Daily Mashriq


پاک فوج کے سربراہ کی بھارت کو تنبیہہ

پاک فوج کے سربراہ کی بھارت کو تنبیہہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ پائیدار امن چاہتے ہیں ،ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے ،سرحدوں پر کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔آرمی چیف نے فوج کی آپریشنل تیاریوں ،مورال اورخاص طور پر بھارت کی جانب سے حالیہ سرحدی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر موثر جواب دینے پر تعریف کی ۔مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں نے ایک مرتبہ پھر پوری قوت سے بھارتی جبر و استبداد کو للکارا ہے تو بھارت خفت مٹانے کے لئے سرحدی کشیدگی پیدا کر رہا ہے جس سے رفتہ رفتہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آرہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ دو ایٹمی ممالک میں تصادم ہوگا اور خطہ سمیت دنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے پاکستان میں افغانستان اور دیگر ممالک سے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے بلوچستان میں بالخصوص حالات کو خراب کرنے کی جو کوششیں کی گئیں کراچی کو مرکز فسادات و قتل و غارت گری بنا دیاگیا۔ قبائلی علاقوں میں اس کے نیٹ ورک نے ملک دشمن عناصر کی دستگیری کی مگر تمام مقامات پر ناکامی کے بعد بھارت نے بالآخر لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری آئے روز کا معمول بنا لیا ہے جس کا ہمارے شیر دل جوان مسکت جواب دے رہے ہیں۔ بھارتی جارحیت کا بڑا مقصد اور ہدف سی پیک کا راستہ روکنا ہے اور اس معاملے پر جنگ کے خطرات سے بھی صرف نظر ممکن نہیں۔ ہم بھارت کا راستہ اسی وقت روک سکتے ہیں جب ہم بحیثیت قوم ایک مٹھی بن جائیں۔ داخلی تضادات اور سیاسی اختلافات کو ایک حد تک رکھیں اور جہاں ملک و قوم اور پاکستان کے وقار کی بات آئے وہاں ہم متحدہ قوم کی طرح کھڑے ہوں۔ ہمارے پاس دفاعی طاقت مضبوط فوج اور قربانی دینے والی قوم تو موجود ہے اگر کمی ہے تو اتحاد و اتفاق کی یہ نعمت بھی ملے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں آنکھیں نہیں دکھا سکتی۔

آزادی اظہار مگر حد کے اندر رہتے ہوئے

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مادر پدر آزاد سوشل میڈیا کو ناقابل قبول قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس ہستیوں، فوج اور عدلیہ پر تنقید کرنے والا اگر ن لیگ سے بھی ہوگا تو کارروائی کی جائے گی۔سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کی حمایت نہیں کی جاسکتی لیکن اسے شتر بے مہار چھوڑ دینے کی بھی گنجائش نہیں۔ سوشل میڈیا میں ایک خاص نکتہ نظر کے حامل افراد کا پروپیگنڈہ عرصے سے جاری ہے جس کی روک تھام شاید خواہش کے باوجود ممکن نہ تھی مگر رفتہ رفتہ آزادی اظہار کے حق کا ایسا استعمال ہونے لگا کہ سر شرم سے جھک گئے اور عقیدے کی توہین ناقابل برداشت ہوگئی اس درجے کی آزادی کی حمایت نہیں کی جاسکتی جو نفرت تعصب اور تصادم کا باعث بنے۔ ملکی سیاسی جماعتوں کے بعض سرگرموں کی طرف سے بھی سوشل میڈیا کو مخالفین کی کردار کشی کے لئے منظم طریق سے استعمال کرنے کا مقابلہ بھی قابل قبول امر نہ تھا۔ سوشل میڈیا کے منہ زوروں کو جہاں لگام دی جائے وہاں سیاسی جماعتیں بھی اپنے میڈیا سیلز کی اصلاح اور دائرہ اخلاق کو یقینی بنائیں اور خواہ مخواہ کے نفرت کے سودا گروں کو روکا جائے جو فساد فی الارض اور تضحیک کا باعث ہوں۔

متعلقہ خبریں