Daily Mashriq

ناقابل یقین

خیبر پختونخوا کے چار اضلاع بشمول پشاور میں بنیادی مراکز صحت کے حوالے سے محکمہ صحت اور مقامی حکومتوں کے نمائندوں کی جانب سے سامنے آنے والے دعوے کے مطابق پینے کے صاف پانی،بیٹھنے کی جگہ، چار دیواری،بجلی،سٹاف کی کمی،ادویہ اور موجود سٹاف کی دستیابی سے متعلق ساٹھ فیصد سے زائد مسائل حل کر لئے گئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیںکہ اگر یہ دعویٰ مبنی بر حقیقت ہے تو پھر اسے حوصلہ افزائی ہی گردانا جائے گا لیکن اس دعوے کور د کرنے کی ٹھوس وجوہات سے بھی انکار اس لئے ممکن نہیں کہ اس طرح کے مسائل بدستور موجو د ہیں اور ساٹھ فیصد کا دعویٰ قابل قبول نہیں جہاں تک علاج معالجہ اور ادویات کی فراہمی کا تعلق ہے اس ضمن میں بالکل بھی بہتری نہ آنے کی عوامی شکایات کسی سے پوشیدہ امر نہیں ۔حقائق بھی اس امر پر دال ہیں کہ بہتری کی مساعی کے باوجود سالہاسال سے چلے آنے والے مسائل میں کمی نہیں لائی جا سکی ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس دعوے کو حقیقت کا رنگ دینے کیلئے سنجیدہ کوشش کا مظاہرہ کیا جائے گااور ایسے اقدامات کئے جائیں گے جن کے بارے میں دعویٰ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ زبان خلق بہتری اور تبدیلی کا از خوداعتراف کرنے لگے گی ۔

متعلقہ خبریں