Daily Mashriq


جوڈیشل مارشل لاء مسترد

جوڈیشل مارشل لاء مسترد

چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے نہ صرف مبینہ جوڈیشل مارشل لاء کی تجویز مسترد کر دی ہے بلکہ مارشل لاء کو بھی خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں کہا ہے کہ ملک میں صرف جمہوریت چلے گی۔ انہوں نے کہا ہے جب تک میں ہوں مارشل لاء نہیں لگ سکتا ۔ انہوں نے کہا قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ جمہوریت کے ساتھ کومٹ منٹ اور مارشل لاء کے استرداد کا اس سے زیادہ صاف اور مضبوط اعلان اور کیا ہوگا۔ چیف جسٹس کے اس بیان سے ملک میں پھیلی بہت سی غلط فہمیاں اور جان بوجھ کر پھیلائی جانے والی مغالطہ آرائیاں ختم ہو جانی چاہئیں اور عدالت عظمیٰ کی آئین اور قانون کے ساتھ کمٹمنٹ واضح ہو جانی چاہیے۔ ''جوڈیشل مارشل لائ'' کی تجویز پچھلے دنوں عوامی مسلم لیگ کے صدر اور نہایت فعال سیاسی لیڈر شیخ رشید احمد کی طرف سے آئی تھی۔ مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ آئین میں جوڈیشل مارشل لاء کاکوئی تصور نہیں ہے۔ اس کے بعد شیخ رشید کو اپنی تجویز واپس لیتے ہوئے معذرت طلب کرنی چاہیے۔ انہیں نگران حکومت کے بارے میں جو اندیشے ہیں اگر ان کو وزن دار بھی تسلیم کیاجائے تو آئین ہی میں ان اندیشوں کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ آئین میں اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے عام انتخابات کے نتائج تک عارضی حکومت کے انتظام کا طریقہ کار دیاگیاہے۔ 2013ء میں اس کے مطابق عارضی حکومت قائم بھی کی گئی تھی ۔ آئین کے مطابق نگران وزیر اعظم کے تقرر کا فیصلہ وزیراعظم یعنی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے ہوگا۔ یہاں قائد حزب اختلاف کو سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کا نمائندہ سمجھنے کی بجائے ساری حزب اختلاف کا نمائندہ سمجھا جانا چاہیے۔ اور قائد حزب اختلاف سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ قائد ایوان سے مشاورت سے پہلے حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرے گا ۔ نگران وزیر اعظم کے لیے نام تجویز کرنا ساری اپوزیشن جماعتوں کا حق فرض ہے اور لیڈر آف دی اپوزیشن ساری اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندے کی حیثیت سے ہی وزیراعظم کے ساتھ مجوزہ ناموں پر مشاورت کرے گا۔ آج اپوزیشن کے لیڈر سید خورشید شاہ ہیں ۔ انہوں نے بجاطور پرکہاہے کہ وہ وزیر اعظم سے نگران وزیر اعظم کے انتخاب کے حوالے سے بات کریں گے، حکمران جماعت کے قائد میاں نوازشریف سے نہیں ۔میاں نواز شریف کی اپنی پارٹی میں حیثیت جو بھی ہو ایوان میں حزب اقتدار کے قائد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ہیں۔ انہی کو آئین یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بعض مخصوص حالات میں اپنی پارٹی کے کسی رکن کی رکنیت معطل کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے ساتھ سلسلہ جنبانی کر سکتے ہیں۔ آئین کے مطابق حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے قائدین ہی نگران وزیر اعظم کے تقرر کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس میں حکمت یہ نظر آتی ہے کہ قائد حزب اختلاف کو اپنی اسمبلی پارٹی کی مشاورت حاصل ہو گی یا قائد حزب اقتدار ایسے مشاورت حاصل کرے گا ۔ اسی طرح قائد حزب اختلاف کو بھی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے ارکان اسمبلی کی مشاورت حاصل ہو گی یا وہ ایسی مشاورت کرے گا۔ اس طرح نگران وزیر اعظم کا تقرر سارے ایوان کا متفقہ فیصلہ ہو جائے گا۔ جب حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے قائد ین کے اتفاقِ رائے کے حوالے سے آئین کی یہ حکمت عملی واضح ہے کہ ان دونوں کے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے قائد ہونے کے باعث ان کا انتخاب دراصل سارے ایوان کا انتخاب ہو گاتو ان دونوں قائدین پر لازم آتا ہے کہ دونوں قائدین حزب اقتدار کی جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ مشورہ کے ذریعے کچھ نام ایک دوسرے کو تجویزکریں گے تو ان قائدین پر لازم آتا ہے کہ وہ حکمران اسمبلی پارٹی اور حزب اختلاف کے ارکان سے نگران وزیر اعظم کے لیے نام یا ناموں کی تجویز حاصل کریں اور ان کا تعین کریں گے۔ یہ مشاورت اعلانیہ ہونی چاہیے یا حکمران اسمبلی پارٹی کے اجلاس میں مجوزہ نام زیر ِ بحث آنے چاہئیں اور ان کے منتخب کیے جانے کا جواز زیرِ بحث آنا چاہیے۔ اسی طرح آج کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ سے بھی امید کی جانی چاہیے کہ وہ اپوزیشن ارکان کا اجلاس بلائیں ، اس اجلاس میں نگران وزیر اعظم کے لیے تجاویز طلب کریں اور اجلاس میں مجوزہ شخصیات کی موزونیت کا جواززیرِ بحث آئے۔ جماعت اسلامی نے اپنے طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام پیش کر دیا ہے۔ ایسے مجوزہ اجلاس میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ساتھ اور پارٹیوں کی تجاویز پر بھی غور ہونا چاہیے اور یہ اجلاس خفیہ نہیں ہونا چاہیے۔ خورشید شاہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے شفقت محمود اور شاہ محمود قریشی سے بات چیت کی ہے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ وہ محض وزیر اعظم سے نگران وزیر اعظم کے تقرر کے بارے میں بات کریں گے ' دوسری طرف وہ پی ٹی آئی کے چیئرمین کو چھوڑ کر اس کے دیگر لیڈروں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ نگران وزیر اعظم کاانتخاب قائد حزب اختلاف اور قائد حزب اقتدار کی ذاتی صوابدید کی بجائے ان کی نمائندہ حیثیت کے حوالے سے حکمران جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس لیے اپوزیشن لیڈر کو چیدہ چیدہ لیڈروں سے بات کرنے کی بجائے ایسا طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے کہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کے متفقہ مجوزہ نام انہیں حاصل ہو جائیں۔ یہ مکالمہ ہو گا تو عوام کو بھی معلوم ہوگا کہ اپوزیشن کی طرف سے کس کس کو نامزد کیا جا رہا ہے اور حکمران اسمبلی پارٹی میں جب اس موضوع پر بحث ہو گی تو ارکان اسمبلی کو یہ معلوم ہو گا کہ کس کو نامزد کیا جا رہا ہے اور عوام کو بھی خبر ہو سکے گی کہ حکومت اور اپوزیشن کس کس کو نگران وزیر اعظم تجویز کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں