Daily Mashriq

حکمرانوں کی وقتی کامیابی اورمستقل ناکامی

حکمرانوں کی وقتی کامیابی اورمستقل ناکامی

وزیراعظم عمران خان بظاہرتو بڑی مشکل صورتحال سے دوچار لگ رہے ہیں تاہم درحقیقت وہ بڑے خوش قسمت ہیں کہ جب ملک کے سیاسی اورمعاشی حالات ان کے لئے بالکل بھی سازگار نہیں لگ رہے ،ان کے گذشتہ دس ماہ میں کئے جانے والے فیصلے اور اقدامات انتہائی سخت ہیں، حالات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آرہا یہاں تک کہ چیف جسٹس برملا کہہ چکے ہیں کہ سیاست، معیشت، معاشرت، پارلیمنٹ بلکہ کہیں سے کوئی اچھی خبر نہیں آرہی، سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان بھی کہتے ہیں کہ ملک بند گلی کی طرف جارہا ہے لیکن پھر بھی جو چیز وزیراعظم کے حق میں جارہی ہے وہ ہے ان کے ووٹرکا وہ اعتمادجس کے ساتھ اس نے عمران خان اوران کے نامزد کردہ ہرامیدوار کو ووٹ دیا۔ عمران خان کی ٹیم نے اپنے مخالفین کے ہرسوال کے ساتھ ہی اپنے کارکن کو بروقت جواب یا جواب کے لئے مواد دے کراسے اپنے ساتھ منسلک رکھا اوران تک مسلسل ایسی خبریں اورباتیں پہنچاتے رہے جس سے اس ووٹر کے ذہن میں یہ بات راسخ ترہوگئی کہ پاکستان کو اگر کوئی بچاسکتا ہے تو وہ اس کا لیڈر عمران خان ہے ۔ اب یہی دیکھا جائے تو کتنی زبردست منصوبہ بندی ہے کہ سابق صدرآصف علی زرداری گرفتار ہوگئے تو ساتھ ہی عمران خان کی ٹیم کی جانب سے اپنے کارکن اورووٹر کو یہ اطلاع دی گئی کہ مسٹرزرداری اورشریف خاندان ڈرکراپنے دوراقتدارمیں ملک سے لوٹی ہوئی ستر ارب ڈالر کی رقم واپس کرنے پرتیار ہوگئے ہیں اوراس کے بدلے حکومت اورنیب سے اپنے لئے نرمی مانگ رہے ہیں لیکن ان کی حکومت ان پرزور ڈال رہی ہے کہ ان کو تب ہی کوئی ریلیف یا نرمی مل سکتی ہے جب وہ سترارب ڈالر نہیں بلکہ ایک سوپچاس ارب ڈالرواپس کردیں۔ گذشتہ رات گئے ہم صحافی دوست صوبے کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی کی والدہ محترمہ کی وفات پرتعزیت کرنے ان کے آبائی علاقہ بشام جارہے تھے اورپانی لینے کے لئے مردان کی ایک دکان پررکے جس کے مالک سے جب پوچھا کہ عمران خان کی حکومت میں عوام کے لئے اتنی سختیاں آئیں ، پیسوں کی نہ صرف قدر کم ہوئی بلکہ بجلی، گیس اورپٹرولیم مصنوعات سب کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں اوربہتری کے کوئی آثارنظرنہیں آرہے تو اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ "آپ کی بصیرت کتنی محدود ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو ترقی کی راہ پرڈالا جارہا ہے اورسب لٹیروں کے پیٹ چیر کر ان سے پیسے وصول کئے جارہے ہیں توتھوڑی سی تکلیف تو ہوگی، آج ہم جس تکلیف میں ہیں یہ سب انہی ماضی کے حکمرانوں نوازشریف اورآصف علی زرداری کی وجہ سے ہے " میں نے اسے کہا کہ آصف علی زرداری کی جانب سے ستر ارب ڈالر واپسی کی اس پیشکش کے بارے میں اسے کس نے بتایا تواس کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کارکنوں کو پارٹی کی طرف سے تھوڑے تھوڑے وقفے سے معلومات دی جاتی ہیں تاکہ کارکن ملک کو بچانے کے لئے پارٹی قیادت کے فیصلوں کی پشت پرکھڑا رہے اورپارٹی سے بدظن نہ ہو۔ عمران خان اس لئے بھی خوش قسمت ہیں کہ مسلم لیگ ن کے اپنے گھر کے اندرابھی حکومت کے خلاف احتجاج اورمیثاق معیشت کے معاملے پرچچامیاں شہباز شریف اور مریم نواز شریف میں اتفاق نہیں ہوپایا۔ مریم نواز اپنے چچا شہباز شریف کی جانب سے میثاق معیشت کی پیشکش کو مذاق معیشت کہہ کر ٹھکراچکی ہیں، وہ اس لئے بھی خوش قسمت ہیں کہ سیاست کے بادشاہ سمجھے جانے والے آصف علی زرداری قیدی ہیں اوراسی حکومت سے نرمی مانگ رہے ہیں جن کے ساتھ مل کرانہوں نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو منتخب کروایا تھا اپنا چیئرمین منتخب کرنے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی ڈپٹی چیئرمین پراکتفا کیالیکن یہ ساری محنت کسی کام نہیں آئی اوراب وہ کل مولانا فضل الرحمن کی بلائی ہوئی کل جماعتی کانفرنس میں اسی چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کے لئے ہونے والی منصوبہ بندی کا بھی حصہ ہونگے۔ اللہ بھلا کرے ملتان کے جاوید ہاشمی کا جنہوں نے یہ کہہ کر سب کو ایک رخ پرڈال دیا کہ زرداری کی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کرنی پڑتی ہے اورسب یہی سمجھے کہ زرداری جوچال چلتا ہے اس کا توڑ نہیں ہوتا۔ ہمارے صحافی دوست کہتے ہیں کہ عمران خان اوراس کے بہی خواہوں نے یہ پی ایچ ڈی کرلی ہے اوراسی لئے اب پیپلزپارٹی کو سوپیازکے بعد سوجوتے بھی کھانے پڑرہے ہیں پیپلزپارٹی کو "پی ایچ ڈی زرداری" کے چیئرمین سینٹ لانے کی اس چال کاویسا ہی فائدہ نہیں ہوا جیسا کہ شاید انہوں نے سوچ رکھا تھا اور پی ایچ ڈی کے مضامین میں سے ایسے ہی معاملوں سے متعلق کوئی مضمون تھا جس میں آصف علی زرداری فیل ہوگئے تھے اوراسی مضمون میں چیئرمین سینٹ بنانے کی ٹریک پرانہیں ڈالنے والوں نے ان سے زیادہ نمبر لئے تھے۔ ان کی پی ایچ ڈی پر اس لئے بھی شک ہورہا ہے کہ وہ جس نوازشریف کو سبق سکھانے نکلے تھے ان کے صاحبزادے بلاول کو اسی نوازشریف کی بیٹی کے ساتھ مل کراب سیاسی معاملات چلانے کی ضرورت پڑرہی ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت بہتر اوراپوزیشن برے حالات سے دوچار ہے لیکن ایک بات یہ بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اگرکہیں انہی حالات نے پلٹا کھایا اوراسے ان دونوں قیدیوں کو بغیران ستر اورڈیڑھ سو ارب ڈالر کے رہا کرنا پڑایعنی یہ پیشکشیں فرضی نکلیں اورپھر اس نے معاشی حالات کی خرابی کا رونا رویا لوگوں کو ٹیکس دینے کا کہا تو یہی حکومت جو اس قلیل المدت منصوبے میں وقت گذاری کی حد تک کامیاب لگ رہی ہے شاید طویل المدت منصوبہ بندی میں ناکام ہو اوراس وقت اس کے سامنے کوئی اورنہیں اپناہی کارکن کھڑا ہو۔

متعلقہ خبریں