الیکٹ ایبل اور الیکشن سائنس

الیکٹ ایبل اور الیکشن سائنس

چند برس ادھر تحریک انصاف اور خود اس کے چیئرمین عمران خان کا ہمارے سیاسی سسٹم میں کوئی خاص نام نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ہی قومی سطح کی سیاست پر چھائی رہتیں جبکہ صوبوں میں صوبائی سطح کی پارٹیاں منظر نامے پر دکھائی دیتیں۔ سیاسی منظرنامہ اتنا تبدیل ہو چکا ہے کہ تحریک انصاف میں ہزاروں کی تعداد میں ورکرز ٹکٹ کے حصول کیلئے درخواست گزار ہوئے، جن کو ٹکٹ ملے وہ شاداں اور جن کو نہ ملے وہ سراپا احتجاج دکھائی دئیے۔ اس سے کم ازکم یہ بات تو سامنے آگئی کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف اوپر کی طرف اٹھا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی سیاسی سسٹم کو کچھ نہ کچھ دے جاتی ہے جیسے پیپلز پارٹی نے سیاست کو جیالادیا، یا لانگ مارچ کی اصطلاح عطا کی۔ پی ٹی آئی کے نام کیساتھ دھرنا لازم وملزوم سمجھا جاتا ہے۔ آج کل خود پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو اپنے ہی ورکروں کی جانب سے یہی دھرنا درپیش ہے۔ ورکر بھی پارٹی رہنماؤں کی طرح خواب دیکھتا ہے۔ جیسے عمران خان وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھ رہے ہیں تو انہی کا ورکر ایم این اے اور ایم پی اے اور وزارت کا خواب کیوں نہ دیکھے اور اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پارٹی کا ٹکٹ ملنا ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ دوسری پارٹیوں میں ٹکٹ کے حصول کیلئے پی ٹی آئی جیسا طوفان بدتمیزی کیوں نہیں ہے۔ تو صاف ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی عام ورکر کے نزدیک اب تک سونامی پارٹی ہی ہے جبکہ درون خانہ یہی پارٹی عام سیاسی پارٹیوں کے جیسی ایک پارٹی بن چکی ہے اور سونامی کا ایک جھکڑ جو کبھی چل رہا تھا وہ اب رک چکا ہے اور اب اس سونامی کے ملبے تلے کام کی چیزیں تلاش کی جارہی ہیں۔ عمران خان بھی ایک بات خوب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ان کے خواب کی تکمیل کیلئے نئے چہرے ایک رسک ہوسکتے ہیں اسلئے وہ اپنے دلبرداشتہ ورکرز کو مطمئن کرنے کیلئے دو نئی اصطلاحات لے کر سامنے آئے ہیں۔ وہ یہ کہ ان کا ٹکٹ ہولڈر ’’الیکٹ ایبل‘‘ ہو اور اسے ’’الیکشن سائنس‘‘ آتی ہو۔ اس بات کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ انہیں ریس کے گھوڑے چاہئیں نہ کہ ٹانگے کے۔ تقریباً پچھلے ایک برس سے پی ٹی آئی کو جس بھی پارٹی سے ریس کا گھوڑا میسر آیا اسے پارٹی میں لے آیا گیا۔ الیکشن میں چند ہفتے باقی ہیں اور ساری سیاسی پارٹیاں میدان میں کود چکی ہیں۔ الیکٹ ایبل کے اس چکر میں بہت سے پی ٹی آئی کے کارکن دوسری پارٹیوں کے ٹکٹ ملنے پر اپنے ہی امیدواروں کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گے۔ ادھر یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ کپتان کے دو معتمد جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی ٹکٹوں کے معاملے میںآپس میں گتھم گتھا ہیں۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب میں وہ دونوں اپنے اپنے الیکٹ ایبل امیدواروں کو ٹکٹ دلوانے میں مگن ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ کنفیوز اور ان ڈسپلن جماعت پی ٹی آئی ہی دکھائی دے رہی ہے۔ میرے نزدیک اس ساری صورتحال کی ذمہ داری خود عمران خان پر عائد ہوتی ہے کہ جب دوسری پارٹیوں سے الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی میں شامل کیا جا رہا تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ خود اس بات کو دیکھتے کہ ایک ہی حلقے سے دو دو یا تین تین الیکٹ ایبل لانے سے ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران مسئلہ ہوگا تو اسی وقت اپنا پروگرام انہیں دیکھنا چاہئے تھا۔ ٹکٹس اور حلقوں کی مناسبت سے لوگوں کو لیا جاتا۔ سوال یہ بھی ہے کہ پانچ سال خیبر پختونخوا میں حکومت کرنے اور مرکز میں اپوزیشن میں بیٹھنے کے بعد بھی یہ پارٹی آئندہ الیکشن کے بارے میں فیصلے نہ کرپائی اور الیکشن تک ٹکٹوں کی تقسیم ایک مسئلہ ہی رہے گی جو اس پارٹی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ خود یہ پارٹی اپنے دیرینہ کارکنوں میں سے الیکٹ ایبل امیدوار کیوں نہ پیدا کر سکی۔ عمران خان کا ویژن یہ ہے کہ انہیں عددی برتری حاصل ہو جائے اور وہ مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو باقی سب ٹھیک ہو جائے گا جبکہ میرا خیال ہے یہ سوچ سرے سے ہی غلط ہے کیونکہ کسی امیدوار کا الیکٹ ایبل ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اس کیلئے ایماندار اور محنتی ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ کوئی بھی اپنے حلقے سے عمران خان کے سلیکٹ کردہ الیکٹ ایبل کو کیوں ووٹ دے جبکہ دوسری پارٹی پی ٹی آئی سے زیادہ مناسب امیدوار کو میدان میں اُتارتی ہے جو اس امیدوار سے زیادہ الیکٹ ایبل ہو۔ جو لوگ پی ٹی آئی پر دیگر پارٹیوں کے نمائندوں کو اکٹھا کرنے کا الزام لگا رہے ہیں ان کی بات بھی بڑی حد تک درست ہے کہ عمران خان کیوں اپنے ورکر پر عدم اعتماد کر رہے ہیں۔ اگر ان کی پارٹی کو جنون کا ایک صیغہ مل چکا ہے تو پی ٹی آئی کی قیادت اسی جنون پر اعتماد کرتی اور اسی جنون کو اس الیکشن میں ایک قوت کے طور پر استعمال کرتی تو نتائج بہتر آجاتے۔ پی ٹی آئی کا الیکشن کیلئے الیکٹ ایبلز کو اکٹھا کرنے کو دراصل پی ٹی آئی کی نئی لیڈرشپ پر ایک عدم اعتماد ہی کہا جاسکتا ہے۔ الیکشن سائنس کی جہاں تک بات ہے تو یہ سائنس بھی کوئی راکٹ سائنس جیسی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اب بھی اس سائنس پر عبور حاصل نہیں کر سکی تو کب وہ یہ سائنس سیکھے گی۔ اس سے تو خود اس پارٹی کا امیج خراب ہو رہا ہے کہ انہیں الیکشن جیتنے کیلئے باہر سے بندے منگوانے پڑے ہیں اور ان کے اپنے بندے اس قابل نہیں کہ وہ الیکشن سائنس کے بغیر الیکشن جیت سکیں۔ پھر تبدیلی کا نعرہ کہاں گیا۔

اداریہ