مشرقیات

مشرقیات

ہدایہ کی شرح عنایہ میں سید فاروق اعظمؓ کے دور خلافت کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص اجازت نامہ لیکر بغرض تجارت حدود مملکت اسلامیہ میں داخل ہوا۔ راستے میں اسے کسٹم انسپکٹر ملا۔ اس نے اس سے کسٹم وصول کیا۔ اس کے بعد شہر میں چونگی انسپکٹر نے ٹیکس وصول کیا۔ آگے جا کر کسی اور حاکم نے اس سے ٹیکس لیا۔ تاجر کو یہ خیال آیا کہ اسی طرح سے ٹیکس ادا کرتے کرتے تو میری ساری پونجی تلف وضائع ہو جائے گی۔ اس لئے وہ اپنا مال تجارت کسی عامل (حاکم) کے پاس جمع کراکے سیدنا فاروق اعظمؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپؓ نے دریافت فرمایا: کیا کام ہے۔کہنے لگا: انا شیخ نصرانی( میں عیسائی بوڑھا ہوں)۔آپؓ نے جواب دیا: انا شیخ مسلم (میں بوڑھا مسلمان ہوں)۔
حضرت عمرؓ کا مقصد یہ تھا کہ جو کام ہے اس کا اظہار کرو۔بہرحال اس تاجر نے اپنے آنے کا سبب بتلایا اور عرض کیا کہ اس طرح بار بار ٹیکس ادا کرنے سے میرا راس المال ختم ہو جائے گا۔ پوری تفصیل بتائی۔ آپؓ نے اس کی بات بڑے غور سے سنی۔ فقط اتنا جواب ارشاد فرمایا: تمہیں امداد ومدد پہنچ گئی۔حضرت پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔ وہ عیسائی اس مختصراً اور جامع جواب سے مطمئن نہ ہوا اور تھوڑی دیر کھڑا رہنے کے بعد نااُمید ہو کر واپس چلا گیا کہ اچھی داد رسی ہوئی ہے۔ جب وہ واپس اپنا مال لینے کیلئے اس عامل کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ اس کے پہنچنے سے پہلے ہی عمر فاروقؓ کا فرمان وخط وہاں پہنچ چکا ہے جس میں تحریر تھا کہ جب ایک دفعہ ٹیکس لیا جائے تو دوبارہ نہیں لینا چاہئے۔ عیسائی تاجر یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ میں تو کچھ اور سوچ رہا تھا لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اس نے کہا کہ اسلام کا باطن اتنا صاف وشفاف ہے۔ اس میں احترام آدمیت اتنا ہے کہ جس کی نظیر کائنات میں نہیں مل سکتی۔حضرت عمر فاروقؓ کا عدل وانصاف اور فریاد رسی میں اتنی عجلت وشتابی دیکھ کر وہ فوراً مسلمان ہوگیا اور دل میں یہ کہا کہ جس مذہب میں اس قدر عدل وانصاف اور داد رسی ہے وہ مذہب منہ موڑنے کے قابل نہیں۔ یہ تھے ہمارے اسلاف جن کا کردار واعمال دیکھ کر غیر مسلم قومیں اسلام میں داخل ہوتی رہیں ۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ازالتہ الخفاء میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ فاروق اعظمؓ بازار میں تشریف لے گئے۔ آپؓ نے دیکھا کہ ایک غریب بوڑھا عیسائی بھیک مانگ رہا ہے۔
دریافت فرمایا کہ تو کون ہے؟
اس نے کہا کہ عیسائی ہوں۔
فرمایا: مانگا مت کر۔ میں تیرے لئے بیت المال سے اتنا وظیفہ مقرر کردوں گا جو تیرے لئے کافی ہوگا۔
گویا حضرت امیرالمومنینؓ نے یہ اصول مقرر فرما دیا کہ رعایا کا ہر فرد جو غریب یا ضعیف ہو وہ مستحق امداد ہے اور امداد بھی اس انداز سے کی جائے گی جس سے اس کا ضمیر مردہ نہ ہو‘ چاہے وہ کسی مذہب کا ہو۔

اداریہ