Daily Mashriq


سقراط کو جو بخشی تھی، ہم کو بھی ہو عطا

سقراط کو جو بخشی تھی، ہم کو بھی ہو عطا

سقراط کو سچ بولنے کی پاداش میں زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ منصور حلاج کو دار پر لٹکا دیا گیا۔ گلیلیو کو اپنے سچ کی تردید کرکے کہنا پڑا کہ زمین گول نہیں ویسی ہی چپٹی ہے جیسی انجیل مقدس میں بیان ہوئی ہے اور پھر یوں ہوا کہ گلیلیو کی اس تردید نے اس کے مصلحتانہ جھوٹ کی قلعی اس وقت کھول دی جس وقت مطالعہ قدرت نے ثابت کر دیا کہ زمین چپٹی نہیں گول ہے اور وہ اپنے مدار پر نظام شمسی کے ہر سیارے کی طرح نہ صرف سورج کے گرد گھوم کر موسموں کی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے بلکہ اپنے ایکسل پر لٹو کی طرح گھوم کر دن اور رات کے پیدا ہونے یا طلوع وغروب آفتاب کے دلکش مناظر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر گلیلیو اپنے اس نظرئیے پر قائم رہتا۔ سولی چڑھ جاتا یا دار پر لٹک جاتا لیکن نہیں اس نے ایسا ہرگز نہیں کیا۔ وہ عاقل تھا عاشق نہیں تھا، نہ کودا وہ آتش نمرود میں، مصلحت اندیش تھا نا۔ جان پیاری تھی اس کو، وہ جو کسی نے کہا ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ اس نے مختصر مگر فانی زندگی کی سانسوں کو غنیمت جانا اور بول گیا جھوٹ دنیا والوں کے اس جم غفیر کے سامنے جسے تقدس مآب کلیسا والوں نے جمع کیا ہوا تھا۔ پشاور کے لیجنڈری مرزا محمود سرحدی کو گلیلیو کی یہ ادا بھا گئی اور انہوں نے اس کی ترجمانی کرتے ہوئے بے دھڑک کہہ دیا کہ

جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے

سچ کہہ کر کون دار پر لٹکے

یہ بات بعید ازحقیقت نہیں کہ سچ کہنے والے کو دار پر لٹکا دیا جاتا ہے اس کے باوجود ہمارے مذہبی اور اخلاقی اسکالر ہمیں ہمیشہ سچ بولو کا درس دیتے رہتے ہیں۔ ہم بچپن سے ہمیشہ سچ بولو کا جملہ رٹتے رہے ہیں۔ سانچ کو آنچ نہیں۔ سچ کا بول بالا ہوتا ہے۔ سچ کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، یہ اور اس قسم کی بہت سی باتیں ہمیں جھوٹ بولنے سے روکتی ہیں اور سچ کہنے کا عادی بناتی ہیں اور یوں ہم سچ بولنے کے زعم میں پکار اُٹھتے ہیں کہ

