Daily Mashriq


بے چارے کرائے دار

بے چارے کرائے دار

حقوق کی بحث بہت طویل ہے اور اس کے متاثرین کی لسٹ اس سے بھی زیادہ طویل۔ ان متاثرین میں سے چند ایک ایسے ہیں جن کے حقوق کی کم ازکم ہمارے سماج میںشنوائی نہیںہوتی۔ہمارے سماج میں موجود ایک طبقہ ایسا بھی ہے جنہیں ''کرائے دار'' کے نام سے جانا جاتا ہے، مالک مکان کرائے داروںکو اپنے زیراثر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور 95فیصد مالک مکان کرائے داروں کو دبانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ ''مالک مکان'' ہوتے ہیں۔ ہمارے سماج میں مالک مکان حضرات باقاعدہ ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں' جو اپنی مرضی کے مطابق کرائے میں اضافہ کرتے ہیں اور اپنی مرضی کی شرائط پر مکان کرائے پر دیتے ہیں کیونکہ ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے حالانکہ مالک مکان حضرات اور حکام بخوبی جانتے ہیں کہ کرائے پر رہنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو گھر کی نعمت سے محروم اور متوسط یا اس سے بھی نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے کئی فیملیز کو صرف ایک بیٹھک میں زندگی گزارتے دیکھا ہے۔مالک مکان اور کرائے دار کے حقوق کی بات کی جائے تو مالک مکان حضرات کی نظر میں سرے سے کرائے داروں کے کوئی حقوق ہیں ہی نہیں۔ اسی مائنڈ سیٹ کیساتھ وہ کرائے داروں پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ کرائے داروں سے سب سے پہلے جو سوال کیا جاتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ فیملی ممبران کتنے ہیں؟ اگر کرائے دار نے تین یا چار سے زیادہ فیملی ممبر بتا دیئے تو پھر مکان ملنا مشکل ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں اس کا جواب تو مالک مکان ہی جانیں لیکن بڑی فیملی کیلئے کرائے پر مکا ن حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے یا پھر مہنگے کرائے پر مکان لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔دوسرے نمبر پر جو سوال کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ مکان صرف فیملی ممبران کیلئے ہے اس میں مہمانوں کو ٹھہرانے کی اجازت نہیںہوگی۔ مہمان اللہ کی نعمت ہوتی ہے لیکن مالک مکان کو یہ نعمت زحمت لگتی ہے۔ خود مجھے اس تجربے سے گزرنا پڑا، وہ اس طرح کہ مجھے ایک مکان سے صرف اسلئے نکال دیا گیا کہ ایک مہمان چند دن تک میرے پاس قیام پذیر رہا، اور مالک مکان سے برداشت نہ ہو سکا یوں ہمیں چلتا کر دیا گیا۔ اسی طرح کرائے داروں کے بچوں کو گھر میں کھیلنے کی اجازت نہیں کیونکہ اس سے مالک مکان کے آرام میں خلل واقع ہوتا ہے۔ مالک مکان حضرات کے سونے' اُٹھنے اور گھر میں آنے جانے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں کیونکہ وہ ''مالک مکان'' ہے جبکہ کرائے دار پر لازم ہے کہ وہ مالک مکان کے بتائے ہوئے ٹائم ٹیبل کا خیال رکھے، اور تو اور مالک مکان کے بچے' بچے شمار ہوں گے، ان کیلئے گھر میں کھیلنا کودنا' شور مچانا سب جائز ہے کیونکہ وہ مالک مکان کے بچے ہیں جبکہ کرائے دار کے بچوں کیلئے بھی انہی شرائط پر سختی سے عمل کرنا لازم ہے جس پر کرائے داروں کے ماں باپ عمل کر رہے ہیں یعنی بچوں کو اپنے ''بڑے'' اور سنجیدہ ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔کرائے دار اور مالک مکان کے درمیان جس بات پر سب سے زیادہ تنازعہ رہتا ہے وہ ہے گیس وبجلی کے میٹر کا مشترک ہونا، اکثر مکانوں میں گیس وبجلی کے میٹر مشترک ہوتے ہیں جس کا کرائے داروں سے جبری طور پر آدھا بل وصول کیا جاتا ہے۔ کرائے داروں کی اکثریت گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں گیزر افورڈ نہیں کر سکتی اسلئے ان سہولیات کے بغیر ہی گزارہ کرتے ہیں جبکہ مالک مکان کے گیس وبجلی کا میٹر مشترک ہونے کی بنا پر انہیں سردیوں میں گیس کا اور گرمیوں میں بجلی کا بھاری بل کا آدھا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ اس نے مکان کا ایک پورشن کرائے پر حاصل کیا جو دو کمروں پر مشتمل تھا جبکہ اسی پورشن میں واقع ایک بیٹھک نما کمرہ مالک مکان نے اپنے پاس رکھ لیا۔ معاہدے میں یہ بات شامل تھی اسی حساب سے کرایہ بھی کم کیا گیا لیکن چند ماہ گزرنے کے بعد حیران کن با ت سامنے آئی کہ مالک مکان کو بجلی کا بل کم آتا تھا ہمیں زیادہ آتا، جبکہ ہمارے فیملی ممبر بھی اُن سے کم تھے اور ہمارا استعمال بھی ان کی نسبت کم تھا۔ کھوج لگانے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ہمارے پورشن میں موجود کمرے میں مالک مکان کی فیملی کپڑے استری کرتی ہے میں نے ان سے بات کی کہ اوپر والے پورشن میں بجلی ہماری استعمال ہوتی ہے یا آپ کی؟ ان کا جواب تھا ہماری اپنی یعنی مالک مکان کی ہی استعمال ہوتی ہے، میری اہلیہ نے کہا کہ آپ الیکٹریشن کو بلا کر چیک کروائیں، جب میں نے الیکٹریشن کو چیک کرایا تو پتہ چلا کہ مالک مکان کرائے داروںکے کھاتے میں بجلی استعمال کر رہے تھے، جس کے بارے وہ پہلے کہہ چکے تھے کہ وہ اپنی بجلی استعمال کر رہے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب مکان کرائے پر حاصل کیا جاتا ہے تو کرائے دارقانونی' شرعی اور اخلاقی طور پر اس کے استعمال کا حق بھی رکھتا ہے۔ کرایوں کے مکانوں میں رہتے ہوئے اپنے دس سال کے مشاہدے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ کرائے داروں کے ہمارے سماج میں کوئی حقوق نہیں ہیں، اگر پاکستان کے کسی علاقے میں کرائے داروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو یا ان کو برابر کے حقوق حاصل ہوں تو مجھے بھی بتائیے یہ میرے علم میں اضافے کی بات ہوگی۔

متعلقہ خبریں