Daily Mashriq


پرویز مشرف پر بنی فلم ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی نمائش

پرویز مشرف پر بنی فلم ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی نمائش

پاکستان کے سابق صدر اور ریٹائرڈ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے، ان کی جانب سے ایک دہائی تک حکومت کرنے اور ان کی جانب سے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں ہونے والے مسائل پر بنی دستاویزی فلم ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی پہلی بار کراچی میں خصوصی نمائش کی گئی۔

’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کو محمد علی نقوی نے 2013 سے قبل بنایا تھا اور اسے متعدد عالمی فلم فیسٹیول میں پیش کیا جا چکا ہے۔

دستاویزی فلم سابق صدر و (ر) آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے انٹرویوز سمیت سابق وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر سیاسی و سابق حکومتی عہدیداروں کے حقیقی انٹرویوز شامل ہیں۔

دستاویزی فلم کا مرکزی کردار پرویز مشرف ہی ہیں اور اس میں ان کی دور حکومت سمیت ان کی جانب سے عوامی حکومت کا تختہ الٹنے اور پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی جیسے معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ڈاکیومینٹری فلم میں نواز شریف کے مختلف ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویوز کی کلپس شامل کی گئی ہیں، جب کہ دستاویزی فلم میں میڈیا اور عام لوگوں سے اوجھل سیاسی حقائق کو بھی دکھایا گیا ہے۔

دستاویزی فلم میں 1990 کے بعد ابھرتے ہوئے کراچی اور وہاں ہونے والے نسلی فسادات کی جھلک بھی دکھائی گئی اور ملک میں مشکلات اور مسائل میں پلتی اور آگے بڑھتی جمہوریت کو دکھایا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع تھا کہ فلم کی کراچی کی سینما میں خصوصی نمائش کی گئی۔

’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی خصوصی اسکریننگ کراچی کے کیپری سینما میں گوئتھے انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے کی گئی۔

’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی اسکریننگ گوئتھے انسٹی ٹیوٹ کے تین دستاویزی فلم کی نمائش کا حصہ تھی اور اس فلم سے قبل دیگر 2 ڈاکیومینٹریز عوام کو دکھائی گئیں۔

’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ سے قبل ’گھنگھرو‘ اور ’گندا نالا‘ بھی پیش کی گئیں، جنہیں ناظرین نے سراہا۔

’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی اسکریننگ کے موقع پر فلم ساز محمد علی نقوی بھی موجود تھے اور انہوں نے فلم کی نمائش سے قبل ناظرین سے خطاب بھی کیا اور فلم کی تیاری سے متعلق پیش آنے والے مسائل پر بھی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے فلم بنانے سے قبل ہی فیصلہ کیا تھا کہ انہوں نے سب سے بہترین دستاویزی فلم بنانی ہے، اس لیے ہی انہوں نے فلم میں صرف پرویز مشرف پر تنقید نہیں کی بلکہ ان کے اچھے کارنامے اور فیصلے بھی شامل کیے۔

فلم دیکھنے کے لیے آنے والے متعدد افراد نے اس کی تعریف بھی کیا اور بتایا کہ انہیں فلم دیکھ کر ملکی جمہوریت سے متعلق بہت ساری باتیں پتہ چلیں۔

ایسے ہی شائقین میں فاطمہ نامی خاتون بھی تھیں جو ایک گھریلو خاتون ہیں اور انہیں نے اعتراف کیا کہ انہیں جمہوریت اور سیاست سے متعلق اتنا علم نہیں تھا لیکن ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ دیکھنے کے بعد انہیں کافی باتیں سمجھ آئیں۔

متعلقہ خبریں