Daily Mashriq


شہر بے مثال میں کانووکیشن

شہر بے مثال میں کانووکیشن

پشاور تو اپنی جنم بھومی ہے سو اس کا دل میں بسنا کوئی انہونی بات نہیں مگر ایبٹ آباد شہر شروع سے ہی رومان کا حصہ رہا ہے۔ اس شہر بے پناہ کی فضاؤں میں خداجانے کیا فسوں ہے کہ بس کوئی ایک بہانہ چاہئے ہوتا ہے اور پھر پرواز کیلئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اب تو یاد بھی نہیں کہ اس شہر بے مثال کے کتنے سفرکرچکے ہیں۔ اس شہر سے شناسائی اَسی کی دہائی میں کالج کے ایک ٹور میں ہوئی تھی منڈیاں کے ایک ٹیکنیکل کالج میں رہائش تھی۔ پورا ایک ہفتہ سپورٹس گالا میں گزارا تھا۔ پھر وہاں سے گلیات کا سفر جیسے فیری ٹیلز کے پس منظر جیسا تھا۔ اس وقت ایبٹ آباد ایسا گنجان نہ تھا کہ جیسا اب ہے جب شہر بھی پیارا لگے اور خوش قسمتی سے دلدار دوست بھی میسر آجائیں تو دوری بھی قربت جیسی ہی ہوجاتی ہے۔ دلاور خان، اشتیاق سرور، عالمزیب شاہ، قاضی سبحان، منیر احمد اور مشتاق احمد پروفیسروں کا ایک ایسا ٹولہ ہے کہ جن کی صحبت کسی ٹریٹ سے کبھی کم نہیں محسوس کی اور مہمان نوازی ایسی کہ بندہ نہال ہوجائے۔ آج پھر ایبٹ آباد شہر کے گنجان علاقے منڈیاں آنے کی دعوت تھی۔ پروفیسر دلاور خان بہت بڑے دل والا دلدار دوست ہے۔ وہ بلائیں اور کوئی نہ جائے کیسے ہوسکتا ہے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج منڈیاں ایبٹ آباد میں بی ایس پروگرام سے فارغ التحصیل طالب علموں کا دوسرا کانووکیشن تھا۔ معاملہ چونکہ تعلیمی سرگرمی کا تھا سو شارٹ نوٹس پر حامی بھر لی۔ منڈیاں کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول نے خود فون کرکے دعوت دی تھی۔ ادھیڑبن میں تھے کہ کیسے جائیں کہ اکیلے سفر سے جی گھبراتا ہے۔ سبیل یہ نکلی کہ سفر میں نصراللہ خان، عبدالحمیدآفریدی اور عتیق صاحب جیسے پروفیسروں کا ساتھ میسر آگیا۔ موٹر وے ہر حال میں کسی نعمت سے کم نہیں۔ ایبٹ کے سفر میں ہمیشہ ایک بات کھٹکتی ہے کہ ایوب خان سے لیکر سردار مہتاب عباسی اور سید صابر شاہ جیسے وزراء اعلیٰ کے علاوہ قومی سطح کے بہت بڑے بڑے سیاستدان ہزارہ سے گزرے ہیں لیکن کسی ایک کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ حسن ابدال سے ایبٹ آباد تک ڈبل سڑک بنائی جائے حالانکہ وہ خود بھی اسی سڑک پر سفر کرتے ہوں گے۔ اسی لئے تو یہاں کی ٹریفک بہت زیادہ ہیوی تصور کی جاتی ہے۔ اب موٹروے شاہ مقصود تک تو کھل گئی ہے اور مزید اگلے ٹول پلازوں تک جلد کھلنے کی امید ہے۔ خیر یہ تو سی پیک کی ضرورت تھی جس کا فائدہ سب کو ہوگا۔ شاہ مقصود تک کا سفر پروفیسر عتیق نے بڑی سہولت سے طے کر دیا لیکن اس سے آگے سلہڈ کی دشوار پہاڑیوں پر وہی ٹریفک کا اژدہام کہ اللہ کی پناہ۔ ہزارے کو ہزارہ اس کا موسم ہی بناتا ہے۔ بادل دکھی عورت کے آنسوؤں کی طرح فضا کی پلکوں پر دھرے رہتے ہیں کہ جب دل بھر آیا رم جھم کی چھاگل برسا دی۔ سلہڈ سے ہی ہلکی پھلکی پھوار ہمسفر ہوگئی تھی۔ منڈیاںکالج پہنچتے پہنچتے دیر ہوگئی تھی اور کانووکیشن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔ ہال میں ہماری مخصوص نشستیں ہنوز خالی تھیں۔ حیرت ہوئی کہ پاکستان میں خالی سیٹ پر کسی نے قبضہ نہ کیا۔ سٹیج پر پرنسپل ڈاکٹر غلام رسول، ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر سبحان اللہ شاہ اور ڈاکٹر افتخار احمد وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بیٹھے تھے۔ ہال کی سیٹنگ اور حاضرین سے اندازہ لگ گیا تھا کہ بہت پروقار تقریب ہے اور ہو بھی کیوں نہ۔ کسی بھی ادارے کیلئے اس کی پراڈکٹ ہی اہم ہوتی ہے جیسے کوئی کسان جب اپنی پکی ہوئی فصل کو اُٹھاتا ہے۔ اسی طرح کسی تعلیمی ادارے کیلئے اس کے طالب علموں کا پاسنگ آؤٹ ہونا فخر اور انبساط کا حوالہ ہوتا ہے۔ آج والدین کو سولہ برس کی انتھک محنت کا ثمر انہیں ان کے بچوں کی کامیابی کی صورت میں مل گیا تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سبحان اللہ شاہ نے بہت خوب بات کی کہ آپ یہاں سے فارغ التحصیل ہوکر جا رہے ہیں لیکن آپ نے آگے جاکر میدان عمل میں اس ڈگری کی لاج یوں رکھنی ہے کہ اپنے کام سے لوگوں کو متاثر کرنا ہے اور اپنے اخلاق سے اپنے ادارے کا نام روشن کرنا ہے۔ وی سی صاحب کی ایک بات جو مجھے اچھی لگی کہ وہ بہت جلد بی ایس میں ایسوسی ایٹ ڈگری کا نوٹیفکیشن کرنے والے ہیں ۔میرا بی ایس کا تھوڑا بہت تجربہ یہ کہتا ہے کہ ٹیکسٹ بک کی بجائے ریفرنس بکس کی اہمیت زیادہ ہے۔ ٹیکسٹ بکس کی اہمیت بس اتنی ہوسکتی ہے کہ طالب علم امتحان پاس کرلے جبکہ ریفرنس بکس سے طالب علم کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے۔ بی ایس کی تعلیم صوبہ خیبر پختوا کا ایک انقلابی قدم ہے جو کالجوں کی سطح پر بڑی کامیابی کیساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ آٹھ سمسٹروں کی پڑھائی پر پچاس ہزار کے قریب خرچہ آجاتا ہے اور بچہ سولہ سال کی ڈگری حاصل کرلیتا ہے۔ اس پہ مستزاد یہ کہ گھر سے بہت قریب اسے یونیورسٹی لیول کی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت میسر آجاتی ہے۔ خاص طور پر بچیوں کیلئے بی ایس کالجز کسی بھی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ میں منڈیاں کالج میں بھی اپنی بیٹیوں کو ڈگریاں وصول کرتے دیکھ کر خوشی سے نہال ہورہا تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول جیسے بہترین ایڈمنسٹریٹر کی خوشی اس دن دیدنی تھی۔ وہ اپنی بہترین پراڈکٹ سماج کو سونپ رہے تھے۔ میں بھی فخر محسوس کررہا تھا کہ میں بھی ہائرایجوکیشن کا ایک ادنیٰ سا سہی حصہ ضرور ہوں۔ خوبصورت موسم، خوبصورت کیمپس، خوبصورت دوست اور ایک شاندار تقریب، زندگی کا ایک شاندار تجربہ لیکر واپس پہنچے تو کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں ہورہی تھی کہ شوق تھکاتا نہیں بلکہ تر وتازہ کر دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں