بھارت واسرائیل خطرناک راہوں پر

بھارت واسرائیل خطرناک راہوں پر

میرے بس میں ہوتا تو میں عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کے نوجوانوں کو دو قوموں اور ملکوں کے بارے میں ماہرین مضمون سے تفصیلی لیکچرز دلواتا تاکہ وہ ان دو قوموں کی تاریخ‘ سائیکی اور خطرناک عزائم کے بارے میں باخبر ہو کر قرآن کریم کے حکم ’’اے ایمان والو! تم اپنے بچاؤ ( حفاظت وسلامتی) کا سامان ( ہتھیار) رکھو‘‘۔ پر عمل کرتے ہوئے تیاری کی حالت میں رہتے۔
ان دو قوموں سے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمؐ‘ صحابہ کرام اور مسلمانان عالم کو قیامت تک کیلئے خبردار کر رکھا ہے تاکہ کل یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوسکا۔ قرآن کریم نے بہت واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ ’’تم (مسلمان) اپنی دشمنی میں یہودیوں اور مشرکوں کو سب سے سخت پاؤگے۔ البتہ نصاریٰ کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہودیوں اور مشرکوں کے مقابلے میں تم ان کو اپنے قریب پاؤگے‘‘ اگرچہ اس وقت امریکہ کے حکمران نصاریٰ اور یورپ کے بعض حکمران اور عوام نصاریٰ یہودیوں اور مشرکوں (ہندوؤں) کی پشت پر ہیں لیکن آہستہ آہستہ حقائق سامنے آرہے ہیں اور حالات بدل رہے ہیں۔ اس وقت یورپ اور امریکہ کے یہودیوں نے اپنی دولت‘ ٹیکنالوجی‘ صنعت وحرفت اور میڈیا کے ذریعے دنیا کو قابو کیا ہوا ہے لیکن فلسطینیوں‘ کشمیریوں‘ افغانوں اور دنیا کے دیگر کمزوروں اور مجبوروں کی آہ وفریاد ایک دن ضرور رنگ لائے گی اور ان ظالم حکمرانوں کو مکافات عمل سے گزرنا ہوگا۔پچھلے دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ اور مغربی کنارے میں آباد فلسطینیوں کی سلامتی وحفاظت کیلئے کویت کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو بھاری اکثریت سے اسرائیل کی مخالفت کے باوجود منظور کیا۔ اس میں یورپ سمیت دنیا بھر کے ملکوں نے غزہ کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔ یو این میں امریکی مندوب بھارتی نژاد نیکی ہیلی نے اس قرارداد کو غزہ کی موجودہ صورتحال کے پس منظر میں غیر صحیح قرار دیا اور متبادل ڈرافٹ پیش کیا جس میں حماس کو دہشتگرد قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس قرارداد کو پیش کرنے والا امریکہ تھا اور اس کے حق میں واحد ووٹ بھی امریکہ ہی کا تھا لیکن امریکہ نے کویت کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کو روس، چین اور فرانس کی حمایت کے باوجود ویٹو کرکے بے اثر بنا دیا لیکن دنیا کے باضمیر لوگوں اور حکمرانوں کو امریکہ اور اسرائیل کیخلاف غزہ میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کے بارے میں بھرپور شناسائی ہوگئی۔
کسی زمانے میں امریکہ اقوام متحدہ کو گھر کی باندی سمجھتا تھا کیونکہ اس عالمی ادارے کو سب سے زیادہ فنڈنگ امریکہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کا اپنی قراردادوں پر عمل نہ کروا سکنا اگرچہ بہت بڑی ناکامی ہے جس میں ہماری اور امت مسلمہ کی نا لائقیاں بھی شامل ہیں لیکن برہان وانی کے پاک اور جوان خون نے تحریک آزادی کشمیر کو جو نیا ولولہ بخشا ہے اور اس کے نتیجے میں سفاک بھارتی افواج اور حکومت نے کشمیریوں کو جس سفاکانہ اور بے دردانہ انداز میں شہید اور معذور کر دیا ہے اور سربیائی افواج کی طرح کے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اس پر اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن خاموش نہ رہ سکا اور اس نے جو رپورٹ مرتب کی وہ بھارت کے منہ پر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس رپورٹ کو ٹویٹ کرنے والے کشمیری روزنامے ’’رائزنگ کشمیر‘‘ کے بہادر صحافی شجاعت بخاری کو جس بیدردی کیساتھ شہید کیا دنیا کی غیرجانبدار صحافی برادری اس کے قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے شہداء کے پاک خون کا اثر ہے کہ وہاں کی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بھی اپنے ضمیر کی خلش سے شاید مجبور ہو کر مستعفی ہونے پر آخرکار مجبور ہوگئی۔
اب سنا ہے کہ بھارتی حکومت گورنر راج نافذ کرکے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند کشمیریوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا ایسا منصوبہ بنائے ہوئے ہے جس میں اسرائیل سے سیکھا ہوا سبق، مدد اور اسلحہ بھی شامل ہے۔ جس طرح اسرائیلی انسانیت سوز انداز میں فلسطینیوں کو اپنے گھروں میں محصور کرکے ظلم وستم کرتے ہیں اور گھروں کو مسمار کرکے بے گھر کر دیتے ہیں‘ بھارتی افواج کے افراد نے اسرائیل افواج سے باقاعدہ تربیت لی ہے کہ کس طرح مظاہرین‘ حریت پسندوں اور احتجاج کرنے والوں کو قابو کیا جاتا ہے۔ پیلٹ گنوں کا استعمال بھی بھارتیوں نے اسرائیل کی افواج سے سیکھا ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی فوجی نے جس سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معصوم ٹین ایجر لڑکی کا گلہ گھونٹ کر شہید کیا اور سوشل میڈیا پر کئی بار اپ لوڈ ہونے کے بعد وہاں سے ہٹایا گیا وہ بہرحال وائرل ہو ہی گیا۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ دنیا میں اپنے سفراء کو بیدار کرکے مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت کے نئے سفاکانہ منصوبوں‘ کریک ڈاؤن اور گورنر راج کے حوالے سے دنیا کے منصف مزاج اور معتدل سوچ رکھنے والے ممالک کے حکمرانوں‘ صحافیوں اور اقوام متحدہ میں مختلف ملکوں کے مندوبوں اور سفیروں کو آگاہ کرنے کی مہم چلائے تاکہ یہ دو ظالم متعصب اور تنگ نظر ملکوں کے حکمران اور پالیسی ساز برہنہ ہوکر دنیا کے سامنے آسکیں اور ان کی نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی وارداتوں سے دنیا آگاہ ہوسکے۔ امریکہ کی یہ ہٹ دھرمی کہ انسانی حقوق کی کمیشن سے نکل گیا ہے یقیناً باضمیر اقوام وممالک کی کامیابی ہے۔

اداریہ