Daily Mashriq

گورنر اسٹیٹ بینک اپنی مدت پوری کرپائیں گے؟

گورنر اسٹیٹ بینک اپنی مدت پوری کرپائیں گے؟

اتوار کے روز گورنر اسٹیٹ بینک نے خلاف معمول پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ صحافیوںکو بریفنگ دی اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی ہے اور ایک ڈالر جو کہ حکومت کے قیام کے وقت122روپے کا تھا اب157روپے تک بڑھ چکا ہے، جبکہ بعض کار پوریٹس اور کاروباری ادارے ڈالر کی قیمت 170 سے 180روپے تک پہنچنے کی پیش گوئی کرر ہے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے سابقہ حکومت کا نام لیے بغیر روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک ایکسچینج ریٹ کو ایک جگہ مستحکم رکھا گیا جس کی وجہ سے برآمدات اپنی جگہ مستحکم رہیں جبکہ درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا جس نے پاکستان کے تجارتی خسارے کو خطرناک حد تک بڑھا دیا۔ دوسری طرف روپے کی قدر نامناسب ہونے کی وجہ سے زرِمبادلہ ذخائر میں بھی کمی ہوئی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کی یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ اسحاق ڈار نے ایکسچینج ریٹ کو ایک جگہ مستحکم رکھنے کی پالیسی اپنائی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ریاض ریاض الدین نے اس کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی تو اس پر وزیر خزانہ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور فوری طور پر طارق باجوہ کو گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کروادیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق ایکسچینج ریٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ Mother of all evil۔رضا باقر کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے کرنٹ اکائونٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک ایکسچینج ریٹ کو اس کی اصل جگہ پر لارہی ہے۔ جس سے بیرونی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس پر ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ اگر درآمدات کی حوصلہ شکنی ہی کرنی تھی تو اس کو کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے سے کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔ اس سوال کو مکمل طور پر رد نہ کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی عائد کرنے سے اسمگلنگ میں اضافہ ہوجاتا ہے یعنی وہ یہ بات تسلیم کررہے ہیں کسٹم حکام اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا ایکسچینج ریٹ میں تبدیلی سے کرنٹ اکا ئونٹ خسارہ ختم ہوجائے گا، رضا باقر نے کہا کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ کبھی صفر نہیں ہوتا یہ مثبت یا منفی ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا مقصد اس کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اس سطح پر لانا ہے جہاں یہ آسانی سے فنانس کیا جاسکے۔ یہ بات کم از کم مجھے تو ہضم نہیں ہوئی۔ اگر کرنٹ اکائونٹ خسارے کو ختم نہیں کرنا تھا اور اس کو قرض لے کر ہی پورا کرنا تھا تو پھر اتنا واویلا کیوں مچایا گیا کہ معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اس خسارے کو کم کرکے بھی قرض سے پورا کرے گی مگر اس اقدام سے ترقی رک گئی ہے۔ تو ایسے میں جب ترقی ہورہی ہو تو کرنٹ اکائونٹ خسارے کو بھی پورا کرنے کے لیے سابقہ حکومت کے پاس کوئی نہ کوئی پالیسی ہوگی کیونکہ اسحاق ڈار اور مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکا ئونٹ خسارے کی بڑی وجہ بجلی پیدا کرنے والی مشینری کی درآمد ہے۔ بجلی کی پیداوار سے معیشت کا پہیہ چلے گا۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا دعوی تھا کہ ایکسچینج ریٹ کو کم کرنے سے بیرونی خسارے پر اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ تجارتی خسارے میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ درآمدات میں کمی ہورہی ہے جبکہ برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے مگر ابھی یہ تبدیلی بہت نمایاں نہیں ہے کیونکہ برآمدات میں اضافہ قیمت میں نہیں بلکہ مقدار میں ہوا ہے۔ رضا باقر موجودہ حکومت کی مالیاتی پالیسی پر نام لیے بغیر تنقید کر گئے کہ حکومت کی جانب سے اضافہ اس وجہ سے بھی ہوا کہ حکومت نے بینکوں کے بجائے اسٹیٹ بینک سے بڑے پیمانے پر قرض لیا جس کی وجہ سے مہنگائی ہوئی اور ایکسچینج ریٹ پر بھی اثرات مرتب ہوئے، اس لیے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت یکم جولائی سے اسٹیٹ بینک سے قرض لینا مکمل طور پر بند کردے گی۔ یوں مہنگائی میں کمی ہوگی اور روپے میں بھی استحکام آئے گا۔ یہی بات20مئی کو جاری ہونے والے مانیٹری پالیسی بیان میں کہی جاچکی ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران حکومت نے بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے مرکزی بینک سے4ہزار800ارب روپے قرض لیا جو کہ سابقہ حکومت کے اسی عرصے کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ ہے۔ رضا باقر نے وضاحت کی کہ پاکستان نے ایکسچینج ریٹ کے لیے فری فلوٹ کی پالیسی نہیں اپنائی ہے بلکہ اس کے لیے مارکیٹ بیس پالیسی کو اپنایا گیا ہے۔ فری فلوٹ پالیسی میں اسٹیٹ بینک روپے کی شرح مبادلہ میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا ہے جبکہ مارکیٹ بیس پالیسی میں ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ میں طلب و رسد کے قانون پر رکھا جاتا ہے۔ مارکیٹ طلب و رسد کی بنیاد پر ایکسچینج ریٹ کا تعین کرتی ہے۔ مارکیٹ بیس پالیسی میں اسٹیٹ بینک طلب و رسد پر نگاہ رکھتا ہے اور اگر کوئی سٹے بازی کرنے کی کوشش کرے تو اسٹیٹ بینک مداخلت کرسکتا ہے۔ ڈالر کی طلب و رسد کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے پاس اعداد وشمار موجود ہوتے ہیں۔ مارکیٹ بیس ایکسچینج ریٹ میں دوطرفہ تحریک ہوتی ہے۔ اس میں ریٹ کم بھی ہوتا ہے اور بڑھتا بھی ہے۔ جس طرح رمضان المبارک میں بیرونی ترسیلاتِ زر مین اضافہ دیکھا گیا کہ جس سے ایکسچینج ریٹ مین بہتری ہوئی۔ عید کے بعد ڈالر کی طلب میں اضافے سے ایکسچینج ریٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈالر کا انفلو ہوگا تو ایکسچینج ریٹ میں بہتری آئے گی۔اس وقت پاکستان کا بنیادی شرح سود12.25فیصد ہے جو کہ خطے کے تمام ملکوں بشمول بھارت، بنگلہ دیش سے کافی زیادہ ہے۔ رضا باقر نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد20مئی کو جو مانیٹری پالیسی جاری کی اس میں بنیادی شرح سود ڈیڑھ فیصد سے بڑھا کر12.25فیصد کی موجودہ سطح پر لے آئے ہیں۔ (باقی صفحہ7 پر ملاحظہ فرمائیں)

متعلقہ خبریں