Daily Mashriq


نیب کے خوش آئند فیصلے اور تجاویز

نیب کے خوش آئند فیصلے اور تجاویز

نیب نے اگلے روز سابق وزیراعظم شوکت عزیز سندھ کے سابق وزیراعلیٰ لیاقت جتوئی‘ ایئر مارشل (ر) شاہد حامد سمیت متعدد طاقتور شخصیات کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ ای او بی آئی‘ انتظامیہ‘ پنجاب بینک اور متعدد اداروں وشخصیات کیخلاف تحقیقات کا بھی فیصلہ ہوا۔ اس امر پر دو آراء نہیں کہ جب تک کراس دا بورڈ احتساب کا رواج مستحکم نہیں ہوتا احتساب کی زد میں آنے والے انتقام انتقام کی رٹ لگائے رکھیں گے۔ یہاں ہم اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ نیب کو پلی بارگین کرتے وقت لوٹی گئی رقم اور ادائیگی کے اقرار پر فیصلہ کرتے وقت ان تحفظات کو بھی ضرور مدنظر رکھنا چاہئے جو ایڈمرل منصور الحق کی پلی بارگین کے وقت سے زبان زدعام ہیں کہ 9ارب کی کرپشن میں ملوث شخص 86 کروڑ روپے میں پلی بارگین کرگیا۔ احتساب سے کوئی ماورا نہیں قانون کی بالادستی قائم کرکے ہی کرپشن کے ناسور سے اس ملک کو نجات دلائی جاسکتی ہے۔ نیب حکام کو چاہئے کہ جن افراد کیخلاف کرپشن وکمیشن کے ٹھوس شواہد کے تحت تحقیقات ہو رہی ہو ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی کیلئے متعلقہ اداروں کیساتھ مل کر اقدامات کرے تاکہ بعض ملزمان اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک سے فرار نہ ہوں۔ اس حوالے سے متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں مگر فی الوقت یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ نیب کو واران ٹرانسپورٹ اور عسکری بینک کے مالیاتی تنازعہ کیساتھ قائداعظم سولر پراجیکٹ اور نندی پور پاور پراجیکٹ میں دکھائی گئی ہاتھ کی صفائیوں کا بھی تاخیر کے بغیر نوٹس لینا چاہئے تاکہ قوم جان سکے کہ یہ سفید ہاتھی نما منصوبے کس کا ’’رانجھا‘‘ راضی کرنے کیلئے شروع کئے گئے۔

سیاسی ماحول کو متوازن رکھئے

حکومتوں کی رخصتی اور انتخابی موسم کے دن قریب آنے کیساتھ ہی سیاسی ماحول کے درجہ حرارت میں جس طرح اضافہ ہو رہا ہے یہ خلاف واقع ہرگز نہیں۔ خلاف واقع وروایت بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا بھڑکیلا انداز تکلم، الزام تراشی اور اخلاقی روایات کی پامالی ہے جس کا ایک مظاہرہ پچھلے دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں دیکھنے میں آیا جہاں پی ٹی آئی اور نون لیگ کے رہنماؤں کی ایک دوسرے پر زبان درازی آگے بڑھ کر تھپڑ میں تبدیل ہوگئی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی عمل میں تربیت یافتہ سیاسی کارکنوں کی جگہ شخصی وفاداروں‘ ملازمین اور ٹھیکیداروں نے لے لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مکالمے کی جگہ بدزبانی اور مار پیٹ کو رواج مل رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے نزدیک یہ معمولی بات ہو مگر جمہوریت اور عوام دوستی پر یقین رکھنے والوں کیلئے یہ صورتحال الارمنگ ہے۔ پاکستان کے عوام نے جمہوریت کی بحالی اور استحکام کیلئے برصغیر کے ممالک میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، اپنی سیاسی‘ سماجی اور جمہوری روایات کی اس طور تذلیل پر ان کا دکھی ہونا فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس منطق کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ 14 لاشیں گرانے والے ایک تھپڑ پر تلملا رہے ہیں۔ لاشیں گرانے والوں کو قوم نے معاف کیا نہ عدالتوں نے‘ ان کا جرم زیر سماعت ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ زبان دانی کو رواج نون لیگ نے دیا اب اس کی بڑی اور سکہ بند حریف جماعت دو قدم آگے بڑھ چکی ہے۔ ہماری دانست میں نہ نون لیگ درست تھی اور نہ آج کوئی اور درست ہے۔ فکری بانجھ پن کا شکار سماج میں اخلاقی وسیاسی روایات کو پھر سے رواج دینے کی ضرورت ہے۔ گالم گلوچ‘ تھپڑ بازی وغیرہ کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے، بھونڈی تاویلات پیش کرنے کی بجائے سیاسی جماعتوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے کارکنوں اور حامیوں کی اخلاق سازی پر توجہ دیں بصورت دیگر سب مل بیٹھ کر روئیں گے خاموش کروانے والا کوئی نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں