Daily Mashriq

بل گیٹس نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کا اعتراف کرلیا

بل گیٹس نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کا اعتراف کرلیا

دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک اور مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی اینڈرائیڈ جیسے آپریٹنگ سسٹم کی تیاری میں ناکامی قرار دی ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو کے دوران بل گیٹس نے مائیکرو سافٹ کے قائد کے طور پر اپنی غلطیوں کے بارے میں بات کی خصوصاً کمپنی کی جانب سے ایپل کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور کامیاب موبائل آپریٹنگ سسٹم کی تیاری کی کوششوں کا ذکر کیا۔

ولیج گلوبل سے انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا 'سب سے بڑی غلطی میں نے مائیکرو سافٹ کا انتظام سنبھالتے ہوئے کی وہ کمپنی کو اینڈرائیڈ جیسی پوزیشن پر لانے میں ناکامی ہے'۔

جب 2008 میں پہلا اینڈرائیڈ فون متعارف ہوا تھا تو اس کے بعد سے گوگل کی زیرملکیت موبائل پلیٹ فارم آئی فون (2007 میں ریلیز ہوا)کا متبادل بن گیا، جس کو ہر کمپنی استعمال کرسکتی تھی، مائیکرو سافٹ نے اس حوالے سے کوشش کی مگر مقابلے میں بری طرح ناکام رہی۔

مائیکرو سافٹ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر سافٹ وئیر میں تو سب پر غالب رہی مگر موبائل مارکیٹ میں اس کا فون پلیٹ فارم ونڈوز موبائل لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکا، جس کی وجہ کی بورڈ اور اسٹائلوس ان پٹ پر زیادہ توجہ دینا تھا۔

جب 2010 میں پہلی بار ونڈوز 7 فون متعارف کرایا گیا جس میں ٹچ اسکرین ٹیکنالوجی دی گئی تھی، تو کمپنی کے لیے بہت تاخیر ہوچکی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس نے 2017 میں پہلے ونڈوز 7 موبائل آپریٹنگ سسٹم کے لیے سپورٹ ختم کی اور رواں برس کے آخر میں ونڈوز 10 موبائل پلیٹ فارم بھی دم توڑ جائے گا۔

بل گیٹس نے انٹرویو کے دوران کہا 'اینڈرائیڈ ایک نان ایپل فون پلیٹ فارم ہے، یہ وہ چیز ہے جو مائیکروسافٹ جیت سکتی تھی، کیونکہ فاتح سب کچھ حاصل کرلیتا'۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بل گیٹس مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے 2000 میں مستعفی ہوگئے تھے تاہم وہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک جزوقتی چیئرمین اور چیف سافٹ وئیر آرکیٹیکٹ کی حیثیت سے کمپنی سے منسلک رہے اور پھر تمام توجہ فلاحی کاموں پر مرکوز کردی۔

جب آئی فون متعارف ہوا تو اس وقت مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹو اسٹیو بالمر نے اسے بہت مہنگا قرار دیا تھا جبکہ نوکیا کے ساتھ شراکت داری بھی کمپنی کو کامیابی نہیں دلاسکتی۔

تاہم بل گیٹس اب بھی پچھتاوا محسوس کرتے ہیں کہ مائیکرو سافٹ موبائل مارکیٹ میں جگہ بنانے میں ناکام رہی اور ان کے بقول ایپل سے ہٹ کر ایک آپریٹنگ سسٹم کی جگہ موجود تھی جوس کی مالیت اب 400 ارب ڈالرز کے برابر پہنچ چکی ہے۔

متعلقہ خبریں