ووٹ کو عزت دو

ووٹ کو عزت دو

’’ہم بیس کروڑ عوام کے نمائندے ہیں‘‘ یہ جملہ ہمارے سیاستدانوں کا پسندیدہ جملہ ہے اور حکومت کا پسندیدہ ترین، جبکہ ان کو ملنے والے ووٹ تو ایک طرف پورے الیکشن میں پڑنے والے ووٹ بھی بیس کروڑ کا بمشکل نصف ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ ہے جبکہ013 2کے الیکشن میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد آٹھ کروڑ باسٹھ لاکھ تھی جو کل آبادی کا تقریباً پچاس فیصد تھا اور الیکشن میں ووٹرزکا ٹرن آؤٹ 55 فیصد رہا یوں سمجھئے تقریباً چار کروڑ سے کچھ اوپر لوگوں نے ووٹ ڈالے، اب اس کل تعداد میں ہر جماعت کا تناسب کتنا ہے اس کا اندازہ آپ لگائیے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ پورے بیس کروڑ ووٹ پڑیں تو تب ہی ہم انہیں حکمران مانیں گے لیکن وہ سب کو تو قصوروار نہ بنائیں کہ انہوں نے’’ ان قابل لوگوں‘‘ کو منتخب کیا ہے۔ جمہوریت میں ویسے بھی قابلیت سے زیادہ گنتی کی اہمیت ہے۔ چلئے یہ بھی منظور ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہمارے آقا تو نہ بنیں اور عوام کو غلام نہ سمجھیں۔ پچھلے دنوں واٹس ایپ پر چلنے والے ایک پیغام نے جس طرح عوام کو ان کی حیثیت یاد دلائی وہ خاصی چشم کشا تھی اور وہ تھی ان آقاؤں کے ناموں پر بننے والے سرکاری اداروں کی لمبی فہرست۔ کل کے یہ بچے ہمارے رہنما بنے ہوئے ہیں، مانا اس میں بھی کوئی حرج نہیں اگر یہ پختگی کی اس عمر کو پہنچے ہوتے جہاں ان سے بہتر اور پختہ سوچ اور فیصلوں کی توقع ہوتی، ظاہر ہے ایسا نہیں ہے کہ نہ تو سوچ پختہ ہے نہ عمل، مگر پھر بھی چوبیس پچیس سال کے یہ بچے بھی قوم کے ناخدا بنے ہوئے ہیں اور یہ ناخدائی نسل درنسل منتقل ہو رہی ہے اور حق سمجھ کر ہو رہی ہے۔ قوم چاہے بھی تو اسے تبدیل نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ عوام کو چاہتے نہ چاہتے ان ہی میں سے کسی کو منتخب کرنا پڑتا ہے ظاہر ہے ووٹ کی پرچی پر نام ہی ان کے ہوتے ہیں کوئی نیا نام ہو، کوئی مخلص اضافہ ہو تو بھی شاید کوئی بہتری پیدا ہو۔ ایک خبر 2013 کے انتخابات کے وقت اُڑی تھی کہ ووٹ کی پرچی کے اوپر ایک خانہ NOTA کا بنایا جائے یعنی None Of The Above جس میں ووٹر کو یہ حق دیا جائے کہ وہ پولنگ سٹیشن جائے ضرور اور کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دے اور NOTA کے خانے میں مہر لگا کرانہیں احساس دلائے کہ وہ اس قابل ہی نہیں اور یا یہ کہ وہ کم ازکم اس کے معیار کے مطابق نہیں اور یا اس نے ابھی تک وہ کارکردگی نہیں دکھائی جو ووٹ حاصل کرنے یا ووٹر کی سپورٹ حاصل کرنے کیلئے اسے دکھانی چاہئے۔ یوں یہ ثابت ہو کہ یہ ووٹ مال مفت نہیں کہ ہر ایرا غیرا دولت کے بل پر اسے حاصل کر لے بلکہ اس کی ایک عزت ہے ایک حرمت ہے۔ ہمارے سیاستدان جلسوں میں آپ کو ووٹ کی حرمت اور عزت کے حوالے دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ہر ایک اس کی توقیر پر مر مٹنے کے دعوے کرتا ہے اور آپ کو اکساتا ہے کہ آپ بھی عملاً ایسا کریں لیکن خود وہ اس کی دھجیاں بکھیرتا ہے۔
