Daily Mashriq


اساتذہ کرام سڑکوں پر

اساتذہ کرام سڑکوں پر

ہمارے معاشرے میں اساتذہ کرام کا معاملہ بھی عجیب ہے ان کے احترام کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں سب کا یہی خیال ہے کہ استاد کا احتر ا م سب پر واجب ہے یہی وہ ہستی ہے جس نے ہمیں علم سے روشناس کیا جس نے ہمیں تہذیب سکھائی !جو یہا ں استاد کے حوالے سے کہا جاتا ہے وہ ترقی یافتہ اقوام ثابت کرچکی ہیں انھوں نے تعلیم کو ہر شعبے پر فوقیت دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ جدید دور میں تعلیم کی اہمیت سے کماحقہ آشنا ہیں تعلیم کے حوالے سے ان کے بجٹ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ہمارے یہاں کیے جانے والے زبانی کلامی دعوے تو اپنی جگہ لوگ انفرادی طور پر اساتذہ کرام کا احترام بھی کرتے ہیں لیکن جب اپنے معاشرے میں اساتذہ کو سڑکوں پر پریشان حال اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ کسی جگہ ضرور گڑ بڑ ہے کل اسی طرح کا ایک منظر پشاور پریس کلب کے پہلو میں بھی دیکھا کالج اساتذہ کا دھرنا تھا اپنے مطالبات کے حق میں تقاریر کی جارہی تھیں حکومت کو کہا جارہا تھا کہ آپ نے تو تبدیلی کی بات کی تھی آپ تو ہر جگہ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ تبدیلی میٹرو بس یا پل بنانے سے نہیں آتی تبدیلی تعلیم سے آتی ہے عمران خان تو مہاتیر محمد کے بہت بڑے فین ہیں ان کے کردار ان کی خدمات سے متاثر ہیںانہوں نے جب مہاتیرمحمد سے ملاقات کی تھی تو یہ سوال بھی پوچھا تھا کہ ملائشیا کی ترقی کا راز کیا ہے ؟ مہاتیر محمد کا جواب بڑا مختصر تھا کہ ہم نے تعلیم کا بجٹ بڑھا دیا تعلیم عام کردی تو ہمارا وطن ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگیا !عمران خان نے پاکستان آکر اس خیال کی ترویج کی نمل یونیورسٹی اس کا بین ثبوت ہے وہ ہر فورم پر تعلیم کی اہمیت کی بات کرتے ہیں ! آج جس صوبے پر عمران خان کی پارٹی کی حکومت ہے اسی صوبے کے اساتذہ کرام سڑکوں پر اپنے مطالبات کے حق میں مظاہر ے کر رہے ہیں دھر نے دے رہے ہیں ؟ پروفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالحمید آفریدی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اساتذہ کرام ایک باوقار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انہیں پریشان کرکے ان کے جائز مطالبات نہ مان کر حکومت نے انہیں مجبور کردیا ہے کہ وہ سڑکوں پر آئیں اور احتجاج کریں ہماری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ طلبہ کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ ایک نظر کالج اساتذہ کے مطالبات پر بھی ڈال لیتے ہیں یہ اپ گریڈیشن اور ٹیچنگ الائونس کا مطالبہ کرتے ہیں جو ان کا قانونی اور اخلاقی حق ہے سکول ٹیچر، کلرک اور دوسرے بہت سے اداروں میں اپ گریڈیشن ہوچکی ہے یونیورسٹی اساتذہ کرام بھی اپ گریڈ ہوچکے ہیں تو پھر کالج اساتذہ کے ساتھ یہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں؟ڈاکٹرز کو پروفیشنل الائونس دیا جاچکا ہے لیکن اساتذہ کرام ابھی تک اس سے محروم کیوں یہ کوئی ایسے مطالبات نہیں ہیں جن پر اربوں کھربوں روپے خرچ ہوتے ہوں بس نکتہ نظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے اس پر ہمدردانہ غور وفکر کی ضرورت ہے کالج اساتذہ کے ساتھ ساتھ لائبریرین حضرات بھی اپنے لیے سروس سٹرکچر کا تقاضا کر رہے ہیں اکیسویں صدی میں لائبریرین سروس سٹرکچر سے محروم ہیں؟ اسی طرح ٹیچنگ اسسٹنٹ اور ایڈ ہاک لیکچررز پچھلے کئی برسوںسے مختلف کالجوں میں بہت کم مشاہرے پر تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں لیکن انہیں مستقل نہیں کیا جارہا ان کا مستقبل ہر وقت خطرے میں ہے ان مطالبات میں کوئی ایک مطالبہ بھی ایسا نہیں ہے جو ناجائز یا غیر منطقی ہو !اور پھر کالج سیکٹر کی بہت بڑی خدمات ہیں طلبہ بورڈ یونیورسٹی میں پوزیشنز حاصل کر رہے ہیںصرف گورنمنٹ کالج پشاور میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیںاس کالج کے میرٹ کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس وقت اڑتیس کالجوں میں بی ایس کا پروگرام انتہائی کامیابی سے چل رہا ہے 2018تک اسے بڑھا کر ایک سوکالجوں تک بڑھا دیا جائے گا کیا یہ سب کچھ اساتذہ کرام کی محنت کے بغیر ممکن ہے ؟گورنمنٹ کالجوں میں درس و تدریس کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ غریب بچوں کو معیاری تعلیم دے رہے ہیں نجی تعلیمی اداروں کی فیس برداشت کرنا سب کے بس کی بات نہیں ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود معماران قوم کی حوصلہ شکنی کا سلسلہ عروج پر ہے تعلیم اور استاد کا چولی دامن کا ساتھ ہے اسے سب تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اساتذہ کرام کو پریشان کیا جارہا ہے !دو دن پہلے ہمارے وزیر اعلیٰ جب نوشہر ہ میں مختلف تقریبات سے خطاب کر رہے تھے تو انہوں نے صحت اور تعلیم کے حوالے سے بڑی پرمغز اور امید افزا باتیں کیں ان کا کہنا تھا کہ ہم صحت اور تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کریں گے اسی طرح خیبر پختونخواء کے وزیر تعلیم اور توانائی محمد عاطف نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم کے 138ارب روپے مختص کیے جائیں گے اور عظیم قوم بننے کے لیے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے ان بیانات کو پڑھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہمارے صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تعلیم کے حوالے سے کتنی سنجیدہ ہے اس حکومت کی توجہ اس اہم شعبے پر مرکوز ہے اور گزشتہ چار سال کے دوران تعلیمی بجٹ میں 100فی صد اضافہ کیا گیا ہے! اگر یہ سب کچھ ایسا ہی ہے جیسا کہ کہا جارہا ہے تو پھر ہمیں امید ہے کہ کالج اساتذہ کے جائز مطالبات کو یہ تعلیم دوست حکومت ضرور تسلیم کرے گی ۔

متعلقہ خبریں