Daily Mashriq


نافع قانون سازی

نافع قانون سازی

خیبر پختونخوااسمبلی کی جانب سے صوبہ بھر میں نجی تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرے میں لانے کیلئے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی بل کی متفقہ منظوری ایک بڑا قدم ہے جس کے عوام طویل عرصے سے منتظر تھے ۔ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی بل کے مطابق نجی سکول فیسوں میں اضافہ کیلئے اتھارٹی سے منظوری لینے کے پابندہوںگے۔ ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس رجسٹریشن نہ کروانے والے کسی سکول کوکام کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی خواہ اس کاالحاق کسی ملکی ادارے سے ہویابیرونی ادارے سے ہو۔ ریگولیٹری اتھارٹی رجسٹریشن کے بغیر چلائے جانے والے ہائی ، ہائیرسیکنڈری سکول اور کالجز کو دو لاکھ روپے جرمانہ جبکہ مونٹیسوری ، پرائمری ، مڈل سکول اور ٹیوشن اکیڈمی کو 50ہزار روپے جرمانہ کرسکے گی ۔اتھارٹی معیارکے مطابق سکولوں کی درجہ بندی کرے گی اسی درجہ بندی کے مطابق فیسوں کا تعین کیاجائے گا۔ تعلیمی بورڈز میںبھی صرف انہی سکولوں کو رجسٹرڈکیا جائے گا جو ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس رجسٹرڈ ہوںگے۔ ریگولیٹری اتھارٹی نصاب کابھی جائزہ لے گی۔اتھارٹی سکولوںمیں چھٹیوں ، غیر نصابی سرگرمیوں ،اکیڈمک شیڈول اور دیگر امورپربھی نظررکھے گی ۔اسی طرح ضلعی سطح پر سکروٹنی کمیٹیاں بھی بنائی جائیں گی جو وقتاً فوقتاً نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے رپورٹ محکمہ تعلیم اور حکومت کو ارسال کرتی رہیں گی۔اتھارٹی کے رولزکی کسی ایک شق کی بھی خلاف ورزی پر 25ہزار روپے جرمانہ یا سکول کو بندکیا جا سکے گا ۔ پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی فنڈ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا جس کوحکومت گرانٹ فراہم کرے گی ۔محکمہ تعلیم کے پاس نجی سکولوں کے خلاف کارروائی کے لئے موثر قوانین کے تحت اختیارات نہ ہونے سے یہ شعبہ شتر بے مہار کی صورت من مانی اور استحصال کا بڑا ذریعہ بن گیا تھا۔ نجی سکول و کالج و یونیورسٹی کا قیام تعلیم برائے تجارت اور نہایت منافع بخش تجارت کی صورت اختیار کر گیا تھا جس کے باعث بڑے بڑے سرمایہ کار بھی اس جانب راغب ہوئے جبکہ نجی سکولوں کا کاروبار اتنا منافع بخش ثابت ہوا کہ معروف سکولوں کی کئی کئی شاخیں کھلیں۔ کالجز اور یونیورسٹیاں تک بنیں۔ اگر قوانین اور عدالتی احکامات کی پرواہ کی گئی ہوتی اور ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر ان کو ڈرنہ ہوتا تو اس کی بھرپور مخالفت نہ کی جاتی۔ اگر دیکھا جائے تو صرف نجی تعلیمی اداروں پر کیا موقوف سرکاری یونیورسٹیوں میں آسامیاں مشتہر کرکے دو سے پانچ ہزار روپے امیدواروں سے فیس جمع کرائی جاتی ہے۔ بعض اوقات تو فیس وصولی کے باوجود ٹیسٹ و انٹرویو کے انعقاد کی بھی زحمت گوارا نہیں کی جاتی اور استفسار پر عذر تراشا جاتا ہے کہ متعلقہ اتھارٹی نے منظوری نہ دی گویا متعلقہ اتھارٹی کی منظوری سے قبل یا پھر فنڈز اکٹھا کرنے کے لئے جعلی یا پھر غیر یقینی آسامیوں کا اشتہار دے دیا جاتا ہے۔ امیدوار درخواستوں کے ساتھ رقم جمع کرتے ہیں متعلقہ یونیورسٹی کو لاکھوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ جامعہ پشاور میں ایک سیشن کے طالب علموں سے کانووکیشن کے لئے غالباً دو دو ہزار روپے فی طالب علم فیس وصولی کی گئی مگر تین چار سال گزر گئے کانووکیشن کا انعقاد نہیں ہوا۔ جب تعلیمی نظام میں طالب علموں اور لیکچررز اسسٹنٹ پروفیسرز ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور پروفیسروں کی آسامیوں کو بھتہ وصولی کاذریعہ بنا دیا جائے گا تو معیار اور شفافیت کی تعلیم کہاں سے ملے اور میرٹ کی توقع کس سے رکھی جائے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے صوبہ بھر میں نجی تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرہ اختیار میں لاتے ہوئے ان کے نصاب کی نگرانی، فیس کا تعین کرنا، رجسٹریشن اور ریگولیٹ کرانے کیلئے '' ریگولیٹری اتھارٹی'' قائم کرنے کی منظوری احسن اقدام ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ اس امر کی ضرورت مدت سے محسوس کی جا رہی تھی اور عوام کی جانب سے اس امر کا بار بار مطالبہ کیا جا رہا تھا مگر تعلیم کی تجارت سے وابستہ مافیا اس کی راہ میں حائل تھا۔ موجودہ حکومت چاہتی تو شتر بے مہار نجی تعلیمی اداروں کو لگام دینے میں اتنی تاخیر نہ ہوتی۔ بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اس امر کا انتظار کیاجانا چاہئے کہ اتھارٹی اپنے قیام کے بعد ایسے کیا موثر اقدامات کرتی ہے کہ طلبہ اور والدین کو ریلیف ملے اور نجی سکولوں میں استحصال کا عمل رک جائے۔صوبائی حکومت کے علم میں یہ بات ضرور ہوگی کہ صوبے کے نجی تعلیمی اداروں میں عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے احکامات کے باوجود بہن بھائیوں کے ایک ہی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم ہونے پر فیسوں میں رعایت پر سرے سے عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ عوام بار بار عدالت سے رجوع نہیں کرسکتے اور کسی ریگولیٹری اتھارٹی کے نہ ہونے کے باعث شکایت کے لئے کوئی موزوں فورم بھی نہیںتھا۔جن سکولوں میں طالب علموں سے ہزاروں روپے کی فیسیں وصول کی جاتی ہیں وہاں مطلوبہ معیار کی سہولتیں ہی نہیں بلکہ وہاں کے اساتذہ کو واجبی تنخواہ پر رکھا جاتا ہے اور ہر سال پرانے اساتذہ کو رخصت کرکے نئے اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں۔ ایسے تعلیمی اداروں میں معیار اور تدریس و تعلیم کا کیا عالم ہوگا اس کا اندازہ کچھ مشکل نہیں۔ مسائل تو بہت ہیں مگر ان کو حل کرنے والا کوئی نہیں۔ ان دنوں بھی نجی تعلیمی ادارے دو دو ماہ کی فیسیں یکمشت وصول کر رہے ہیں مگر ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام جن مقاصد کو سامنے رکھ کر گیا ہے فی الوقت اس پر عملدرآمد کافی متصور ہوگا جبکہ وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے حالات شکایات اور تجاویز کی روشنی میں ریگولیٹری اتھارٹی کو کارروائی یقینی بنانا ہوگی۔ نجی سکول مالکان کے جو مطالبات جائز اور حقیقی ہوں ان کو بھی حل کیا جانا چاہئے مگر فی الوقت جس طرح یکطرفہ ٹریفک جاری ہے اور والدین جس طرح سر جھکا کر نجی سکولوں کی ہر کڑی سے کڑی شرط تسلیم کرنے اور ان یکطرفہ شرائط نامے پر آنکھیں بند کرکے دستخط کرکے بچوں کو داخل کرانے پر مجبور ہیں اس میں فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بعض سکولوں میں تو اس طرح کے عملے سے واسطہ پڑتا ہے جیسے کسی طالب علم کے کسی کام کے سلسلے میں ان سے رجوع نہیں کیاگیا بلکہ ملزم کو کٹہرے میں لا کھڑا کیاگیا ہو۔ طالب علم کے کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں داخلے کے لئے کسی فارم پر دستخط لینا ہو یا سیکورٹی فیس کی وصولی اور سکول چھوڑنے کی سند کے اجراء جیسے امور میں تذلیل پر مبنی رویہ اختیار کیاجاتا ہے لیکن اکثر نجی سکولوں میں ایسا نہیں یہ ان سکولوں میں دیکھا گیا ہے جو کسی یونیورسٹی یا ادارے سے منسلک ہوتے ہیں چونکہ اب تک شکایات سننے کا کوئی موزوں فورم نہیں تھا اس لئے مسائل بھی سامنے نہیں آئے تھے اب جبکہ ریگولیٹری اتھارٹی بن گئی ہے تو مسائل و شکایات بھی سامنے آئیں گی اور ان کے حل کی بھی امید ہے۔

متعلقہ خبریں