ہمارے لیڈر ایک نہیں کئی ایک حلقوں سے انتخابات لڑتے ہیں اور منتخب ہوکر ایک سیٹ رکھ کر باقی چھوڑ دیتے ہیں۔ ان حلقوں میں دوبارہ انتخاب ہوتا ہے پہلے وسائل ضائع ہوجاتے ہیں اور دوبارہ ان کا بے تحاشا استعمال ہوتا ہے۔ ووٹ چھپتے ہیں، ڈیوٹیاں لگتی ہیں، معاوضے دیئے جاتے ہیں، فوج پہنچتی ہے، پولیس حاضر ہوتی ہے، ایف سی یا رینجرز کی خدمات لی جاتی ہیں اور یوں غریب قوم ان رہنماؤں کی سیٹیں محفوظ بنانے میں اپنے خون پسینے کی کمائی نہ چاہتے ہوئے بھی جھونک دیتی ہے بلکہ ان سے چھین کر ان امیدواروں کے سر سے واردی جاتی ہے۔
ایک بار پھر الیکشن سر پر ہیں کیا بہتر نہ ہو کہ الیکشن کمیشن اس بار یہ ہمت کر ہی لے اور حکمرانوں کے آگے ڈٹ کر یہ اقدام اٹھا ہی لے اور ووٹ کی عزت قائم کرنے کیلئے NOTA کی قسم کاکوئی خانہ متعارف کرائے جیسا کہ دنیا کے کئی ملکوں میں مختلف ناموں سے ووٹ پر یہ آپشن موجود ہے اور اس پر باقاعدہ طور پر مہر لگائی جا رہی ہے۔ اس اقدام کیساتھ ہی اگر وہ چند دوسرے اقدامات اٹھائے تو شاید کچھ کچھ بہتری کے آثار نظر آہی جائیں مثلاً ایک یا زیادہ سے زیادہ دو سے زائد حلقوں سے الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ہو اور اگر کوئی نشست خالی کی جائے تو ضمنی انتخابات کے اخراجات ہمارے یہ رہنما ہی برداشت کریں جن کے خزانے اس لئے بھرے ہیں کہ قوم کے خزانے خالی ہیں ۔اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ کسی حلقے میں اگر کسی خاص تناسب سے کم ووٹ پڑیں یا لئے جائیں تو وہاں کے الیکشن کو منسوخ قرار دیکر دوبارہ انتخاب کروایا جائے تاکہ رکن اسمبلی کو خود کو بیس کروڑ کا نمائندہ کہنے پر شرمندگی نہ ہو، الیکشن کمیشن اس طرح سے اپنے عظیم رہنماؤں کی مدد کر سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن سے دست بستہ التماس ہے کہ آپ کے اوپر قوم کے ایک عام آدمی کا بھی حق ہے صرف سیاستدانوں کا ہی نہیں، کچھ فیصلے قوم کیلئے بھی کیجئے۔ ووٹ کو عزت دیں اور دینے کی بات کریں لیکن ملک اور اس کے عوام کی حرمت بھی مدنظر رہے۔ مشکل اور سخت فیصلوں پر مخالفت کا آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں لہٰذا آپ کیساتھ بھی ایسا ہوگا لیکن ووٹ کو عزت دینی ہے تو بڑے بڑوں کی مخالفت لینا ہوگی پھر قوم ووٹ کیساتھ ساتھ آپ کو بھی عزت دے گی وہ عزت جو تاریخ میں ایک ہی بار کسی کے حصے میں آتی ہے جو واقعی اس عزت کا حقدار ہوتا ہے۔

اداریہ