Daily Mashriq


نیا عمرانی معاہدہ کیوں ضروری ہے؟

نیا عمرانی معاہدہ کیوں ضروری ہے؟

ہفتہ بھر کا سفر تھا، سرائیکی وسیب میں دوست تھے۔ چند تقریبات اور ایک کانفرنس، اپنے ہی ملک میں رزق سے بندھی ہجرتوں کے اسیر لوگوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی آواز سندیسہ اور دعوت ملے آبائی شہر اور وسیب کی طرف جانے کیلئے سارے کام کاج دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اس بار بھی یہی ہوا' تین دن کی بات پانچ دنوں پر پھیل گئی۔ سرائیکی وسیب صوبہ پنجاب کے جنوب میں واقع اضلاع اور ڈیرہ اسماعیل خان وٹانک کو کہتے ہیں۔ برطانوی سامراج کے وائسرائے لارڈکرزن کے استعماری فیصلے سے تقسیم ہوا وسیب کب اپنی قدیم شکل میں بحال ہو اور قومی شناخت کی اکائی کا حق حاصل کر پائے اس پر کوئی فوری رائے ہے نہ حتمی تاریخ۔ جدوجہد ہے جو شاعروں' ادیبوں اور دانشوروں کے بعد سیاسی کارکنوں کو بھی اس راہ پر لے آئی ہے۔ شکایات ہیں بے حساب۔ شکوے اور محرومیاں لیکن یہاں کسی کو کس کو کس کی فکر ہے۔ پانچ قومیتی فیڈریشن کی منظور شدہ چار اکائیوں (صوبوں) میں سے تین صوبوں کو پنجاب سے شکایات ہیں مگر ان شکایات پر کان دھرنے والا کوئی ہے نا دور کرنے والا۔ نون لیگ پچھلے دس برسوں سے مسلسل پنجاب کے اقتدار اعلیٰ کی مالک ہے اس کے مالکان کے نزدیک پنجاب بھی لاہور ہے اور پاکستان بھی لاہور۔ ستم یہ ہے کہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک کیلئے مختص بجٹ صوبہ بھر سے لاہور لاکر جھونک دئیے گئے۔ سرائیکی وسیب کے پسماندہ ترین اضلاع میں سے ایک ضلع لیہ کے ترقیاتی بجٹ کا 75فیصد لاہور میں وزیراعلیٰ کے دفتر کو جنت نما بنانے پر خرچ ہوا' یہ ریکارڈ کی بات ہے' زبانی کلامی دعوے نہیں۔ ملتان میں میٹرو بس چلائی گئی لوگ شور مچاتے رہے کہ میٹرو پر رقم اُڑانے کی بجائے طبی سہولتوں' پینے کے صاف پانی' فنی تعلیم اور سڑکوں پر یہ رقم خرچ کی جائے مگر تخت لہور نے سنی ان سنی کر دی۔ مسائل' محرومیاں اور چند دیگر معاملات سرائیکی وسیب کی گردن پر ہیں۔ پنجاب کے غریب ترین اور پسماندگی میں نچلی سطح کے علاقے سرائیکی وسیب میں ہیں۔ ستم یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے دور میں سرائیکی وسیب کو ملے بہت سارے منصوبوں پر نون لیگ اب نویں اور دسویں سال میں انتخابی مجبوریوں کے تحت کام کروا رہی ہے جیسے مظفرگڑھ ڈی جی خان روڈ یا راجن پور رحیم یار خان کے درمیان دریائے سندھ پر نشتر گھاٹ گزیٹڈ پوسٹوں میں سرائیکی آبادی کا تناسب کے مطابق حصہ نہیں ہے ۔حب الوطنی کے بھاشن سن لیں یا ہم ایک ہیں کی دلفریب باتیں اس سے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جن سے دوچار سرائیکی لوگ اپنے الگ صوبے کیلئے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ نون لیگ نے پچھلے دور کے آخری دنوں میں پنجاب اسمبلی سے پنجاب میں دو نئے صوبے صوبہ بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے قیام کیلئے قرارداد منظور کروائی تھی مگر اس دور میں جو اب ختم ہونے کو ہے اپنی ہی قرارداد کو آنکھ بھر کے نہیں دیکھا اُلٹا یہ ہوا کہ جاتی امراء کے دستر خوان پر پلنے والے ایک میڈیا ہاؤس نے منظم مہم چلائی کہ سرائیکی قوم پرست بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ پنجابی اشرافیہ کے پاس کفر وغداری کے تیز دھار ہتھیار ستر برسوں سے ہیں اور وہ اسے شوق سے استعمال بھی کرتی ہے۔ سیاسی کارکن اور سرائیکی قوم پرست پچھلے دس سال سے سرائیکی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے مراکز اور سہولت کاروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں مگر چھ کروڑ وسیب زادوں پر ایک صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ بھاری ہے جو شدت پسندوں کیخلاف کارروائی نہیں ہونے دے رہا۔ان معروضات کا مطلب یہ ہے کہ عدم مساوات، استحصا ل اور انصاف سے محرومی، اقتدار کی درجہ بندیوں اور دیگر معاملات میں مساوی حصہ نہ ملنے کی وجہ سے سرائیگی وسیب میں جو صورتحال بن رہی ہے اس پر غور وفکر اور انقلابی خطوط پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ 1973ء کے دستور کے اندر رہتے ہوئے پانچ قومیتی فیڈریشن کی سچائی کو تسلیم کیا جائے اور اگلے مرحلہ میں پانچوں قوموں کے درمیان نیا عمرانی معاہدہ ہو۔ وسیب کی ایک شہر فاضل پور میں ہونیوالی حالیہ سرائیکی کانفرنس کے مقررین اور شرکاء اس امر پر متفق تھے کہ قومی اکائی کی دستوری حیثیت دینے سے انکار سات ہزار سال کی تاریخ رکھنے والوں کی توہین ہے۔ ثانیاً یہ کہ معاملہ سیاسی اور دستوری ہے اسے چند ناراض لوگوں کا موقف کہنا درست نہیں۔ انہی نکات کے پیش نظر یہ بھی کہا گیا کہ سول وملٹری اشرافیہ کے سابقین کو سرائیکی وسیب میں زرعی اراضیاں الاٹ کرنے کا سلسلہ بند کرکے بے زمین کاشتکاروں کو زمینیں دی جائیں، بہاولپور کے سولر انرجی منصوبے کی کوڑیوں کے دام نجکاری کے پروگرام کی تحقیقات کروائی جائے۔ پہلی سے دسویں جماعت تک مادری زبانوں میں تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔ سرائیکی وسیب کے صوفیائے کرام کے عرس، سنگ اور میلوں اور دوسرے ثقافتی پروگراموں پر پابندی ختم کی جائے۔ تعلیمی نصاب میں غیر ملکی حملہ آوروں کو ہیروز کے طور پر پڑھانے کی بجائے مقامی مزاحمت کاروں کی جدوجہد سے نئی نسل کو روشناس کر دیا جائے۔ دریائی پانیوں میں سے جائز حصہ دیا جائے۔ حرف آخر یہ ہے کہ سرائیکی وسیب کے لوگوں کے مسائل اور مطالبات کو شعوری طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ فتوؤں کی چاند ماری سے نقصان ہوگا۔

متعلقہ خبریں