سقراط کو جو بخشی تھی ہم کو بھی ہو عطا

ساقی نظر ملا ہمیں مے خانہ چاہئے

کہنے کو تو ہم ایسی باتیں کہہ اُٹھتے ہیں لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ باتیں صرف باتیں ہوتی ہیں اور باتیں باتوں کے سوا کچھ نہیں ہوتیں۔ قسمیں، وعدے، پیار، وفا سب باتیں ہیں باتوں کا کیا۔ ضروری نہیں کہ ہم جو باتیں سنتے یا پڑھتے ہیں ساری کی ساری سچی ہوں۔ پانی میں دودھ یا دودھ میں پانی کے مصداق بہت سی باتیں سچ اور جھوٹ کا امتزاج یا آمیزہ ہوتی ہیں۔ سچ پوچھیں تو کاروبار حیات ان سچی اور جھوٹی باتوں ہی سے چل رہا ہے، دنیا ان سچی اور جھوٹی باتوں کی وجہ سے آباد ہے، ہمارے سیاستدان سفید جھوٹ بول کر ایک دوسرے کونیچا دکھا دیتے ہیں، ہمارے تاجر جھوٹ بول کر ڈھیروں منافع کما لیتے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے مذاہب عالم میں بھی جھوٹ بولنے کو جائز قرار دیا گیا ہو، مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب کسی اللہ کے نیک بندے نے ایک ہینڈ بل چھاپ کر نہ صرف تقسیم کیا تھا بلکہ دیواروں پر چسپاں کرکے لوگوں کے دلوں میں خوف الٰہی جاگزیں کرنے کی کوشش کی تھی، اس ہینڈ بل پر لکھے جانیوالے متن کی شروعات تین دفعہ یہ سچ ہے یہ سچ ہے یہ سچ ہے کا جملہ لکھ کر کی گئی تھیں، ہینڈ بل پر لکھی ہوئی عبارت کا لب لباب یہ تھا کہ کسی بزرگ کو خواب میں بشارت ہوئی تھی کہ قیامت آنیوالی ہے، جس کی وجہ جھوٹ، فریب، مکاری، دغا بازی اور عبادت الٰہی سے انتہائی درجہ تک غفلت کو گردانا گیا تھا۔ اس پمفلٹ یا ہینڈ بل کے تقسیم ہوتے ہی سارے معاشرے میں سراسیمگی پھیل گئی، قیامت کا ڈر تھا جس نے لوگوں کے دلوں میں خوف الٰہی کی دبی چنگاریوں کو جگمگاتی مشعلوں کا روپ دیدیا اور پھر کچھ یوں ہوا کہ ایک مدت گزرنے کے بعد دنیا دار لوگ ایک بار پھر دنیا کے دھندوں میں اُلجھ کر سچ اور جھوٹ کی دکانیں سجانے لگے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

کے مصداق سوچتے رہ گئے کہ کس ذہن کی کارستانی تھی یہ، کون تھا وہ جس نے اُڑائی تھی یہ ہوائی، جب میں نے اس موضوع پر کسی مولوی صاحب سے بات کی تو انہوں نے یہ کہہ کر میری ادھیڑ بن کو ختم کر دیا کہ اسلام میں بعض مواقع پر جھوٹ کہنا بھی جائز ہے، اگر کسی نے کسی معصوم بیگناہ کی جان بچانی ہو، اگر کسی گمراہ کو صراط مستقیم پر لانا ہو اور ایسا کرنے کیلئے جھوٹ بولنے کے سوا کوئی چارہ نہ بنتا ہو تو آپ جھوٹ بول سکتے ہیں۔ میں عالم فاضل ملا مولوی تھوڑا تھا جو کسی زاہد، متقی یا مفتی کے فتوے کے جواب میں چوں وچرا کرنے کی جرأت کر پاتا، مان لی ان کی بات اور چپ سادھ کر کورنش بجا لایا اور ان کی طرف پیٹھ کئے بغیر واپس لوٹ کر جھوٹ بولنے کی مشق کرنے لگا، زمیں پر کلوبس نامی سرخ سیارہ تباہ ہوکر گرنیوالا ہے، اس سچی یا جھوٹی خبر کو انٹرنیٹ پر وائرل کیا جا رہا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس پیشنگوئی پر مبنی کتاب آپ بالکل مفت منگوا سکتے ہیں، مجھے تو یہ سب کچھ صیہونی پرچارکوں کی سازش لگتی ہے جس کے جواب میں مشتری ہوشیار باش کہتے ہوئے اتنا عرض کئے دیتا ہوں، ٹوٹ پڑے اس نگوڑی دنیا پر قیامت، لیکن سلامت رہے ہمارے ایمان کی دولت، کہ یہی اثاثہ ہے ہمارے جذبہ عشق کا، کیا خوب کہا ہے اُستاد میاں محمد بخش نے

ایمان سلامت ہر کوئی منگدا

عشق نہ منگے کوئی

متعلقہ خبریں