Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مورخ ابن خلکان نے موسیٰ الکاظم بن جعفر الصادق کی سوانح حیات تحریر کرتے ہوئے زیب قرطاس کیا ہے ۔ ''ایک مرتبہ موسیٰ الکاظم کو خلیفہ ہارون الرشید نے بغداد میں قید کر لیا ۔ کچھ دنوں کے بعد ہارون رشید نے کوتوال کو بلوا بھیجا اور کوتوال سے کہا کہ میں نے رات میں ایک حبشی کو خواب میں دیکھا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سانیزہ تھا ۔ وہ مجھ سے یہ کہہ رہا تھا کہ موسیٰ الکاظم کورہا کردو ، ورنہ میں اسی نیزے سے تم کو ہلاک کردوں گا ۔ اس لئے تم ا ن کو جا کر رہا کردو ۔ ''کوتوال نے کہا میں نے بعینبہ یہی باتیں موسیٰ الکاظم سے نقل کر دیں ۔ مزید یہ بھی کہا کہ میں نے آپ کے معاملے کو بالکل عجیب انداز سے دیکھا ۔ موسیٰ الکاظم نے کہا کہ دیکھو ، میں تمہیں راز بتا تا ہوں کہ ایک رات میں سو رہا تھا تو جناب رسو ل اکرم ۖ تشریف لائے ۔آپ ۖ نے فرمایا : اے موسیٰ ! تمہیں ظلماً قید کر دیا گیا ہے ۔ تم یہ دعا پڑھا کرو ، تم یہ رات بھی قید خانہ میں نہ گزارسکو گے کہ رہا کر دیئے جائو گے پھر رسول اکرم ۖنے دعا بتائی اور اس کے بعد وہی ہوا جس حالت میں کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو ، یعنی تم رہائی کا پروانہ لے کر آئے ہو ۔ (حیات الحیون ، جلد اول )

حضرت معروف کرخی ایک دن طہارت کے لیے دریائے دجلہ پر تشریف لے گئے ، آپ نے اپنا مصلیٰ اور قرآن پاک قریبی مسجد میں رکھا اور خود طہارت میں مشغول ہوگئے ۔ اتنے میں ایک بڑھیا آئی مصلیٰ اور قرآن بغل میں دبا کر چلتی بنی ۔ حضرت نے اسے دیکھ لیا اور پیچھا کیا ۔ جب اس کے قریب پہنچے تو سر جھکا کر نہایت نرمی سے پوچھا : محترمہ : کیا قرآن پڑھنے والا تیر اکوئی لڑکا ہے ۔ اس نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا توپھر قرآن مجید مجھے دیدے اور مصلیٰ تو رکھ لے ، یہ میں اپنی خوشی سے تجھے بخشتا ہوں ۔ بڑھیا مارے شرم کے پانی پانی ہوگئی اور دونوں چیزیں آپ کو واپس کردیں ۔ بڑھیا اپنی حرکت کے مقابلے میں آ پ کا حسن اخلاق اورحلم دیکھ کر اس قدر شرمندہ تھی کہ دونوں چیزیں آپ کے پاس چھوڑ کر روتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔(مخزن ) حضرت سری سقطی نے ایک شرابی کو دیکھا جو مد ہوش زمین پر گرا ہوا تھا اور اپنے شراب آلودہ منہ سے اللہ اللہ کہہ رہا تھا ۔ حضرت سری نے وہیں بیٹھ کر اس کا منہ پانی سے دھو یا اور فرمایا ''اس بے خبر کو کیا خبر کہ ناپاک منہ سے کس پاک ذات کا نام لے رہا ہے ؟ '' منہ دھو کہ آپ چلے گئے ۔ جب شرابی کو ہوش آیا تو لوگوں نے اسے بتایا کہ ''تمہاری بے ہوشی کے عالم میں حضرت سری یہاں آئے تھے اور تمہارا منہ دھو کر گئے ہیں ۔ '' شرابی یہ سن کر بڑا پشیمان اور نادم ہوا اور رونے لگا اور نفس کو مخاطب کر کے بولا ۔ خدا عزوجل سے ڈرآئندہ کے لیے توبہ کر ۔ رات کو حضرت سری نے خواب میں کسی کہنے والے کو یہ کہتے سنا '' اے سری ! تم نے شرابی کا ہماری خاطر منہ دھویا ۔ ہم نے تمہاری خاطر اس کا دل دھویا ۔'' حضرت سری تہجد کے وقت مسجد میں گئے تو اس شرابی کو تہجد پڑھتے ہوئے پایا ۔

(مخزن صفحہ نمبر 103)

متعلقہ خبریں