Daily Mashriq

جے یو آئی کی صوبائی قیادت کا انتخاب

جے یو آئی کی صوبائی قیادت کا انتخاب

جمعیت علمائے پاکستان کے صوبائی امیر اور جنرل سیکریٹری کے انتخابات میں ہار جیت سیاسی عمل کا حصہ ہے ایک دینی جماعت کے طور پر اس جماعت سے جو توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں شخصیت پرستی اور جماعتی عہدوں پر مخصوص افراد کی دیرینہ اور مضبوط گرفت کے باعث اس جماعت کا چہرہ بھی دیگر سیاسی جماعتوں کے چہرے سے مختلف نہیں سیاسی جماعتوں پر قابض خاندانوں کو تو مطعون کیا جاتا ہے دیکھا جائے تو یہ گرفت صرف پارٹی سربراہ اور دیگر عہدوں تک ہی محدود نہیں اس کا دائرہ سینٹ قومی وصوبائی اسمبلی ضلع وتحصیل ناظمین کے انتخابات تک میں اس کا عمل دخل زیادہ یا کم بہرحال نظر آتا ہے۔وطن عزیز میں جس کسی کو بھی ایک مرتبہ سیاسی جماعت میں عہدہ مل جاتا ہے اس کے بعد وہ اسے اپنا حق ہی نہیں ورثہ سمجھنے لگتا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں نوجوان قیادت اہل اور مقبول افراد کیلئے جگہ خالی کرنے کا کوئی رواج نہیں جے یو آئی ڈیرہ کا خاندان ہو یا لڑم کے با نصیب کسی سے عہدے کی قربانی اور دوسروں کو آگے آگے آنے کا موقع دینے کی توقع نہیں کی جاسکتی یہی وجہ ہے کہ جماعتیں جمود کا شکار ہوتی ہیں گروپ بندیاں ہوتی ہیں اور عوام میں مقبولیت کھو بیٹھی ہیں سیاسی جماعتیں اگر سیاسی قدروں اور جمہوری اقدار کی پاسداری کریں اور عہدوں کی تبدیلی اور مسابقت سے عہدے حاصل کرنے کے معیار کواصول اور اہلیت پر یقینی بنائیں تو کھڑے پانی کا منظر پیش کرنے لگیں۔

جعلی مصالحہ جات اورمرچ منڈی

پشاور مرچ منڈ ی کے تاجروں کوحلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مسلسل مصالحہ جات کی فیکٹریوں پر چھاپوں میں مرچ منڈی کے ذکر پر اعتراض کا حق حاصل ہے لیکن اگر وہ محولہ فیکٹریوں کا مصالحہ مرچ منڈی میں فروخت کرتے ہیں تو پھر ان کو نام کے استعمال پر اعتراض کی بجائے غیر معیاری مصالحہ جات کی تجارت سے اجتناب کرنا ہوگا۔تاجروں کا موقف ہے کہ درحقیقت مرچ منڈی میں مصالحہ جات کی کوئی فیکٹری نہیں ، یہاں خام مال کی خرید وفروخت کی جاتی ہے جبکہ صدیق آباد میں مصالحہ جات کی فیکٹریاں موجود ہیں جس کی وجہ سے منڈی کو اس علاقہ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ وہ ملاوٹ کے خلاف ہیں اور حلال فوڈاتھارٹی کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ہمارے تئیں ایک سرکاری ادارے کے عہدیدار کسی منڈی کی ساکھ کو متاثر کرنے کے اقدام میں ملوث نہیں ہوسکتے لیکن اگر کوئی غلط فہمی ہے تو پھر اس کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔فوڈ اتھارٹی کے حکام کو شہر میں جعلی اور ملاوٹ شدہ مصالحہ جات اور اشیائے خوردنی کیخلاف مہم میں کسی دبائو کا شکار نہیں ہونا چاہیئے اور مہم میں تیزی لانے کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ اب شہر میں کوئی بھی چیز خالص نہیںملتی ملاوٹ سے پاک اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیائے خوردونوش کا حصول خواب بن کر رہ گیا ہے جس میں بہتری لانے کی ذمہ داری فوڈ اتھارٹی کی مزید فعالیت یقینی بنانے کے ساتھ ہی ممکن ہوگی ۔

کچرا ٹھکانے لگانے کا سنگین مسئلہ

پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں قائم کمیٹی کا پشاور کی واحد ڈمپنگ سائٹ شمشتو کا دورہ کیا جہاں کوڑا کرکٹ تلف کرنے کے مراحل کا جائزہ نہروں کو آلودگی سے پاک کرنے کے سخت حکم کی طرح عدالتی احکامات پر ہونے والی ایک ایسی سرگرمی ہے جو اگر متعلقہ حکام اپنی ذمہ داری سمجھ کر خود ہی انجام دیتے تو زیادہ بہتر تھا۔ ہمارے نمائندے کے مطابق ٹیم ممبران کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 819کنال پر محیط سائیٹ آئندہ 25سے 30سالوں کے لیئے پشاور کے کوڑا کرکٹ کو تلف کرنے کی ضروریات کو پورا کرتی رہے گی جبکہ سائٹ کو مزید ڈیویلپ کرنے کے لئے اس کے چاروں اطراف باونڈری وال پر کام جاری ہے۔ دریں اثنا ء کوڑا کرکٹ کو تلف کرنے کے بعد سائیٹ پر مچھر مار سپرے ، چونا گرانا اور گند کو مٹی سے ڈھکنے کے عمل کا بھی مشاہدہ کرایا گیا۔ اس موقع پر ہم متعلقہ حکام کی توجہ اس امر کی جانب بھی مبذول کروا دیں کہ پشاورمیں اب بھی غیر متعین مقامات پر کچرا ڈالنے اور کچرا جلانے سے شہریوں کی مشکلات اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کا مسئلہ غور طلب ہے بہتر ہوگا کہ شہر کا تمام کچرا متعین جگہ منتقل کرکے وہاں پر کچرے سے کارآمد اشیاء چننے اور باقی ماندہ سے کھاد اور بجلی بنانے کا سلسلہ جلد سے جلد شروع کیا جائے تاکہ شہر سے کچرا اٹھا کر بطور خام مال بیچنے کے کاروبار میں اضافہ ہو اور شہر کی صفائی کی صورتحال میں بھی بہتری آئے۔

متعلقہ خبریں