Daily Mashriq

یہ کون موسموں کی طرح چال چل گیا

یہ کون موسموں کی طرح چال چل گیا

کل ایک صاحب جو حال ہی میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے ہیں حال دل سنا رہے تھے وہی کہانی کہ جناب ہم سرکار کی نوکری کرنے والے کاروبار کے اتارچڑھاؤ سے ناواقف ہیں اس لئے ایک بہت ہی پیارے دوست کیساتھ کاروبار میں شراکت کر بیٹھا اور اس اللہ کے بندے نے بہت ہی تھوڑے عرصے میں تمام جمع پونجی سے محروم کر دیا۔ ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے عرض کی کہ جناب جب سے حضرت انسان اس دنیا میں جلوہ گر ہوا ہے ایک دوسرے کا شکار کر رہا ہے، یہ وہ فنکار ہوتے ہیں جو اپنی غیرمعمولی ذہانت کی مدد سے آپ کو اپنی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں اور آپ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ہم ان کیلئے فنکار کا لفظ اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ یہ پستول دکھا کر آپ سے رقم نہیں چھینتے، نہ ہی رات کی تاریکی میں آپ کے گھر کی دیوار پھلانگ کر چوری کرتے ہیں اور صبح جب آپ نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کی نقدی زیورات وغیرہ چوری ہوچکے ہیں، چور آپ کی بے خبری یا گہری نیند کا فائدہ اٹھا کر چوری کرتا ہے جبکہ نوسرباز آپ سے دن دھاڑے ملاقات کرتا ہے، آپ کے سامنے ایک منصوبہ پیش کرتا ہے، آپ اپنے پورے ہوش وحواس کیساتھ اس کے منصوبے پر غور وفکر کرنے کے بعد اپنی جمع پونجی نوسرباز کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ دنیا کا بہت پرانا فن ہے اور ہر دور میں اس کا چلن عام رہا ہے، بعض وارداتیں تو اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ آپ فراڈئیے کو اس کی ذہانت کی داد دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور جس کیساتھ دھوکا ہوا ہوتا ہے اس پر ترس کھانے کی بجائے اس کی لالچ کو کوستے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تو بہت سے لوگ اپنے ہی لوگوں کے جھانسے میں آکر لٹ جاتے ہیں اور یہ واقعی مظلوم بھی ہوتے ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے لوگ ہر روز لٹتے رہتے ہیں، دوسروں کو سبزباغ دکھا کر ساری جمع پونجی سے محروم کردینا فی زمانہ ایک فن کی حیثیت اختیار کرچکا ہے، ویسے اس پوری کہانی کی اصل حقیقت یہ ہے کہ لٹنے والا اپنی لالچ کی وجہ سے لٹتا ہے، اگر وہ لالچ جیسی بری بلا کی حقیقت سے واقف ہوتا تو کبھی نوسرباز کے بچھائے ہوئے جال میں نہ پھنستا یہ بھی ذہن میں رہے کہ لٹنے والا لالچی شخص دیانتداری کا مظاہرہ بھی نہیں کرتا اسے اگر دو چار پیسوں کا فائدہ پہنچ رہا ہو تو وہ حلال حرام کی پرواہ بھی نہیں کرتا۔ یہ وہ شخص ہوتا ہے جو دوسروں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، اگر کسی کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اس کی بلا سے اسے اپنے فائدے سے غرض ہوتی ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ نوسرباز کے جال میں پھنس جاتا ہے! ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ نوسربازی ایک تخلیقی عمل ہے ٹھگ چاہے بنارس کا ہو، پشاور کا یا لاہور کا صبح بیدار ہوتے ہی شکار کو اپنے جال میں پھانسنے کیلئے نت نئے منصوبوں پر کام شروع کر دیتا ہے۔ اس کا سب سے پہلا کام شکار کو تاکنا ہوتا ہے، پھر اس کی نفسیات سے باخبری! جب شکار کی سائیکی سے آگاہی حاصل ہوجاتی ہے تو پھر منصوبہ بندی کا عمل شروع ہوجاتا ہے لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ نوسرباز کے دماغ میں ایسے بہت سے منصوبے بھی موجود ہوتے ہیں جنہیں وہ ماضی میں انتہائی کامیابی کیساتھ استعمال کرچکا ہوتا ہے، وہ انتہائی تیربہدف قسم کے نسخے ہوتے ہیں اور ان کا ڈسا پانی تک نہیں مانگتا۔ نوسرباز کو اپنا شکار کسی سڑک پر چلتے ہوئے بھی مل سکتا ہے، کسی بس میں سفر کے دوران بھی یا کسی لاری اڈے پر بس کا انتظار کرتے ہوئے بھی! یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وقت کم اور مقابلہ سخت والی کیفیت ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے یونیورسٹی روڈ پر ایک نوسرباز نے بس سٹاپ پر کھڑے ایک شخص کو سونے کا نقلی ہار تھما کر اس سے ہزاروں روپے ہتھیا لئے، نوجوان نے بڑے خشوع وخضوع کیساتھ سونے کا نقلی ہار پندرہ ہزار روپے نقد لیپ ٹاپ اور قیمتی موبائل کے بدلے خریدا۔ تفصیل اس اجمال کا شکار کچھ یوں بتاتا ہے کہ میں بس سٹاپ پر کھڑا بس کا انتظار کر رہا تھا کہ میرے ساتھ کھڑے ایک شخص نے مجھے سونے کا ایک ہار بتایا اور کہا کہ اس کی قیمت 90ہزار روپے ہے مگر اسے پیسوں کی اشد ضرورت ہے اس لئے یہ ہار فروخت کررہا ہے، اس نے لالچ میں آکر نوسرباز کو پندرہ ہزار روپے نقد، ایک لیپ ٹاپ، ایک موبائل فون دیکر اس کے بدلے اس سے سونے کا ہار خرید لیا بعد میں جب وہ خوشی خوشی ہار فروخت کرنے سنار کے پاس گیا تو اسے پتہ چلا کہ ہار تو نقلی ہے! یہ سچ ہے کہ لالچ بندے کی مت مار دیتی ہے، اگر وہ ایک لمحے کیلئے یہ سوچ لیتا کہ اگر اسے پیسوں کی ضرورت ہے تو یہ ہار سستا بیچنے کی بجائے سنار کے پاس جا کر پوری، (باقی صفحہ7 پر ملاحظہ فرمائیں)

متعلقہ خبریں