کیا ہونے والا ہے؟

کیا ہونے والا ہے؟

یہ ہر کسی کو دکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے انتخابات کے نتیجے میں ایک مخلوط حکومت سامنے آئے گی جس میں تمام رنگ آپس میں گڈمڈ دکھائی دیں گے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فوج اتنے عرصے کی جمہوریت اور جمہوری طاقتوں سے بے زار ہو چکی ہے اور اب چاہتی ہے کہ ملک کی بہتری کیلئے ایک ایسی مخلوط حکومت سامنے آئے جو ملک کی ترقی کیلئے کام کرے۔ وہ منصوبے لے کر سامنے آئے جن کا واقعی مقصد اس ملک کے معاملات کی درستگی ہو۔ ایک سوچ ایسی بھی ہے جو اس ساری بات سے تو متفق ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ فوج اور انتظامیہ ملکی معاملات پر اپنی گرفت چاہتی ہے۔ یہ گرفت اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب جمہوریت کمزور ہو اور مختلف معاملات کے حل اور اپنی عمومی طاقت کیلئے فوج کی جانب مستقل ٹکٹی باندھ کر دیکھتی ہو۔ ان کی رائے میں کیا صداقت ہے یا ملک میں حالات اس وقت کس نہج پر چل رہے ہیں‘ کونسے امکانات کی نشاندہی کر رہے ہیں‘ میں اس وقت اس حوالے سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ کبھی کبھار تو یہ خیال خود میرے ذہن کے دریچوں پر دستک دیتا ہے کہ پاکستان میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی موجودگی کے کئی رخ تھے۔ وہ سعودی عرب اور امریکہ کی طرف واضح جھکاؤ رکھتے تھے اور اس کے باوجود احسن اقبال سی پیک منصوبہ سامنے لے کر آئے۔ اس سارے منظر میں یہ بات قطعی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ بنیادی طور پر مسلم لیگ(ن) کاروباری لوگوں کی جماعت بن چکی ہے۔ یہ سارے لوگ بھی کاروباری ہیں اور اپنے کاروبار کو ایک نئی سمت دینے میں حکومتی وسائل کو استعمال کرنے میں کوئی قباحت بھی محسوس نہیں کرتے۔
چین اس علاقے کو مختلف گزرگاہوں کے ذریعے یورپ اور بقیہ دنیا سے منسلک کرنا چاہتا ہے۔ اسلئے تو وسط ایشیائی ریاستوں سے گزرتی ایک نئی ریلوے لائن بچھائی گئی جو نئی شاہراہ ریشم کہلاتی ہے۔ یہ چین کے بارہ بڑے شہروں کو یورپ کے نو بڑے تجارتی مراکز سے منسلک کرتی ہے۔ چین گوادر کی بندرگاہ کو بھی اپنے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا تاکہ سمندری راستے میں امریکی بحری بیڑے کے ممکنہ خطرے سے خود کو محفوظ کرے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی درآمد کی قیمت بھی اس کیلئے کم ہوسکے۔ افریقہ تک رسائی بھی آسان ہو جائے۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو یہ ساری باتیں سمجھ بھی آتی تھیں اور اپنے مفادات بھی صاف صاف دکھائی دیتے تھے۔ اسی لئے امریکہ سے وفاداری کو ایک جانب کرکے چین کے منصوبے کا بوجھ فوراً اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا۔ بجلی بنانے کی صنعت میں بہت منافع ہے اور وہ انہیں اپنی جانب بلا رہا تھا چنانچہ سی پیک پاکستان میں داخل ہوگیا۔ پاکستان اور پاکستانیوں کو مسلسل یہ یقین دلایا جا رہا تھا کہ سی پیک کے نتیجے میں ایسی ترقی پاکستان میں پھیل جائے گی جو پاکستانیوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچی۔
خواب تو بہت دکھائے گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ باتیں بنا کسی تحقیق کے کی جا رہی تھیں۔ اگر تحقیق کی گئی ہوتی تو شاید مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو اندازہ ہوتا کہ اس ربط سازی کا فائدہ چین کو اس قدر تھا کہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے اگر درست طور سے بات چیت کی جاتی تو یقیناً ہم یہ کام چین سے تقریباً مفت کروا سکتے تھے۔ علم نہ ہونے یا اس علم کے حصول میں دلچسپی نہ ہونے کے باعث پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا اور ایک ایسا کام جسے مسلم لیگ(ن) اپنے سر کے تاج میں سنہرے پر کی طرح سجا سکتی تھی وہی کام آنے والے دنوں میں اس کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ مفادات کی گرفت کی اسی عجلت میں اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ چین اور امریکہ کے مفادات آپس میں مسلسل دست وگریبان رہتے ہیں۔ سو عین ممکن ہے کہ احتساب کیساتھ ساتھ امریکہ کی ناراضگی نے بھی مسلم لیگی حکومت کو اس تباہی میں اپنا کردار ادا کیا ہو۔ اب چونکہ عمران خان کا ایجنڈا بالکل واضح ہے۔ ان کی وطن پرستی میں کوئی ایسی لچک بھی نہیں جو مفادات کی جگہ بنا سکتی ہو اسی لئے ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں معاملات کی طنابیں ایسے ہلائی جا رہی ہوں کہ ایک مخلوط حکومت آجائے تاکہ ناپسندیدہ منصوبوں کی رفتار میں خاطرخواہ کمی کی جاسکے لیکن اسی منظر کو اس رخ سے بھی دیکھا جاسکتا ہے مسلم لیگ(ن) کے اپنے تجارتی مفادات ایسے منہ زور تھے کہ خود چین کے پیروں میں حائل ہونے لگے تھے۔ ایک مخلوط حکومت نہایت آسانی سے چینی شرائط سے متفق ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر معاہدوں Turn key projects کے طور پر کرنے سے چینی کمپنیاں آسانی سے کام کرسکیں گی۔ ایک تو تمام تر پراجیکٹ ان کے کنٹرول میں رہے گا۔ وہ اپنی مرضی سے‘ اپنے ہی لوگوں کیساتھ اپنی رفتار پر کام کریں گے اور پاکستانی حکومت بیچ میں اپنی ٹانگ نہ اڑائے گی۔ دوسرے پاکستانیوں کے مطالبات سے بھی جان چھوٹی رہے گی۔ دوسری جانب عمران خان کو دیکھیں تو وہ اپنی فتح کے بارے میں اب کی بار اتنے ہی پراُمید اور عزم صمیم کے مالک لگتے ہیں جس قدر وہ 1992ء کے ورلڈ کپ کے حوالے سے تھے لیکن اگر ان کی جماعت میں وہی لوگ شامل ہوں جنہیں وہ منتخبین سمجھتے ہیں اور عام آدمی مجرمین گردانتا ہے تو پاکستان کیلئے کیا اُمید باقی ہے۔ سوالات کئی ہیں اور اب منظرنامے تخلیق ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ انتخابی مہم کا آغاز بھی ہو چکا‘ دیکھئے کیا ہوتا ہے اور معاملات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

اداریہ