Daily Mashriq


جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ریاض کانفرنس میں 9/11 کے بعد مسلمانوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ بڑا ہاتھ ہوگیا اور ہم سب مسلمان بالخصوص سعودی عرب' ایران اور پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے۔ امریکہ تو کرشمہ ساز ہے اسی امریکہ نے انقلاب ایران کے بعد خوامخوا کی مخالفت' مخاصمت اور یہاں تک کہ ایران پر ایک دفعہ فضائی حملہ بھی کیا۔ ایران کی پوری پارلیمنٹ دھماکے سے اڑا گئی۔ لیکن ایران کی سخت جان ہی تھی جو ابھی تک بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ پھر کئی عشروں تک اقتصادی و معاشی پابندیاں عائد کروا کر ایرانی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا یا گیا۔اگرچہ ایران سے بھی ابتداء میں غلطیاں ہوئی ہیں۔ بجائے اس کے کہ انقلاب کے بعد اپنے اندرونی حالات کو مستحکم و منظم کرتے اس نے انقلاب کو برآمد کرنے بالخصوص پڑوسی عرب ممالک میں برآمد کرنے کی باتیں شد و مد کے ساتھ شروع کیں جس سے خلیجی ممالک جو پہلے ہی امریکی چھتری تلے زندگی اور اقتدار کے دن گزار رہے تھے اور بھی سمٹ کر ان کی پناہ کی ضرورت محسوس کی۔9/11 کے بعد ''عرب بہار'' نے اسلامی دنیا میں ایک عجیب اور ابہامات سے پر صورتحال پیدا کی۔ یہ بہار عرب خزاں میں تبدیل ہوئی تو عراق' لیبیا اور مصر جیسے مستحکم عرب ممالک انارکی اور انتشار کا شکار ہوگئے۔ یہ بیماری جب یمن پہنچی تو سعودی عرب اور ایران دونوں اپنے اپنے پیادوں اور شہ سواروں کی پشت پر کھڑے ہوگئے اور یہیں یہ تازہ واردات شروع ہوئی جو اس وقت تک جاری ہے۔اس دوران ہونا تو یہ چاہئے کہ او آئی سی( O.I.C) آگے بڑھ کر امت مسلمہ کے ان مسائل کو عدل و انصاف کے ساتھ حل کرنے کے لئے کردار ادا کرتی۔ لیکن چونکہ وہ تو ہر ایسے مقام پر اوہ۔ آئی۔ سی (Oh! I See) میں بدل جاتی ہے۔ لہٰذا معاملات خراب سے خراب ہوتے چلے گئے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے۔ اس کے پیچھے شاید تاریخی عوامل و عناصر کا بھی ایک اہم کردار ہے اور کہیں دور سہی شاید عجم و عرب کی بو بھی وقتاً فوقتاً محسوس ہو ہی جاتی ہے۔ لیکن ان دونوں کی مخالفت اور اب دشمنی میں پاکستان بے چارہ سخت مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ ایک طرف تیل اور ریال و درہم والے شیوخ ہوتے ہیں جن کو ناراض کرنا کسی پاکستانی صاحب اقتدار کے لئے ممکن نہیں ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ ہر گرم سرد میں وہ پاکستان کی مشکلات حل کرنے میں ہاتھ بٹاتے رہے ہیں۔

لیکن سعودی عرب کے ساتھ ایک اضافی عامل حرمین الشرفین کا بھی ہے۔ دوسری طرف ایران جو پڑوسی ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ اگرچہ اتار چڑھائو انقلاب کے بعد آتا رہا ہے لیکن ایران نے پاکستان کا دل جیتنے کے لئے ایسا کردار ادا نہیں کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط تعلقات استوار ہوتے۔ کبھی پاکستان کو تیل' گیس اور بجلی وغیرہ کی فراہمی میں ایک مخلص دوست اور پڑوسی کی طرح سر گرمی نہیں دکھائی جبکہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے پڑوسی ایران کے مفادات کا خیال رکھا ہے۔ اب جبکہ ریاض کانفرنس میں امریکہ اور سعودی عرب نے مل کر ایران کے خلاف محاذ بنا لیا ہے اور پاکستان کو بھی کھینچ کر وہاں حاضری لگانے کے لئے لا کھڑا کیا ہے تو یہ بالکل غلط ہے۔ پاکستان کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا کہ ہم کسی بھی اتحاد میں کسی اسلامی ملک بالخصوص اپنے پڑوسی ایران کے خلاف کسی صورت اور کسی طرح کھڑے نہیں ہوں گے۔ ہاں سعودی عرب کے دفاع کے لئے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔امریکہ کے باراک اوباما نے ایران کے ساتھ نیو کلیئر ڈیل کرکے اس کے منجمد اثاثے واگزار کرا کر اور پابندیوں میں ترقی کرکے سعودی عرب کو خوف میں مبتلا کیا اور ٹرمپ نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے دلوں میں ایرانی خوف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب خوب استعمال کرنے کے لئے ریاض کانفرنس میں ایران کو جس طرح دہشت گردی برآمد کرنے اور اس کے نتیجے میں تنہا کرنے کا اعلان کیا اور بھارت کو جو مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا گزشتہ دو عشروں سے ارتکاب کر رہا ہے مظلوم قرار دیا۔ یقینا وہی بات ہے کہ '' جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے''۔ ہر ملک اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ ایران کے بھی عراق ' یمن ' شام اور کہیں اور مفادات ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب اور پاکستان کے بھی ہوں گے۔ لیکن خدارا! یہ کیسے مفادات ہیں جس کے تحفظ کے نتیجے میں سینکڑوں ارب ڈالر امریکہ کی جیب بلکہ جھولی میں جا گرے ہیں۔بجائے اس کے کہ پاکستان بجائے اس کے کہ ریاض کانفرنس میں ''پھرتا ہے میر خوار کوئی پوچھتا نہیں'' مسلمان ملکوں کے درمیان غیر جانبدار رہ کر بھلائی اور صلح و آشتی کے لئے کردار ادا کرے ،کیا بہتر نہ ہوگا۔ ایران کو بھی چاہئے کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کے مسئلہ پر اتحاد کرے پاکستان کو مٹھی میں لے کر ایسے اتحادوں سے نکالنے میں کردار ادا کرے جو سارے اسلامی ملکوں کے لئے فائدہ مند تو کیا دور رس مضر وخطرناک اثرات کے حامل ہیں۔ ایران پاکستان کو اور پاکستان ایران کو خلوص کے ساتھ اعتماد میں لے اور ترکی' ایران پاکستان ایک دفعہ پھر آر سی ڈی جیسی تنظیم کے ذریعے آگے بڑھیں کیونکہ امریکہ صرف اور صرف اپنے مفادات اور اسرائیل کا دوست اور اسیر ہے۔ ٹرمپ نے یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے اور نیتن یاہو اور اس کی بیگم کی جو بلائیں لی ہیں مسلمان ممالک پھر امید رکھتے ہیں کہ امریکہ سے امت مسلمہ کو خیر ملے گی؟۔

متعلقہ خبریں