Daily Mashriq


پاکستان کے جمہوری نظام پر عوام کا عدم اطمینان

پاکستان کے جمہوری نظام پر عوام کا عدم اطمینان

ایک مشہور سکالر سیول ڈیوڈ انکسی کہتے ہیں کہ اُ س وقت تک کسی ملک میں صحیح اور پائیدار جمہو ریت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اُسکا کر دار طاقت ور طریقے اور بھر پو ر انداز سے نہ ہو۔ اور جب عوام جمہو ریت اور جمہو ری عمل میں حصہ لینا چھو ڑ دیتے ہیں تو اسکے بعد ساری قوم ذلت اور پستیوں میں گر جاتی ہے۔ اگر ہم پاکستان میں عام انتخابات کی تا ریخ پر نظر ڈالیں تو اس وقت تک پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے 10 عام انتخابات کرائے جا چکے ہیں ۔ جس میں 1970، 1977، 1985، 1988، 1990، 1993، 1997، 2002، 2008 اور حال ہی میں 2013کے عام انتخابات قا بل ذکر ہیں۔ اگر ہم ان تمام عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح دیکھیں تو ان10 انتخابات میں ووٹوں کی اوسط شرح 43 فی صد رہی۔ 1970 کے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 58 فی صد تھی، جو کم ہوکر 1997 میں35فی صد ہوگئی۔ مہنگائی ، لاقانونیت، بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ، بے روز گاری سے تنگ عوام کو جب سیاسی پا رٹیوں نے ایک دفعہ پھر سبز با غ دکھانے شر وع کئے تو 2013 میں ووٹ ڈالنے کی شرح پھر55 فی صدتک بڑھ گئی ۔ کیونکہ پاکستانی جلد بھولنے اور دھوکہ کھانے والی قوم ہے۔ مگر پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت میںجب عوام پر بجلی، گیس، سی این جی ، آٹا اور دوسری اشیائے خور دو نوش کے بم گرا نے شروع کئے گئے تو 2013 کے ضمنی انتخابات میںووٹ ڈالنے کی شرح پھر 30فی صد تک کم ہو گئی ۔ زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بالعموم ضمنی انتخابات میںلوگوں کی دلچسپی اور ووٹ ڈالنے کی شرح کم ہوتی ہے، مگر میرے خیال میں پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں ۔ لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں ،مہنگائی ، لاقانونیت، بے روز گاری ، غُربت اور افلاس کو ختم یا کم ہو نے میں جب تک کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو عوام نے ضمنی الیکشن میں جوش و خروش سے حصہ نہیں لیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور میں جمہو ری نظام سے کوئی اچھا نظام نہیں، مگر عوام اُس لوٹ کھسوٹ کے نظام کو کیا اچھا کہیں گے جس میں مہنگائی، لاقانونیت ،بے روز گاری اور افلاس اُنکی کمر توڑ دیں۔اگر دیکھا جائے تو فوجی مطلق العنانوں کے علاوہ ہمارے ملک کے سیاست دانوں نے بھی اس نظام کو ناکام اور ناکا رہ کر نے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی اور یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام کا جمہوری نظام ، جمہوری اداروں اور سیاست دانوں پر سے اعتما داُٹھتا جا رہا ہے۔ اور بڑی معذرت کے ساتھ، اب تو سیاست وطن عزیز میں گالی سمجھی جاتی ہے۔حالانکہ اگر سیاست اسلامی تعلیمات اور خدمت خلق کے جذبے کے تحت کی جائے تو یہ ایک عبادت سے کم نہیں۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے سیاست دان الیکشن سے پہلے ایک بات کرتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو دوسری بات کرتے ہیں۔ وطن عزیز کے کے فو جی مطلق العنان آمروں کے علاوہ جمہور ی نظام اور قدروں کو خراب والے ہمارے یہی منتخب عوامی نمائندے ہیں۔ جس نظام سے عوام کی دو وقت کی روٹی، سر چھپانے کی جگہ، روز گار ، انصاف ، صحت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی اس نظام کو عوام کیا اچھا کہیں گے۔ اقربا پر وری ، مہنگائی، بے روز گاری عوامی اُمنگوں اور خواہشات کے مطابق پارلیمنٹ کے فیصلے نہ کرنا ہمارے ملک میں جمہوریت اور جمہوری نظام کا خا صا ہے۔اگر ہم دوسرے ممالک جس میں ہمارے پڑوسی ممالک شامل ہیں انکے عام انتخابات کا تجزیہ کریں تو وہاں کے لوگوں کو اپنے ملک کے جمہو ری نظام پربہت ساری خامیوں اور برائیوں کے باوجود بھی بھر پو ر اعتماد اور بھروسہ ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ دوسرے ممالک میں عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح پاکستان سے کافی زیادہ ہے ، کیونکہ وہ اُس جمہوری نظام کو اپنا جمہوری نظام اور اپنے دکھوں کا مداوا سمجھتے ہیں ۔ اگر ہم جنوبی ایشیاء کے ممالک میں جمہوری نظام پر نظر ڈالیں تو نیپال کے 8 عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اوسط شرح 72 فی صد، بنگلہ دیش کے 8عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 65 فی صد، بھارت کے 16 عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 63فیصد ، مالدیپ کے 5 انتخابات میں 75 فی صد جبکہ پاکستان کے 10 عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 43فی صد ہے۔تر قی یا فتہ اور پڑھے لکھے معاشرے میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ مثلاً کینیڈا اور فرانس میں ووٹ ڈالنے کی شرح 78فی صد اور جر منی میں ووٹ ڈالنے کی شرح 84 فی صد ہے۔ 2013 کے عام انتخابات سے پہلے عوام یہ سوچ رہے تھے کہ نئی حکومت اور سیٹ اپ سے کچھ اچھی اورمثبت تبدیلیاں آئے گئیں مگر بد قسمتی سے تیل، بجلی، گیس ، آٹا اور دوسری اشیائے خو ر د ونوش کی قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ سے غریب عوام مزید پریشان ہوگئے اور ان حالات میں تو ایک غریب کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہے۔اب معاشرے کاپڑھا لکھا طبقہ یہ سوچتا ہے کہ اس ملک میں کوئی مسئلہ ووٹ یا الیکشن کے ذریعے حل نہیں ہوگا ۔ بلکہ ان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عالمی تا ریخ میں تیل کی کم قیمتوں اور ٦٠٠ اشیاء کی کم قیمتوں کے با وجود پاکستان میں بجلی، پٹرول اور نہ دوسری اشیاء کی قیمتوں میں کوئی کمی واقع ہوئی۔ عالمی برادری میں پاکستان کی حالت اقتصادی، معاشی ، تعلیمی، صحت،صفائی سُتھرائی کے لحا ظ سے مسلسل گر تی جا رہی ہے۔ الیکشن اور عام انتخابات کے ثمرات عام لوگوں کے بجائے اشرافیہ کو مل رہے ہیں اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں