Daily Mashriq


داعش اور مغربی دنیا کے مدبرین

داعش اور مغربی دنیا کے مدبرین

مانچسٹر کے ارینا میں موسیقی کی محفل میں بم دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ اس خود کش حملے میں بچوں سمیت 22افراد ہلاک اور 50کے قریب زخمی ہوئے۔ گریٹر مانچسٹر پولیس چیف ایان ہوپکنز کا کہناہے کہ یہ دھماکہ ایک شخص نے کیا تھا جو خود بھی ہلاک ہو گیا۔ ہم پاکستان میں رہنے والے بھی ایک عرصے سے دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں ۔ ہمارا بچہ بچہ یہ بات سمجھتاہے کہ خود کش حملہ محض ایک شخص نہیں کرتا ۔ کوئی اس کے لیے دھماکہ خیز مواد مہیا کرتا ہے ۔ کوئی اس کے لیے خودکش جیکٹ تیار کرتا ہے ۔ کوئی اسے ٹھکانے تک پہنچاتا جہاں خود کش بمباری کی تیاری کی جاتی ہے ۔برطانوی پولیس کب اس نیٹ ورک تک پہنچتی ہے اس کا انتظار رہے گا ۔ یورپی ممالک میں داعش کا تعارف عرصہ سے ہے۔ سال ڈیڑھ پہلے اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی تھی کہ یورپی ملکوں سے ہر ہفتہ سات ، آٹھ ، دس نوجوان شام کی طرف سفر کرتے ہیں جہاں وہ داعش کے عناصر میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے داعش کے قائدین جیسی ترغیبات کی پیش کش کرتے ہیں ان کی شہرت بھی مغربی میڈیا میں کافی ہے۔ اور اس مبینہ اعلان کو بڑی شہرت حاصل رہی ہے کہ نوجوان جب چاہیں داعش میں شامل ہونے کے لیے آئیں جب تک چاہیں داعش کی جنگ میں شرکت کریں اور اگر چاہیں تو اپنے وطن واپس چلے جائیں اور وہاں داعش کے مراکز قائم کریں۔ ایک اور بات بھی ہم ایسے ممالک کو مغربی میڈیا ہی سے معلوم ہوئی ہے کہ یورپ سے داعش کے لیے جانے والے مسلمان تارکین وطن نہیں بلکہ مسلمان تارکین وطن کی اولادیں ہیں ۔ آخر یہ شخصی آزادیوںاور بنیادی آسائشوں والے مغربی ملکوں میں پرورش پانے والے نوجوان کیوں اپنی زندگیاں داؤ پر لگانے کے لیے شام اور عراق روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس سوال پر اگر غور کیا جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مغربی معاشرے اپنے افراد کو بنیادی آسائشیں اور انفرادی حقوق دیتے ہیں لیکن دنیا کے دوسرے ممالک کے شہریوںکو ان حقوق کا مستحق نہیں سمجھتے جن کے ساتھ ان تارکین وطن کی اولادوں کے دینی اور ثقافتی رشتے ہیں ۔مغربی ممالک کا میڈیا وسائل سے مالا مال ہے۔ ہمارے ایسے ملکوں کے میڈیا کو خبریں مغربی میڈیا سے ملتی ہیں۔ داعش کا تعارف ایک نہایت سفاک اور غیر انسانی سوچ کی حامل تنظیم کا ہے اور میڈیا اس کے قابل یقین شواہد بھی پیش کرتا ہے ۔ یہ سفاکیت اور غیر انسانی رویہ داعش کا نقطۂ نظر ہے یا حکمت عملی یہ داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی اور ان کے نائبین ہی بہتر جانتے ہوں گے۔ لیکن یہ سوچا جا سکتا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں سفاکیت کا مظاہرہ انسانی ذہنوں میں ایک سوال کو قائم کرنے کے لیے کرتی ہیں کہ عام لوگ یہ سوچیں کہ دہشت گردی کی وجہ کیا ہے۔ کیوںبعض لوگ اپنے جسموں پر بم باندھ کر انسانی اجتماعات میں پھٹ جاتے ہیں اور انسانوں کے قتل کا باعث بنتے ہیں۔ عموماً دہشت گرد تنظیمیں یہ سوال اُٹھانے اور اس سفاکیت کا جواز فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ لیکن معاشروں کے اہل تدبر کو اپنے رویوں اور فیصلوں پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ گزشتہ چند عشروں کے دوران امریکہ نے افغانستان اور عراق میں جو دو جنگیں جیتی ہیں ان کے اثرات قابلِ غور ہونے چاہئیں۔ افغانستان پر روسی قبضہ کے خلاف مسلمان نوجوانوں کو جس نے منظم اور مسلح کیا ۔ سوویت فوجیں کچھ سوویت روس کی قحط سالی اور کچھ دوسری وجوہ کی بنا پر پسپا ہوئیں ۔ لیکن ان نوجوانوں کو جنہیں قابض روسی فوج کے خلاف گوریلا جنگ کے لیے مسلح اور منظم کیا گیا تھا، کسی روزگار اور کسی مستقبل کی امید کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ افغانستان میںطویل خانہ جنگی ہوئی ۔آج تک افغانستان غیر مستحکم ہے ۔ عراق میں بصرہ میں کچھ مزاحمت ہوئی اس کے بعد بصرہ سے امریکی ٹینک بغداد تک بغیر مزاحمت کے چلے گئے اور بغداد پر قبضہ ہو گیا۔ صدام حسین کی فوج کہاں گئی؟ اس کی ایک ایلیٹ فورس تھی جو بہترین تربیت اور اسلحہ سے مسلح تھی اس کا کیا بنا۔ یہ لوگ منتشر ہو کر کہاں گئے ، انکا ذریعہ روزگار کیا ہوا۔ عراق کی صورت حال میں اب تک امن نہیں آیا۔ آیا اس سوال پر غور کیا گیا ہے کہ کیا انہی عناصر میں سے چند کی اطاعت ابوبکر البغدادی کو حاصل ہے۔ داعش کے خلاف جنگ عراق اور شام میں ہو رہی ہے اس کے باوجود داعش ایک خفیہ تنظیم کے طور پر دنیا میں پھیلتی جارہی ہے اور اپنا وجود دہشت گردی کے ذریعہ منوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس صورت حال میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ایک کامیاب بزنس مین ہیں امریکہ کے اسلحہ ساز اداروں اور دیگر صنعتوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے عرب اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے 360ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ اور دہشت گردی کا فوکس ایران کی طرف موڑ دیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے داعش اور القاعدہ کو بھی خطرہ قرار دیا ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ایران دہشت گردی کا سرچشمہ ہے۔ ایک طرف داعش کے خلاف امریکہ روس کا اتحادی ہے جو داعش ہی کے خلاف ایران کا بھی اتحادی ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے ایران کو دہشت گردی کا سرچشمہ قرار دے کر عرب اسلامی فوج کے لیے اسلحہ کی فراہمی کا بندوبست کیا ہے۔ جو سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں سے 29ممالک پر مشتمل ہے۔ اس طرح ایک طرف مسلمان دنیا میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگ جاری ہے دوسری طرف عرب اسلامی فوج جسے عرب نیٹو بھی کہا جارہا ہے اس کے لیے امریکی اسلحہ کی فراہمی کا بندوبست کر لیا گیا ہے۔ یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیایہ فوج یمن اور لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ عناصر کے خلاف لڑے گی ۔ مسلمان دنیا میں ایک کی بجائے دو محاذ ہو جائیں گے۔ اس سب کچھ کی انسانی قیمت کیا ہو گی ۔ کہاں لوگ اچانک مریں گے اور نوجوانوں کی عدل کی بنیاد پر عالمی معاشرے میں زندگی کی جستجو انہیں کس طرف لے جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں