Daily Mashriq

زبان بندی نہیں زبان پر قابو پانے سے مسئلہ حل ہوگا

زبان بندی نہیں زبان پر قابو پانے سے مسئلہ حل ہوگا

قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ایوان میں وزیراعظم عمران خان کے لیے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ۔ ڈپٹی اسپیکر نے وفاقی وزیر توانائی عمرایوب کی تحریک استحقاق پر رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ جو بھی اس ہائوس کا ممبر ہے وہ ووٹ لے کر آیا ہے انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ کوئی بھی یہ لفظ ایوان میں استعمال نہ کرے۔اتوار کو قومی اسمبلی میں احسن اقبال کی جانب سے اپنی تقریر میں وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر وفاقی وزیر عمر ایوب خان نے کہا کہ یہ ایوان وزیراعظم ا سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کرتا ہے ان میں سے کسی کو بھی سلیکٹڈ قرار دینا اس ایوان کا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہے کوئی بھی رکن ان میں سے کسی بھی عہدے کے لئے منتخب رکن کی تضحیک کرے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنا ایوان کی توہین ہے، اس موقع پر قاسم سوری نے کہاکہ ہر رکن منتخب ہوکرآیا ہے، آئندہ کسی نے اس قسم کے الفاظ استعمال نہیں کرنے اس طرح ہم لوگ اپنی توہین کرتے ہیںجبکہ اپوزیشن نے حکومت کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے ایوان میں ایک بار پھر سلیکٹڈ سلیکٹڈ کے نعرے لگا دیئے ا ورکہاکہ حکومت کو خودپر تنقید برداشت کرنی چاہئے۔وزیراعظم توانائی عمر ایوب کی طرف سے تحریک استحقاق پیش کرنے پر ڈپٹی سپیکر کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہہ کر پکارنے پر پابندی مسئلے کا حل نہیں قومی اسمبلی میں اولاً کسی کی زبان نہیں پکڑی جاسکتی اوردوم یہ کہ اگر قومی اسمبلی میں اس لفظ کا استعمال ممنوع بھی قرار پایا تو میڈیا اور باہر اس لفظ کا استعمال کیسے روکا جا سکے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ کسی لفظ کے استعمال کی ممانعت مسئلے کا حل نہیں مسئلے کا حل یہ ہے کہ حکومتی بنچ اور حزبے اختلاف قومی اسمبلی اور سینٹ میں طعنہ بازی اور ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز بارے مفاہمت کریں جو مناسب نہ ہوں۔ ایوان میں ایک دوسرے پر طنز اور الزامات کی بھر مار سے باہم کے اختلافات اور نفرت میں شدت آسکتی ہے ایوان کا ماحول کشیدہ ہوسکتا ہے ایوان کا وقار مجروح ہوسکتا ہے اس کے نقصانات ہی نقصات ہو سکتے ہیں فائدہ کچھ نہیں۔ہمارے تئیں ڈپٹی سپیکر کو بلکہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئر مین سینیٹ کو اس ضمن میں اپنے چمبرز میں حکومتی اور حزب اختلاف کے اراکین کو بٹھا کر ایوان کا ماحول سازگار اور معتدل رکھنے کیلئے معاملات طے کر لینے چاہئیں یہ تجویز کسی حد تک مضحکہ خیزی بھی ہے کہ اراکین پارلیمان کو ہیڈ ماسٹر بچوں کی طرح اقداروروایات بتائیں اور اچھے بچوں کی طرح کلاس روم میں بیٹھنے کا کہیں بہرحال اس کی ضرورت اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ ایوان میں بعض اراکین کا لب ولہجہ ضرورت سے زیادہ تلخ اور مدلل گفتگو کی بجائے الزام تراشی اورطعن و تشنیع سے بھرپور ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ ڈپٹی سپیکر سے شکایت اور لفظ سلیکٹڈ کے استعمال پر پابندی کے اگر حزب اقتدار کے بعض اراکین کو بلاوجہ کی شعلہ بیانی سے باز رکھا جائے تونہ صرف ایوان کا ماحول بلکہ میڈیا او رسٹیج پر بھی بلاوجہ کے القابات کے استعمال میں کمی آئے۔ اگر ہم تجسس اور بلاوجہ کے القاب وآداب کے استعمال اور الزام تراشی جیسے معاملات کا قرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لیں تو یہ سراسر گناہ نا پسندیدہ اور مبنی بر ممانعت امور ہیں بطور مسلمان اس پر توجہ کی ضرورت ہے خاص طور پر ایوانہائے میں موجود علمائے کرام کو اس بارے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں گزشتہ روز جس طرح کے الفاظ استعمال کئے گئے اور اشارے کنایوں سے کام لیا گیااس قابل مذمت فعل پر کسی نے ندامت کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی کسی جماعت کے سربراہ نے اس کا نوٹس لیا جب اس طرح کی صورتحال ہوگی اور پارٹی قائدین او رسنجیدہ سیاستدان بردباری اور شائستگی کا مظاہرہ نہیں کریں گے ایوان کا ماحول مکدر اور باہم تعلقات کشیدہ رہیں گے۔سیاسی عمائدین اور میڈیا پر آکر اپنی جماعت کا دفاع کرنے والوںاور خاص طورپر الزام تراشی کرنے والوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ وہ اپنے جماعت کے حوالے سے نوجوانوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں اور معاشرے کو کیا سکھا رہے ہیں جو سنجیدہ لوگ ان کے خیالات سن رہے ہیں اور پیغام دیکھ رہے ہیں ان کے ذہنوں میںکس طرح وہ ناپسندیدگی کے جذبات ابھاررہے ہیں ۔پاکستان میں سیاست کا گالم گلوچ بن جانا ایوانوں کا مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنا بازاری زبان کا استعمال اور اشارے بازی سیاست کا حصہ اور ایوان کی کارروائی سمجھا جانے لگا ہے اس سے ماحول پر منفی اثرات اپنی جگہ معاشرے کی غلط رہنمائی اور منفی پیغام اپنی جگہ سیاست،سیاستدانوںاور سیاسی نظام کے حوالے سے اس سے جو دوری بدگمانیاں چڑ اور نفرت پیدا ہورہی ہے وہ عوام اور سیاستدانوں کے درمیان بعد، دوری اور عدم رابطہ کا باعث ہے جو سیاسی نظام کیلئے خطرات کا باعث ہے۔سیاستدانوں کی باہمی چپقلش خود ان کے مفاد میں نہیں یہ کس کے مفاد میں ہے اس پر سیاسی عمائدین کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیاستدان ایوان سے باہر، عوام میں،میڈیا پر اور ایوان میں تنقید ضرورکریں لیکن ان کا لب ولہجہ شائستہ، بات مدلل اور خواہ مخواہ کی الزام تراشی کی بجائے متین فکری پر مشتمل ہو اور صاحب فہم وشعور کیلئے قابل قبول اور شائستگی کے خواہاں لوگوں کیلئے تکلیف کا باعث نہ ہو۔

متعلقہ خبریں