سامنے پیش کرے اور جانے سے پہلے نئی بننے والی حکومت کیلئے اپنے مختصر عرصے کی بیلنس شیٹ چھوڑ کر جائے تاکہ نئی حکومت اس سے آگے کام کرے لیکن ایسا نظر نہیں آتا۔ جانے والی حکومت کے سابق وزراء دعوے باندھ رہے ہیں کہ ہم نے ملک کو ترقی دی ہے۔ یہ ترقی کہاں کہاں ہوئی اس کا جائزہ غیر جانبدار نگران حکومت کی طرف سے نہیں آرہا۔ البتہ مختلف سیاسی جماعتیں جانے والی حکومت کے دعوؤں کو چیلنج کر رہی ہیں حالانکہ یہ کام انہیں اس وقت ہی کرنا چاہئے تھا جب وہ اپوزیشن میں ایوان کے اندر یا باہر تھیں۔ تاہم ایسی کوئی بیلنس شیٹ ہونی چاہئے۔ 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات کے وقت بھی یہ کہا جا رہا تھا کہ ملک کی معیشت ڈانواں ڈول ہے لیکن 2013ء میںآنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ملکی اور غیر ملکی قرضوںکا سہارا لیا۔ قرضوں کا سود بھی ادا کیا۔ انتظامی اقدامات کے ذریعے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نہیں آنے دی۔ سٹاک ایکسچینج میںبہتری کی خبریں آتی رہیں لیکن عوام کی معاشی حالت بہتر نہ ہوئی۔ اب حکومت کے جاتے ہی ڈالر 124روپے تک پہنچ گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر دو ماہ کی درآمدات جتنے رہ گئے ہیں جو کم ازکم تین ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہونے چاہئیں۔ اس کیلئے اندرون ملک اور بیرون ملک اپنے اثاثے چھپانے والوں کیلئے ٹیکس کی عام چھوٹ (ایمنسٹی) کا اعلان کر دیا گیا، اب وہ چاہیں تو اس ماہ کے آخر تک اپنے اثاثے ظاہر کر کے دو سے پانچ فیصد ٹیکس کی ادائیگی کے عوض اپنے اثاثوں کو سفید کر سکتے ہیں۔ (جبکہ سرکاری افسر سے حکومت دس فیصد ٹیکس وصول کرتی ہے) کہا جا رہا ہے کہ عام چھوٹ (ایمنسٹی) کی سکیم بہت کامیاب جا رہی ہے، ابھی آخری تاریخ میں چھ دن باقی ہیں کہ اس سکیم کے تحت چار بلین ٹیکس وصول ہو چکا ہے۔ اس میں اضافے کی توقع ہے۔ جس رقم کا زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد ٹیکس چار ملین ڈالر وصول ہو چکا ہے، اندرون ملک یا بیرون ملک رکھی ہوئی وہ رقم کتنی ہوگی جو جانے والی حکومت کی نظروں سے اوجھل رہی؟ کیا اسی کارکردگی کو ترقی کہا جا رہا ہے؟ ایک خبر یہ بھی ہے کہ 2016-17ء کے دوران پاکستانیوں نے قانونی ذرائع سے یا حوالہ ہنڈی کے ذریعے سے پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقوم بیرون ملک منتقل کیں۔ پاکستان میں کاروبار میں نہیں لگائیں حالانکہ حکومت کی معاشی پالیسی ایسی ہونی چاہئے تھی کہ یہ سرمایہ پاکستان ہی میں کاروبار میں لگتا۔ سابقہ حکومت کے وزیر خزانہ کو مالیاتی امور کا جادوگر کہا جاتا رہا ہے۔ اب بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جب سے وہ لندن جا کر بیمار ہوئے ہیں معیشت کا برا حال ہو گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تب سے معیشت کا برا حال سامنے آنے لگا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ٹی وی مذاکروں‘ اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں اور بعض حکومتی اقدامات کے حوالے سے منظرعام پر آئی ہیں لیکن انصاف کا تقاضا تھا کہ جانے والی حکومت اپنی کارکردگی کا تحریری جائزہ چھوڑ کر جاتی اور نگران حکومت اس جائزہ کے متعلق اپنی رپورٹ شائع کرتی۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا تھا جب اللہ کے بعد اس ملک کے مالک ملک کے عوام کو سمجھا جاتا اور عوام کے سامنے جوابدہی کو لازمی اور ضروری سمجھا جاتا لیکن کہا جاتا ہے کہ عوام کو پانچ سال کے بعد ایک دن ووٹ کا حق دیدیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے حکمران منتخب کر لیں جو پانچ سال تک ان کی قسمت سے کھیلتے رہیں۔ عوام کے خادمین اعلیٰ اور خادمین اعلیٰ تر عوام سے وعدے کرتے رہیں‘ ان وعدوں کے جھوٹے ثابت ہونے پر شرمندگی کا اظہار بھی نہ کریں اور نئے وعدے کرتے رہیں۔ چھ ماہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ‘ ڈیڑھ سال بعد‘ دو سال بعد‘ اڑھائی سال بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے وعدے کس نے نہیں سنے اور پھر یہ اعلان کس نے نہیں سنا کہ ہم نے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی ہے۔
اب کہا جارہا ہے کہ ہم نے دس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی، یہ ایک عجیب کہانی ہے۔ یہ بجلی فرنس آئل سے‘ گیس سے اور کوئلہ جلا کر پیدا کی جاتی ہے۔ فرنس آئل اور فی الحال کوئلہ کی ایک بڑی مقدار درآمد کی جاتی ہے یعنی اس پر ہم منافع اور دوسرے اخراجات ادا کرتے ہیں۔ گیس کے بارے میں پچاس سال پہلے گیس سے کھاد بنانے والے کارخانے میں ایک فرانسیسی انجینئر نے آپ کے اس قلم کیش کو کہا تھا: ’’آپ کو خبر ہے کہ آپ اپنے چولہوں میں مہاگنی کی لکڑی جلا رہے ہیں؟‘‘ ہم جلاتے رہے اور اب اسے بجلی بنانے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ بجلی ہمیں سولہ روپے فی یونٹ دی جاتی ہے جبکہ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی دو روپے فی یونٹ پڑتی ہے۔ خارجہ امور کی طرف بے توجہی خاص طور پر بھارت کے رویہ سے اغماض کے باعث تربیلا اور منگلا ڈیموں کی طرف نہ دیکھنے اور کالا باغ ڈیم منصوبے کو سیاست کی نذر کرنے کے باعث ہمارے ہاں ہائیڈل بجلی بہت کم پیدا ہوتی ہے (جو دو روپے یونٹ پڑتی ہے) خیبر پختونخوا میں تیز رفتار پانیوں سے بجلی پیدا کرنے کے بارے میں فزیبلٹی رپورٹ صدر مشرف کے زمانے میں آچکی تھی۔ اس پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔ اب ایک سیاسی جماعت کو تو طعنہ دیا جا رہا ہے کہ اس کی صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا میں پن بجلی کیوں پیدا نہ کی۔ پانچ سال جس پارٹی کی وفاق میں حکومت تھی اس کیلئے بھی اور صوبائی حکومت کیلئے بھی گھوڑا بھی حاضر تھا اور میدان بھی۔ (باقی صفحہ7)

اداریہ