Daily Mashriq


جناب نواز شریف کا بیانیہ یا مخمصہ؟

جناب نواز شریف کا بیانیہ یا مخمصہ؟

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بدھ کے روز احتساب عدالت میں دیئے گئے بیان صفائی اور بعد ازاں اپنی پریس کانفرنس میں اپنی نااہلی اور کرپشن کے مقدمات کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ان میں اگر صداقت تھی تو انہوں نے بطور وزیراعظم تحقیقات کیلئے پارلیمانی یا جوڈیشل کمیشن بنانے کی ضرورت کو نظر انداز کیوں کیا؟ کیا ایک منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے ان کا فرض نہیں تھا کہ دستور کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے وہ ان تمام معاملات میں پارلیمان کو اعتماد میں لیتے۔ تین بار ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے فرائض ادا کرنے والی شخصیت پر لازم ہے کہ وہ اب قوم کو یہ بھی بتا دے کہ منتخب ایوان کو اعتماد میں نہ لینے کی سوچ ان کی اپنی تھی یا اس کیلئے بھی کوئی ’’دھمکی‘‘ موجود تھی؟ اس سے قبل وہ ممبئی حملہ کیس کے حوالے سے دیئے گئے ایک متنازعہ انٹرویو میں جن خیالات کا اظہار کر چکے ان کے بارے میں خود نون لیگ کے اندر یہ سوچ موجود ہے کہ میاں صاحب جو کانٹے بو رہے ہیں انتخابی عمل کے دوران نون لیگ کے اُمیدواروں کو وہ اپنی پلکوں سے چننے پڑیں گے۔ بدھ کے روز بھی انہوں نے عوام کی حاکمیت اور اپنے ادوار میں ہوئی ترقی کا بڑے جذباتی انداز میں تذکرہ کیا۔ عجیب سی بات ہے کہ اتنی بھرپور ترقی کے باوجود پچھلے پانچ سالوں کے دوران ملک میں سالانہ دو فیصد کے حساب سے بدترین غربت میں اضافہ ہوا‘ آمدنی واخراجات کے عدم توازن سے پیدا ہوئے مسائل بوتل سے نکلے جن کی طرح بے قابو ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ اگر ان کا مؤقف اور الزامات حرف بہ حرف درست ہیں تو انہوں نے اپنے وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید اور وزیر ماحولیات مشاہد اللہ خان کو برطرف کیوں کیا؟ خارجہ پالیسی کو نئی سمت دینے کے عزم کو بھی وہ اپنی نااہلی کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے عدالتی فیصلے میں نااہلی تک وزیر خارجہ مقرر کرنے کی زحمت ہی نہیں کی یہ منصب ان کے پاس ہی تھا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جناب نواز شریف کا بیان صفائی‘ بیان کم اور ان الزامات کی تکرار زیادہ ہے جو قبل ازیں تو وہ دبے دبے لفظوں میں دہرا رہے تھے اب چند ہفتوں سے وہ اپنی نئی حکمت عملی سے ’’مارو یا مر جاؤ‘‘ کے تحت کھل کر بیان کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز اگر وہ قوم کو یہ بھی بتا دیتے کہ پرویز مشرف کیخلاف کارروائی کے مسئلہ پر خود ان کی کابینہ میں موثر اور مضبوط موقف یہ تھا کہ ماضی سے الجھنے کی بجائے آگے بڑھا جائے تاکہ جمہوریت مستحکم ہو تو یہ زیادہ مناسب ہوتا۔ انہوں نے پرویز مشرف کیخلاف کارروائی کے حوالے سے منعقدہ اس مشاورتی اجلاس کا ذکر کرنے سے کیوں گریز کیا جس میں ان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان‘ برادر عزیز وپنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور چند دیگر وزراء نے اس امر پر زور دیا تھا کہ وہ (نواز شریف) سابق آرمی چیف کیخلاف کارروائی کے معاملے میں سابق صدر آصف علی زرداری کی تعاون بھری یقین دہانیوں پر اعتبار کرنے کی بجائے مسلم لیگ اور ریاستی اداروں کے درمیان فکری ہم آہنگی کی تاریخ کو مدنظر رکھیں۔ سابق وزیراعظم کے بیان صفائی اور پریس کانفرنس میں کہی گئی ایک نہیں درجن بھر باتیں ایسی ہیں جو اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ اگر یہ پورا سچ ہیں تو بطور وزیراعظم وہ خاموش کیوں رہے اور بقول ان کے انہوں نے سر جھکا کر نوکری کرنے سے انکار کر دیا۔ کیا انہیں یاد دلانا پڑے گا کہ وہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی نہیں ہوئے تھے بلکہ ووٹ اور تعاون کی صورتوں میں 2013ء میں برسر اقتدار آئے تھے۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ ان کی حکومت نے تحریک انصاف کے مطالبہ پر دھاندلی والے چار حلقوں کے نتائج ازسرنو مرتب کرانے سے گریز کیوں کیا۔ کیا بعد میں ان میں سے دو حلقو ں میں ضمنی انتخابات کروانے نہیں پڑے؟۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اقتدار کے دنوں میں زمینی حقائق اور دستوری ضرورتوں کو یکسر نظرانداز رکھتے ہیں مگر ایوان اقتدار سے نکلتے ہی انہیں دستور‘ عوام اور جمہوریت کی محبت چین نہیں لینے دیتی۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے بدھ کے روز تکرار کیساتھ غلط بیانی کے ریکارڈ قائم کئے۔ ان کی نااہلی صرف اقامہ کی وجہ سے نہیں ہوئی‘ غلط بیانی‘ حقائق کو مسخ کرنے اور جھوٹ پر مسلسل اڑے رہنے نے انہیں اس انجام سے دوچار کروایا۔ بحیثیت وزیراعظم انہوں نے پانامہ سکینڈل کے بعد قومی اسمبلی اور پھر اپنی نشری تقریر میں خاندانی کاروبار کی داستان بیان کرتے ہوئے جو اعداد وشمار اور حوالے پیش کئے احتساب عدالت میں دیئے گئے اپنے بیان صفائی میں ان سے یکسر انکار کرتے دکھائی دیئے۔ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ وہ سازشی تھیوری پیش کرنے کی بجائے اپنی اداؤں‘ حافظے اور کہی باتوں کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے لیتے۔ کیا جناب نواز شریف بحیثیت وزیراعظم اس امر سے لاعلم تھے کہ عوامی تحریک اور منہاج القرآن نے طالبانائزیشن سے متاثرہ طبقات کی سیاسی جماعتوں کا ایک اتحاد تشکیل دے کر آپریشن ضرب عضب کے حق میں پرامن لانگ مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لانگ مارچ کیلئے منہاج القرآن کو 14لاشیں کس نے اور کیوںدیں؟ کیا یہ آپریشن ضرب عضب کی تائید کرنے والی ان قوتوں کیخلاف لشکر کشی نہیں تھی اور کیا یہ سچ نہیں کہ ان کی جماعت اور حکومت آپریشن ضرب عضب کی شدید مخالف تھیں بعد ازاں عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے ان کی حکومت نے موقف تبدیل کیا؟ اندریں حالات ان کی خدمت میں مودبانہ درخواست ہے کہ وہ اگر اتنی ہی محنت کرپشن الزامات کی صفائی پر کرتے تو زیادہ مناسب رہتا۔ اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے وہ جس روش پر گامزن ہیں اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔ ان کی دیانت وشرافت اور اصول پسندی کا اندازہ تو قومی اسمبلی سے خطاب‘ نشری تقریر‘ سپریم کورٹ میں دیئے گئے بیان اور اب بیان صفائی کو ملاکر پڑھ لینے سے ہو جاتا ہے۔ پہلے وہ کہتے تھے ایک ایک پائی کا حساب موجود ہے۔ اب ان کا اصرار ہے کہ ان کے بچوں‘ مرحوم والد اور دوسروں سے اس دھن دولت اور کاروبار وجائیداد بارے دریافت کیا جائے وہ فقط اپنی ذات کے ذمہ دار ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو انہیں ملزم سے مجرم بناتا ہے۔ افسوس کہ وہ سنجیدگی کیساتھ اس پر غور کرنے کی بجائے حقائق کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں