Daily Mashriq


گرم جوشی سے مصافحہ شاندار سفارتی کامیابی

گرم جوشی سے مصافحہ شاندار سفارتی کامیابی

کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر عالمی عدالت انصاف کے حکم امتناع کو اگر بھار ت میں عظیم سفارتی کامیابی قرار دیا جارہا ہے ،تو ہم بھی سعودی عرب میں اسلامی سربراہ کے کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا ہمارے وزیر اعظم سے گرم جوشی سے مصافحہ بہت بڑی سفارتی کامیابی سمجھتے ہیں جس پر پاکستانی قوم کو بجا طور پر فخر ہے ۔ امریکہ کے صدر نے کانفرنس میں جس سکون تحمل اور اپنی روایتی مسخر گی سے ہٹ کر جو تقریر فرمائی ، اُس میں انہوں نے بھارت کو دہشت گردی سے متاثرہ ملکوں میں شامل کر کے سفارتی کامیابی کا ایک دو سرا تمغہ بھی اُن کے سینے پر ٹانک دیا ۔ تقریر میں ٹرمپ نے جھوٹے منہ بھی پاکستان کا ذکر تک نہیں کیا ۔ حالانکہ پاکستان عالمی دہشت گردی کے نشانے پر واحد ایک ایسا ملک ہے جس نے اس جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔ 50ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہزاروں کی تعداد میں فوجی جوان کام آئے ۔ لاکھوں افراد اپنے آبائی علاقوں کوچھوڑ نے پر مجبور ہوئے ۔ دہشت گردی کے واقعات اب بھی ہو رہے ہیں مزاروں پر زائرین کو خودکش حملوں میں اڑایا جا رہا ہے ۔ کوئٹہ میں وکلاء کی ایک پوری نسل دہشت گردی کی لپیٹ میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے نامور سیاسی رہنما اس آگ کی نذر ہو چکے ہیں مستونگ میں بے گناہ مزدور ، گولیوں کا نشانہ بنائے جارہے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف متحدہ محاذ بنانے نکلے ہیں انہوں نے مسلمان ممالک کو اسرائیل کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھنے کا مشورہ بلکہ حکم دیا ہے ان کی تقریر میں دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی بے مثال قربانیوں کا ذکر نہ کرنا بالکل پشتو کے ایک ایسے محاورے کی عکاسی کرتا ہے جسکا ہم بوجوہ یہاں ذکرکرنا نہیں چاہتے ۔ اسکا سادہ اور بے ضرر مفہوم کچھ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ میں تمہیں تھپڑ بھی مارتا رہو نگا اور تمہارے تھپڑزدہ سرخ چہرنے کا مذاق بھی اڑائوںگا۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ جن کے بیانات کے توپوں کا رخ ہمیشہ عمران خان کی جانب ہوتا ہے پہلی بار انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر پر ایک حقیقت لہٰذا رد عمل ظاہر کیا ہے فرماتے ہیں کہ امریکی صدر نے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی اور ایران کے خلاف بیان دے کر میزبان ملک اور اپنے ملک کے خلاف مشکلات پیدا کیں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کسی اسلامی ملک کے خلاف اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔ ایران ہمارا بہترین اسلامی دوست اور ہمسایہ ہے۔ رانا صاحب نے مزید کہا کہ کانفرنس میں جو باتیں کی گئیں دوسرے ممالک کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اپنے اس نہایت ہی بے باک بیان میں بھی رانا صاحب عمران خان کے ذکر سے باز نہ آئے اور کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو عمران خان جیسی بیماری لگی ہے۔ بیان میں ہمیں ان کے یہ گریز کا جملہ بالکل پسند نہیں آیا۔ اس بے جوڑ جملے کی ہر گز کوئی ضرورت نہ تھی۔ بے شک ہم دہشت گردی کی جنگ میں ٹرمپ کی تعریف کے محتاج نہیں البتہ ہمیں رانا صاحب کی یہ منطق بالکل سمجھ میں نہیں آئی کہ ٹرمپ کا ہماری قربانیوں کا اعتراف نہ کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کیسے بن گئی۔ رانا صاحب نے جو بیان جاری کیا ہے یہ در اصل وزارت خارجہ کا حق بنتا تھا۔ جانے ان کا یہ بیان وزیر اعظم کی نظروں سے بھی گزرا یا نہیں اگر ان کے سامنے آچکا ہے تو دیکھتے ہیں وہ اس پر کیا رد عمل ظاہر کریں گے۔ البتہ مدینہ منورہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ ارشاد ضرور کیا کہ ٹرمپ سے ملاقات اچھی رہی۔ کون سی ملاقات؟ قوم کو تو ان کی ٹرمپ سے سائیڈ لائن ملاقات کی کوئی خبر نہیں ملی۔ ہاں البتہ اگر وہ ٹرمپ سے گرم جوشی کے ساتھ مصافحے کی خبر کو جو کانفرنس کے روز ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ نیوز بن کر سامنے آئی اپنی سفارتی کامیابی کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں تو اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ گرم جوشی بالکل اسی طرح ہے جسے گائوں کا کوئی خان اپنے کسی ملازم کے دست بستہ سلام کے جواب میں ھلکہ سنگہ یئے کہہ کر اس کی دلجوئی کی کوشش کرے ۔ یہاں پر تو دلجوئی کا بھی کوئی شائبہ دکھائی نہیں دیتا صرف گرم جوشی سے مصافحہ کے دوران ہی چند سیکنڈ کی ملاقات کو'' اچھی'' قرار دیا گیا ہے ہم اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتے ، سرتاج عزیز بھی وزیر اعظم کے ساتھ تھے جب صحافیوں نے کانفرنس کے بارے میں اُن کا رد عمل معلوم کیا تو اُن کا ارشاد تھا ۔ ہم کانفرنس میں کوئی بڑی توقعات لے کر نہیں آئے ۔اگر ایسی بات تھی تو پھر کانفرنس سے پہلے میڈیا میں اُس کے متعلق اس قدر توقعات وابستہ کرنے کا تاثر کیوں دیا گیا ۔ وزیر اعظم کے ارشادات کو ہم اپنی زبان دے کر یہ کہہ سکتے ہیں ٹرمپ سے گرمجوشی سے مصافحہ کی عنایت خسروانہ کے بعد اگر مجھے تقریر کا موقع نہیں ملا تو قوم کو اس پر زیاد ہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ ٹرمپ نے صاف گرم جوشی سے مصافحہ ہی نہیں کیا ۔ ہاوڈویو ڈوبھی کہا یعنی کیسے ہیں آپ مزاج پرسی کا انداز کوئی معمولی بات نہیں تو بعض حاسد اور کینہ پرست کہتے ہیں کہ مصافحے کے وقت ٹرمپ کسی دوسری شخصیت سے مخاطب تھے ۔ اکرم شیخ نے جو وزیر اعظم کے ساتھ تھے انہیں بتایا کہ حاسدوں کی باتوں پر نہ جائیں ٹرمپ کا اشارہ آپ ہی کی طرف تھا ۔ اب تو ہمیں یقین ہو گیا کہ وزیر اعظم ٹرمپ اور سعودی فرما نروا کا گرم جو شی سے مصافحہ بالیقین موجودہ حالات میں ہماری شاندار سفارتی کامیابی ہے یہاں ہمیں پھر ایک حقیقت یاد آرہی ہے اُس کا ذکر آئندہ کے لئے اُٹھا ئے رکھتے ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں