Daily Mashriq

چیف جسٹس کی یقین دہانی

چیف جسٹس کی یقین دہانی

چیف جسٹس میاں ثاقب ثنار نے کہا ہے کہ آئین میں جوڈیشل مارشل لا کا کوئی تصور نہیں اور پاکستان میں صرف جمہوریت کا ہی طرز حکومت چلے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک وہ موجود ہیں ملک میں مارشل لا نہیں لگ سکتا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے اور کوئی بھی غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام برداشت نہیں کیا جائے گا۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ملک میں جوڈیشل مارشل لالگائے جانے کی باتوں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے رد کر دیا اور کہا کہ ملک میں آئین میں اس قسم کے نظام کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔یاد رہے کہ پاکستان میں آئندہ دو ماہ میں موجودہ حکومت کی پانچ سال کی آئینی مدت ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد وفاق اور صوبوں کی سطح پر نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جانا ہے۔اس پس منظر میں کچھ سیاسی حلقوں کی طرف سے ملک میں جوڈیشل مارشل لا لگانے جانے کی بات کی گئی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس کے اس واشگاف اعلان کے بعد عدالتی مارشل لا کے مضحکہ خیز معاملے کو اب ختم ہوجانا چاہئے۔ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کے مطابق یہ تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران کا منصوبہ تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کی تجویز ایک ایسی سیاسی شخصیت کی طرف سے کیوں سامنے آئی جو خاصے با خبر اور با رابطہ سمجھے جاتے ہیں۔ بہر حال اس ضمن میں جاوید ہاشمی کا بیان قرین قیاس لگتا ہے جبکہ دیکھا جائے تو اس وقت اس کی گنجائش تو نہیں لیکن کیا اس سے ٹیکنو کریٹس کی حکومت لانے اور انتخابات ملتوی کرنے کی کسی ناکام کوشش کی نشاندہی تو نہیں ہوتی۔ تمام تر شکوک و شبہات اور خدشات کے باوجود جمہوری بساط کا لپٹا نہ جانا اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی جمہوریت کی حفاظت کے عزم سے یہ امید ضرور پیدا ہوئی ہے کہ اب وطن عزیز میں جمہوری نظام سے متصادم کسی سیاسی نظام کی گنجائش نہیں۔ اب اگر اس کا کوئی بہترین متبادل ممکن ہے تو وہ خلافت راشدہ کا احیاء و دوبارہ قیام ہے مگر اس کا طریقہ کار بھی عوام کی رائے کی اکثریت ہی کا اختیار کرنا احسن ہوگا۔ فی الوقت کے حالات میں اگر جمہوریت کی ریل گاڑی آخری سٹیشن پر پانچ سالہ سفر کی تکمیل کے بعد پہنچے اور تین ماہ کے وقفے کے بعد پھر سے پانچ سالہ سفر کا عوام کی مرضی و منشاء سے کامیاب آغاز کرے تو یہی غنیمت ہوگی اور اگر دیکھا جائے تو بظاہر اس کے لئے حالات ساز گار نظر آرہے ہیں اور اس میں کسی تعطل آنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اس بات کو اس لئے بھی تقویت ملتی ہے کہ مختصر عرصے میں آرمی چیف جنرل باجوہ اور اب چیف جسٹس ثاقب نثار دونوں چیفس نے جمہوریت کی گاڑی کا محفوظ سفر یقینی بنانے اور اس پر یقین کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سے ملکی سیاسی فضا میں اب اعتماد کی فضا آنی چاہئے۔ سینیٹ کے انتخابات تک جس قسم کی فضا بنی تھی مطلوبہ مقاصد کے حصول کے بعد اب سیاسی فضا میں ارتعاش کی چنداں ضرورت نہیں۔ اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ حکومت اور قائد حزب اختلاف کس شخصیت پر بطور نگران وزیر اعظم اتفاق کرتے ہیں اور چاروں صوبوں میں نگران وزرائے اعلیٰ کا تقرر کیسے کیاجاتا ہے۔ ہمارے تئیں اس عمل کو اتفاق رائے سے مکمل کرنا عام انتخابات کی فضا کو ہموار بنانے کے لئے ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عمل کی تکمیل کے بعد سیاسی جماعتیں اور تمام ادارے الیکشن کمیشن کی پوری طریقے سے معاونت کریں اور تعاون کی فضا میں انتخابات کا انعقاد کیاجائے۔یہاں پر الیکشن کمیشن کو اس امر کی یاد دہانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ الیکشن کمیشن متعلقین کو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی اس طرح سے جانچ پڑتال یقینی بنائیں کہ کوئی کوتاہی سرزد نہ ہو خاص طور پر اہلیت کے معیار کو سختی سے پر کھا جائے اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت میں امیدواروں کو ریلیف دینے کی بجائے سخت معیار اپنانے میں کوتاہی نہ ہو۔ اس ضمن میں چیف جسٹس کا کردار و عمل اور ان کی ہدایات خاص طور پر اہمیت کے باعث ہوں گی۔ ماضی میں اس مرحلے پر ہر سطح پر جو کوتاہیاں ہوئی ہیں وہ نہ دہرائی جائیں۔ المیہ یہ ہے کہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے دوران بھی ایک ایسے امیدوار کو ریلیف دیاگیا جو حلف اٹھانے بھی نہ آسکا اور نہ ہی اس کاکوئی امکان نظر آتا ہے۔ چونکہ یہ ایک قانونی اور آئینی معاملہ ہے اس لئے ممکن ہے اس ضمن میں ہمارا ادراک و اعتراض بے بنیاد ہو لیکن عوام میں اس کے باعث جو سوچ ابھری ہے اور جو سوال اٹھائے جاتے ہیں محولہ سطور سے ان کی ترجمانی بہر حال ہوتی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے واشگاف الفاظ میں بیان دے کر غلط فہمیوں کے ازالے کی پوری سعی کی ہے اور یہی ملک و قوم کی خواہشات کی عکاسی اور جمہوریت کے استحکام و تحفظ کا تقاضا ہے۔ ملکی استحکام کی منزل پانے کے لئے غیر آئینی اقدام سے مکمل گریز اور دستور پر عملدرآمد یقینی بناناہوگا جس کی عدم توقع کی کوئی وجہ نہیں۔

متعلقہ خبریں