Daily Mashriq

ڈالر کی اُڑان

ڈالر کی اُڑان

آج کل پورے ملک میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میںکمی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ چند دنوں میں ایک ڈالر کی قیمت پاکستانی 115روپے کی ہو گئی اور آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ آنیوالے وقتوں میں روپے کی قیمت اور قدر میں مزید کمی واقع ہوگی۔ اگر ہم غور کریں تو یہ سب کچھ پاکستان کے نااہل حکمرانوں کی غریب دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ پوری دنیا کے سماجی اقتصاد میں بڑھوتری ہو رہی ہے جبکہ پاکستان میں ہمارے سول اور ماضی کے عسکری حکمرانوں کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے انتہائی ناگفتہ بہ حالات ہیں۔ 1948 سے لیکر 1971 تک یعنی 23سال تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 4روپے تھی۔ 1972 سے لیکر 1981تک یعنی 9سال میں ایک ڈالر کی قیمت 9روپے تھی۔ 1982 سے لیکر 1986تک چار سالوں میں ڈالر کی قیمت 16روپے تک بڑھ گئی اور 1987سے لیکر 1999تک ڈالر کی قیمت 51روپے تک پہنچ گئی اور 2000سے لیکر 2010 تک ڈالر کی قیمت 86روپے ہو گئی۔2011 سے لیکر2013 تک ڈالر کی قیمت 103روپے تک پہنچ گئی اور 2013 سے لیکر 2018 تک امریکی ڈالر کی قیمت پاکستان کی تا ریخ کی بلند ترین سطح یعنی 115روپے تک پہنچ گئی۔ اگر ہم غور کر لیں تو 1947سے1986 تک ڈالر اور روپے کی قدر میں کچھ زیادہ فرق نہیں تھا مگر 1987 کے بعد ڈالر اور روپے کی قدر میں حد سے زیادہ فرق بڑھ گیا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہگزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان کا بیرونی اور اندرونی قرضہ بہت بڑھ گیا ہے۔ میاں نواز شریف کے پہلے تین سال میں قرضہ 25ارب ڈالر بڑھ گیا اور اس کے بعد دو سالوں میں جو قرضہ بڑھا وہ اس کے علاوہ ہے۔ ماہر اقتصادیات حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ بہت جلد 90ارب ڈالر سے تجاوز کر لے گا اور ان کی ادائیگی کیلئے پاکستان کو 20ارب ڈالر سالانہ درکار ہونگے۔ صدر پاکستان ممنون حسین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں 18000 ارب قرضہ لیا، وہ پیسے کدھر گئے جبکہ انہوں نے کوئی بڑا پراجیکٹ بھی نہیں دیا۔ ساتھ ہی ساتھ نواز شریف نے موٹروے، ریڈیو پاکستان اور ٹی وی عمارات گروی رکھ دی ہیں۔ اب عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ ڈالر کی قدر بڑھنے اور روپے کی قدر کم ہونے سے پاکستان کے غریبوں اور پاکستان کی اقتصادیات پر کیا اثر پڑے گا تو اس سلسلے میںگزارش ہے کہ اس سے مہنگائی اور غربت میں کئی چند اضافہ ہوگا۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستان کی درآمدات 48ارب روپے سالانہ ہے تو لازمی بات ہے کہ پہلے جو چیز باہر سے 105روپے کے لیتے تھے اب ہمیں وہی چیز 115روپے کے حساب سے لینا پڑے گی۔ ہم نے بین لاقوامی ایجنسیوں سے قرضہ لیا ہے۔ روپے کی قدر گرنے سے اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ ویکی پیڈیا کے مطابق پاکستان میں 22فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے غربت اور افلاس زدہ لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ پاکستان اس وقت 7ارب ڈالر کا تیل درآمد کرتا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اب یہی تیل 9ارب ڈالر میں منگوانا پڑے گا۔ جہاں تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا تعلق ہے تو اس میں اور بھی عوامل شامل ہیں۔ پاکستانسے منی لانڈرنگ کرنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان سے ہر سال 10ارب ڈالرز اور ڈاکٹر شاہد حسن کے مطابق پاکستان سے سالانہ 40ارب ڈالرز منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ممالک منتقل کی جاتی ہیں۔ سوئس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان ان 146ممالک کی فہرست میں 46ویں نمبر ہے جہاں پر حد سے زیادہ منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو منی لانڈرنگ پاکستان کے ٹاپ10 بڑے مسائل میں سے ہے۔ پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہیں جس کی وجہ سے ملکی معاملات اور روپے کی قدر کو بڑھانے اور ملکی نظام کو چلانے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا اور وہ انتہائی سخت اور کڑی شرائط کیساتھ قرضہ دے گا۔ اگر ہمارے حکمران منی لانڈرنگ نہ کرتے تو آج نہ مہنگائی ہوتی اور نہ ہمیں آئی ایم ایف سے بھاری شرائط پر قرضے لینے کی ضرورت پڑتی۔ منی لانڈرنگ ہماری اقتصادیات کا واحد مسئلہ نہیں بلکہ اور بھی اقتصادی مسائل ہیں۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستانیوں کے سوئس بینکوں میں 200ارب ڈالرز پڑے ہوئے ہیں۔ اگر وہ ان رقوم کو واپس پاکستان لے آتے تو پاکستان اقتصادی بحران سے نکل سکتا تھا۔ اسی طرح پانامہ کیس میں 435 اور بھی پاکستانیوں کے نام ہیں۔ اگر میاں نواز شریف کی طرح ان کا بھی احتساب کیا گیا تو بھاری رقوم بیرون ممالک سے پاکستان لائی جا سکتی ہیں۔ حال ہی میں پی پی پی کے اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ منی لانڈرنگ شق 62 اور63 سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان میں سالانہ 5ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے جو ہمارے وفاقی بجٹ کے برابر ہے۔ اگر اچھی حکمرانی کو فروغ دیا گیا تو 5 ہزار ارب روپے کرپشن کو قابو کر کے ہم ملک کی اقتصادیات کو بہتر سے بہتر کر سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے عوام کو اپنے اور ملک کی بہتری کیلئے یک جان ہونا چاہئے کیونکہ ہماری تباہی اور بربادی کے یہ ذمہ دار ہے۔

متعلقہ خبریں