Daily Mashriq


نوازشریف کے آدھے پونے سچ

نوازشریف کے آدھے پونے سچ

جناب نواز شریف نے بدھ کے روز ایک بار پھر اپنی رخصتی کے ’’سامان‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے بہت ساری باتیں کہیں۔ ٹھنڈے دل سے ان کی ساری گفتگو کا جائزہ لیا جائے تو پہلا سوال یہ ہے کہ چار سال تک تو انہوں نے وزیر خارجہ ہی نامزد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ یہ منصب اپنی جیب میں رکھا ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تنازع کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کیا وہ قوم کو اپنے اورجنرل اشفاق پرویز کیانی ،جنرل پاشا کے درمیان طے ہوئے ان معاملات پر بھی اعتماد میں لیں گے جن کے طے ہوتے ہی انہوں نے میثاق جمہوریت کو بھرے بازار میں جوتے مارے ۔ کبھی یہ بھی بتا دیں کہ پی سی او ججز کو بحال کروانے میں وہ اتاولے کیوں ہوئے ۔ افتخار چودھری سے ان کی خلیل الرحمن رمدے کیمعرفت کیا ڈیل ہوئی ؟ میرا نہیں خیال کہ وہ پورا سچ بول سکیں گے ۔ وجہ یہی ہے کہ ابھی سو موار 18مئی کو ان کے پیغام رسانوں نے اسلام آباد میں طاقت کے ایک مرکز کے نمائندوں کے ساتھ افطار ڈنر فرمایا ۔ مذاکرات اور لڑائی میں سے دکھا وا کیا ہے ۔ سچ یہاں مگر کوئی بھی بولنے کو تیار نہیں وہ کہتے ہیں کہ آصف زرداری نے انہیں ایک سیاسی رہنما کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ مشرف کے 7اکتوبر 2007والے ایڈونچر کو آئینی تحفظ دینا پڑے گا ۔ اصولی طور پر ان کی بات سوفیصد غلط ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرف کے مواخذے کی بات زرداری نے پہلے کی اورمیاں نواز شریف نے بعد میں ۔ ثبوت یہ ہے کہ 2008ء کی انتخابی مہم کے دوران وہ مسلسلکہتے رہے کہ وہ مشرف سمیت کسی سے انتقام لینے پر یقین نہیں رکھتے اب ہمیں آگے بڑھنا چاہیئے ۔ میاں نواز شریف کو یاد ہوگا کہ 26جنوری 2008ء کو ان کی جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات ہوئی تھی ان کے ہمراہ شہباز شریف اور چودھری نثار کے علاوہ بھی ایک صاحب تھے تھوڑا سا حوصلہ اور جرأت فرماتے ہوئے اپنے وفد کے چوتھے رکن کانام ہی قوم کو بتا دیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسفندیار ولی خان کے ذریعے آصف علی زرداری نے نواز شریف کو پیغام بھجوایا تھا کہ مشرف کے معاملے میں وعدہ پوراکیجئے ۔ اور چودھری نثار اینڈ کمپنی سے خبردار رہیں اس کمپنی میں آپ کا اپنا بھائی شامل ہے ۔ ہیرو بننے کے چکر میں وہ حافظے پر دبائو ڈالنے سے گریزاں ہیں ۔

میاں نواز شریف کا المیہ یہی ہے کہ وہ ہمیشہ ایک ہاتھ مخالف کے گریبان اور دوسرا گھٹنوں کی طرف بڑھا تے ہیں اب بھی وہ یہی ادا اپنائے ہوئے ہیں ۔ مان لیتے ہیں انہوں نے اپنے خلاف ہوئی سازشوں کی جو رام لیلا بیان کی ہے وہ حرف بہ حرف سچ ہے ۔ ایک مہربانی اور کریں اُن سازشوں کی داستانیں بھی کھول کر بیان کردیں جو انہوں نے آج کے ناراض مہربانوں کے ساتھ ملکر دوسروں کے خلاف کی تھیں ۔ آئین وجمہوریت کی پاسداری کا شوشا اور جذبہ اس وقت کہاں آرام فرما رہا تھا جب وہ ڈھکوسلہ نما میمو گیٹ سکینڈل میں کالا کوٹ پہن کر ایک عظیم محب وطن کے طورپر صدر زرداری کو غدار ثابت کرنے کے لئے سپریم کورٹ گئے تھے ۔ دستور کی بالادستی انہیں گیلانی کے خلاف فیصلے میںکیوں یاد نہ آئی ۔ وہ کیامجبوری تھی جب وہ گیلانی کے قومی اسمبلی میں پوچھے گئے سوال ۔ ریاست کے اندر ریاستیں کس نے بنا رکھی ہیں اور اسامہ بن لادن کو ویزا کس نے دیا ہے ؟ کے بعد پیپلز پارٹی کو سیکورٹی رسک قرار دیتے نہیں تھکتے تھے ۔ کیا وہ اس امر کا حوصلہ کرپائیں گے کہ کسی دن جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی معرفت افتخاری چودھری سے طے ہوئے امور بھی عوام کے سامنے بیان کریں ۔ کبھی یہ بھی بتائیں گے کہ جس دن ان کی پارٹی مرکز میں پیپلز پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار سے الگ ہوئی اس سے ایک دن قبل انہوں نے چودھری نثار علی خان کی اقامت گاہ پر کن دوشخصیات سے ملاقات کی ؟ ۔

میاں نواز شریف پونا1/4سچ بولنے کاکوئی فائدہ نہیں ۔سازشی تھیوریوں کی پھکی خریدے گا کون چند کمرشل لبرلزاور جاتی امرا دستر خوانیوں کے علاوہ۔ ان سے یہ سوال بھی از حد ضروری ہے کہ دھرنے کے دوران جب انہوں نے آصف علی زرداری کوایک ادارے کے سربراہ کے فون بارے اعتماد میں لیا تو کیا زرداری نے یہ نہیں کہا تھا کہ میاں نواز شریف کل پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ساری بات کہہ دیں پیپلز پارٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی ۔ بتلایئے تو زرداری کے مشورے پر عمل سے گریز کی وجہ کیا تھی ؟ ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سر جھکا کر نوکری کرنے سے انکار کردیا ۔ سبحان اللہ ۔ یہ وزیراطلاعات پرویز رشید اور وزیر ماحولیات مشاہد اللہ خان سے زرداری نے استعفیٰ طلب کرکے انہیں وزارتوں سے رخصت کیا تھا ۔ راحیل شریف کے سٹاف افسر سے ٹیلیفون پر زرداری سے ملاقات منسوخ کرنے والے وزیراعظم نوازشریف نے تو جواباً فون سٹاف افسر کو کرنے کی بجائے ماسکو کے دورہ پر گئے ہوئے راحیل شریف کو ٹیلیفون کر کے اطلاع دی ۔ ’’سر زرداری سے ملاقات منسوخ کردی ہے ۔ میری حکومت پارٹی اور خاندان فوج کے دشمنوں سے کوئی تعلقات نہیں رکھنا چاہئے ‘‘۔ میاں نوازشریف کسی پبلک مقام پر حلف دے کر اس بات کی تو تردید کر سکتے ہیں تو کر کے دکھا ئیں ۔ مشرف کیخلاف مقدمہ ان کا جرم نہیں اصل جرم یہ ہے کہ انہوں نے 2013ء میں انتخابی عمل سے قبل فوج کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ جنرل مشرف کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے نا بھارت کے حوالے سے پالیسی تبدیل کریں گے ۔ اپنے وعدے سے وہ پھرے تو بھگتیں بھی، ایک جھوٹ چھپانے کے لئے سو جھوٹ کیوں بولتے ہیں ۔اچھا کیا دھرنے کے دوران ان کی والدہ ، اہلیہ اور ماموں اسحٰق ڈار کے ہمراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے گھر پر 8ارب روپے کے عوض صلح کے لئے نہیں گئے اور منہ کی کھا کر واپس نہیں لوٹے ؟ ۔ پیارے کا مریڈ نواز شریف ! کبھی تو پورا سچ بھی بول دیجئے ۔

متعلقہ خبریں