Daily Mashriq

مسئلہ کشمیر کے حل پر مودی سرکار کا حریت رہنماؤں کو مایوس کن جواب

مسئلہ کشمیر کے حل پر مودی سرکار کا حریت رہنماؤں کو مایوس کن جواب

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کی جانب سے بھارتی حکومت کے ساتھ مثبت مذاکرات کی پیش کش کو ’دہشت گردی کے خلاف حالیہ اقدامات‘ کے منافی قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ اے پی ایچ سی چیئرمین میر واعظ عمر فاروق سے متعلق کہا گیا کہ انہوں نے 22 جون کو کہا تھا کہ ’اگر نئی دہلی بامعنیٰ مذاکرات کا آغاز کرے گا تو مثبت جواب ملے گا‘۔

اس حوالے سے بی جے پی کے ترجمان انیل گپتا نے کہا کہ ’مشترکہ مزاحمتی قیادت (بشمول حریت) پہلے عوامی سطح پر جموں و کشمیر کو غیر متنازع اور بھارت کا اہم حصہ قرار دے‘۔

انیل گپتا نے کہا کہ حریت رہنماؤں کی جانب سے ’پیشگی شرائط‘ قبول کرنے سے قبل مذاکرات کے نتیجے میں ’انسداد دہشت گردی کے تمام اقدامات پر پانی پھیر جائے گا‘۔

میر واعظ عمر فاروق نے سہ فریقی مذاکرات کا تذکرہ کیا تھا جس کے فریقین کشمیری قیادت، نئی دہلی اور اسلام آباد ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات کشمیر سمیت دیگر تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کریں گے۔

حریت رہنما نے کہا تھا کہ ’ہم سب سے زیادہ متاثر ہونے والے فریق ہیں جہاں روزانہ ہمارے نوجوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اس لیے ہم مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ بھارت پہلے مذکورہ فارمولا کو مسترد کر چکا ہے۔

دوسری جانب جموں و کشمیر کے گورنر نے ستیہ پال ملک نے کہا تھا کہ حریت قیادت کے موقف میں نرمی آئی ہے اور وہ بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں۔

ادھر بی جے پی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حریت رہنماؤں کی مشترکہ مذاحمتی قیادت (جے آر ایل) کشمیریوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور انہوں نے پاکستان کی وجہ سے کشمیریوں کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کا خون کروایا‘۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اب حریت رہنما اپنے موقف میں تبدیلی لائے ہیں اور علیحدگی پسند کو فروغ دے رہے ہیں۔

دوسری جانب جموں و کشمیر کے گورنر نے ستیہ پال ملک نے کہا تھا کہ حریت قیادت کے موقف میں نرمی آئی ہے اور وہ بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں۔

ادھر بی جے پی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حریت رہنماؤں کی مشترکہ مذاحمتی قیادت (جے آر ایل) کشمیریوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور انہوں نے پاکستان کی وجہ سے کشمیریوں کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کا خون کروایا‘۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اب حریت رہنما اپنے موقف میں تبدیلی لائے ہیں اور علیحدگی پسند کو فروغ دے رہے ہیں۔

بھارتی کی حکمراں بی جے پی کے ترجمان نے مزید کہا کہ جے آر ایل ’کشمیری پاور بروکر‘ کی بنیاد پر موقف اختیار کرتی ہے جبکہ وہ محض جماعت اسلامی کشمیر (جے ای آئی کے) کے حمایت پر زندہ ہیں۔

متعلقہ خبریں