Daily Mashriq

عجب سیاست کی غضب کہانی

عجب سیاست کی غضب کہانی

بلاول بھٹو زرداری اپنی الگ پہچان بنا سکے تھے۔ افسوس کہ انہوں نے اپنی سیاست پیپلز پارٹی کی روایتی سوچ کے ہاتھوں گروی رکھ دی ہے۔ بھٹو کا جانشین بننے کی بجائے انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سوچ کا جانشین بننے کو ترجیح دی۔ اس اپروچ کے تحت انہوں نے تازہ ترین بیان داغے ہیں تاکہ اسٹیبلشمنٹ دباؤ میں آسکے اور غیر ملکی طاقتوں کی خوشنودی حاصل ہو۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے کامیابی کیساتھ اس نوع کا مقدمہ کھڑا کیا اور غیرملکی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کر کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی۔ بلاول نے کالعدم تنظیموں کے حوالے سے جو مقدمہ کھڑا کیا ہے وہ بھارت کا نہیں بلکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا بھی مقدمہ ہے۔ یقینی طور پر ان کی خواہش ہوگی کہ آج نہیں تو کل امریکہ ان پر نظر کرم فرمائے اور امریکی دباؤ یا ڈیل کے تحت ان کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہو۔ محترمہ بینظیر بھٹو بھی یہی کیا کرتی تھیں۔ آخری مرتبہ جنرل مشرف کیخلاف انہوں نے امریکہ میں جو محاذ قائم کیا وہ تین باتوں پر مشتمل تھا۔ اول‘ جنرل مشرف ناقابلِ اعتبار ہیں چنانچہ امریکہ اس پر بھروسہ کرنے کی بجائے پیپلز پارٹی کیساتھ تعاون کرے۔ دوم‘ پیپلز پارٹی دہشتگردی کیخلاف جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے گی کیونکہ وہ ہمیشہ سے اسلامی انتہا پسندوں کے مخالف رہی ہے۔ سوم‘ امریکہ کو جنرل مشرف کی دھوکہ دہی سے بچنے کیلئے پیپلز پارٹی کو اس لئے بھی آزمانا چاہئے چونکہ پیپلزپارٹی گراس روٹ لیول کی مؤثر جماعت ہے اور وہ امریکہ کی تزویراتی پارٹنرشپ کے تناظر میں موزوں جماعت بھی ہے۔ اُس عہد کے اخبارات کا مطالعہ کریں آپ کے سامنے یہ بات کھل جائے گی اور آپ کو سمجھ آجائے گا کہ کیسے پیپلز پارٹی کے اقتدار کا راستہ ہموار کیا گیا۔ ابتداء میں پیپلز پارٹی کا یہ ’’سودا‘‘ نہ بکا لیکن بالآخر امریکہ بینظیر بھٹو کی منطق کا قائل ہوا اور اُس نے جنرل مشرف کی ’’ڈاجنگ‘‘ سے بچنے کیلئے انہیں بینظیر بھٹو کیساتھ شراکت اقتدار کے مشورے دینا شروع کر دئیے۔ 2006ء کے بہار میں جارج ڈبلیو بش پاکستان آئے تو انہوں نے باضابطہ جنرل مشرف کے کان میں بینظیر بھٹو کے نام کی سرگوشی کی۔ بعدازاں جنرل صاحب اور بینظیر بھٹو کے مابین امریکہ نے ڈیل بروکر کی اور پیپلزپارٹی کو 2008ء میں پاکستان کا اقتدار نصیب ہوا۔ پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستانی مفادات کو کیسے اور کس طرح نقصان پہنچایا گیا یہ سب اب تاریخ کا حصہ ہے۔ حسین حقانی کی سفارت‘ بلیک واٹر کی پاکستان آمد اور پاکستان پر ڈرون حملوں کی بارش سمیت کئی اقدامات ایسے تھے جن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ اپنے ’’پاؤ گوشت‘‘ کیلئے کس طرح پاکستان کے ’’سالم بکرے‘‘ کو ذبح کر دیا گیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت میں دو قدریں مشترک رہی ہیں۔ پہلی یہ کہ کوئی قدم اٹھاتے ہوئے غیر ملکی طاقتوں کی خوشنودی کی بابت ضرور سوچتے ہیں۔ دوسری جب بھی یہ داخلی اعتبار سے پھنستے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ مخالف سٹینڈ لیتے ہیں تاکہ ایک طرف بیرون ملک یہ پیغام جائے کہ یہ دنیا کے ’’جمہوریت پسندوں‘‘ کی سوچ کیساتھ کھڑے ہیں جبکہ دوسری طرف اندرون ملک اپنے لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ ان کی معصوم قیادت پر سختیوںکی وجہ ان کے جرائم نہیں بلکہ ان کا اسٹیبلشمنٹ مخالف پالیسیوں پر سٹینڈ لینا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی خوب سوچ سمجھ کر یہ لائن لی ہے۔ اُن کے پاس ایک راستہ یہ تھا کہ وہ اپنے والد گرامی کے معاملات سے اظہارِ لاتعلقی کرتے لیکن انہوں نے آصف زرداری کو معصوم ثابت کرنے کیلئے اپنی سیاست اور مستقبل کو گروی رکھ دیا ہے۔ جب انہوں نے اپنی راہ کا انتخاب کر لیا تو ظاہر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف سٹینڈ لینے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی آپشن نہ تھا۔ اس اعتبار سے وہ نواز شریف کی راہ پر چل نکلے ہیں اور یوں دکھائی دے رہا ہے کہ انجام کے لحاظ سے بھی وہ ان کے ہم سفر ہی بنیں گے۔ جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین مقدمات میں اپنی بے گناہی ثابت کرنا آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں کیلئے بہت مشکل ہوگا لہٰذا بلاول کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بلکہ ریاست مخالف بیانات سے یہ گتھی سلجھنے کی بجائے اور الجھے گی۔ نواز شریف اینڈ کمپنی نے بھی اس مہم کا سہارا لیا تھا مگر ناکام رہے تھے۔ اپنی غلطیوںکا ملبہ اداروں پر ڈالنے کی بجائے اگر میرٹ پر مقدمات کو لڑنے کا فیصلہ کیا جاتا تو ملک اور پیپلز پارٹی دونوں کیلئے یہ بہتر ہوتا۔پاکستان نے افغان جنگ کے دوران ایک عرصہ اچھے اور بُرے طالبان کی تمیز روا رکھی جس پر گاہے تنقید ہوتی رہی لیکن موٹی سی بات سمجھنے والی تھی کہ ریاستوںکے اپنے مفادات ہوتے ہیں جن کو مدنظر رکھ کر شارٹ اور لانگ ٹرم پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ اگر ہم یہ کھیل نہ کھیلتے تو آج کیا طالبان اور امریکہ کے مذاکرات میں ہمارا کوئی کردار ہوتا؟ ریاستوں کے معاملات ایک پیچیدہ سبجیکٹ ہے یہاں دو جمع دو چار نہیں ہوتا اور نہ ہی اصولوںکا عالمگیر نفاذ ہوتا ہے۔ یار لوگ بحث کرتے ہیں کہ جو ہمارے ہاں اچھی نہیں وہ کارروائی دوسرے ملک میںکیسے اچھی قرار دی جا سکتی ہے۔ کاش تمام ملک اس طرح سوچتے اور دنیا امن کا گہوارہ بن جاتی۔ ہندوستان ہمیںکمزور کرنے کیلئے جو کچھ کرتا ہے کیا ہمیں اس کا توڑ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے؟ ہر ملک کو اپنے مفادات کے دفاع کا حق حاصل ہے تو پاکستان سے یہ حق کیسے چھینا جا سکتا ہے۔ میںنے بلاول بھٹو کے استدلال کے جواب میں بہت کچھ کہہ دیا ہے اور عقلمندوں کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ ہمارا واسطہ عجب قسم کی لیڈرشپ سے ہے جو اپنے ملک کی بجائے دوسروںکا بیانیہ پروموٹ کرتے ہیں۔ اپنے ’’پاؤ گوشت‘‘ کیلئے ریاست کا ’’سالم بکرا‘‘ قربان کرنے کی روش کے عادی سیاستدانوں میں بلاول زرداری ایک نیا اضافہ ہیں۔ پاکستان کا نہ پہلے کچھ بگڑا ہے اور نہ انشاء اللہ اب کچھ بگڑے گا۔

متعلقہ خبریں