Daily Mashriq


تم سے اک رسم تک نہیں ٹوٹی

تم سے اک رسم تک نہیں ٹوٹی

اتفاق رائے پر بد اعتماد ی اور شکوک سایہ فگن ہوں تو حالات نتیجہ خیز ہزگز نہیں رہتے ، فریقین کے مابین ہونے والی ملاقاتوں میں کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونا افسوسناک ہی نہیں لمحہ فکریہ بھی ہے ، حالانکہ یہ 2013ء نہیں جب نگران حکومتوں پر سیاسی حلقوں کی جانب سے ایسے الزامات لگائے گئے جنہیں بعد میں سیاسی بیان قرار دے کر جان چھڑائی گئی ، ان پانچ سالوں کے دوران پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ کر گزر چکا ہے اور حالات اس نہج پر آچکے ہیں کہ کوئی بھی نگران اپنے اوپر35پنکجرز جیسے الزامات برداشت کرنے کو ہر گزتیار نہیں ہو سکتا ، بلکہ نگرانوں کا منصب اس قدر نازک اور پیچیدہ ہوچکا ہے کہ ذرا سی لغزش سے ’’اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی ‘‘کا خطرہ ، سروں پر منڈلا سکتا ہے ، اس کے باوجود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نگران وزیر اعظم کے کسی ایک نام پر متفق نہیں ہو سکے اور معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جانے کی باتیں کی جارہی ہیں ،دراصل یہ فیصلہ اگر محولہ دونوں رہنمائوں تک رہتا تو شاید اب تک کوئی متفقہ نام سامنے آہی چکا ہوتا مگر حقیقت یہ ہے کہ حتمی فیصلہ اوپر کی سطح پر ہونا ہے یعنی دونوں جانب پارٹی سربراہان ہی اپنی اپنی ضد اور انائوں پر اڑے ہوئے لگتے ہیں ۔ ایک جانب آصف زرداری ہیں جو سینیٹ انتخابات کے ضمن میں بلوچستان حکومت کو گرانے سے لیکر چیئرمین سینیٹ کے انتخابات تک اپنے ’’کمالات‘‘ دکھانے کے بعد دھمکی دے چکے ہیں کہ اب کی بار پنجاب بھی چھین لیں گے تو دوسری جانب اپنے بیانئے کو لیکر آگے بڑھنے والے میاں نواز شریف ہیں جنہیں پنجاب میں پارٹی کے لوگوں کی بے وفائیوں سے جس صورتحال کا سامنا ہے اس پر انہیں آصف زرداری سے زیادہ عمران خان کے ہاتھوں تخت لاہور کے چھن جانے کا خوف دامنگیر ہے ، اس لئے جب تک سیاست کے ان اونچے استھانوں میں کسی بات پر سمجھوتہ نہ ہو جائے نگران وزیراعظم کے نام کو فائنل کرنے کی نوبت نہیں آسکے گی ، چونکہ ماضی میںیہ بار بارایک دوسرے کے ڈسے ہوئے ہیں اس لئے دونوں کے مابین عدم اعتماد کے سائے اس قدر گہرے ہو چکے ہیں کہ اس گہری کھائی کو پائنا دونوں کیلئے ممکن نہیں ہے ۔

کچھ تم کو بھی عزیز ہیں اپنے سبھی اصول

کچھ ہم بھی اتفاق سے ضد کے مریض ہیں

نگران وزیرا عظم کی تقرری کا اختیار پہلے صدر پاکستان کا استحقاق ہوا کرتا تھا لیکن 2012ء میں آصف زرداری کے دور میں 20ویں آئینی ترمیم کے تحت یہ گنجائش ڈھونڈی گئی اور صدرمملکت سے یہ اختیار وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کو منتقل ہوگیا ، جو بتدریج عدم اتفاق کی صورت میں پہلے پارلیمانی کمیٹی اور پھر بھی اتفاق نہ ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن کے پاس حتمی فیصلے کیلئے یہ اختیار چلا گیا ، اسی طرح صوبوں میں بھی یہی طریق کار طے کیا گیا ، اب جبکہ خبریں آرہی ہیں کہ قائد ایوان اورحزب اختلاف کے مابین حتمی صورت اختیار نہیں ہورہی تو ظاہر ہے دوسرے مرحلے پر پارلیمانی کمیٹی سے رجوع کیا جائے گا اور اگر ایسا ہوا تو حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے چار چار اراکین مل بیٹھ کر فیصلہ کریں گے ، جبکہ اطلاعات کے مطابق حکومت کے چار اراکین کے مقابلے میں اپوزیشن کے چار ارکان میں سے دو پیپلز پارٹی جبکہ ایک ایک رکن بالترتیب پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم سے لئے جائیں گے ، سیاسی حلقوں میں جو خبریں گردش کررہی ہیں ان کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے مابین (شدید اختلافات کے باوجود مبینہ طور پر پس پردہ رابطوں میں اتفاق ہو چکا ہے جبکہ ایم کیو ایم بھی ان دنوں سندھ حکومت سے سخت نالاں دکھائی دے رہی ہے ، گویا یہ تینوں مل کر پیپلز پارٹی کے مجوزہ ناموں کو مسترد کر سکتے ہیں کیونکہ جو نام حکومتی حلقوں نے دیئے ہیں ان میں سے ایک پر تحریک انصاف بھی متفق قرار دی جارہی ہے ۔ موجودہ ڈیڈ لاک یقیناسیاسی حلقوں کے مخاصمانہ رویوں پر دال ہے ، حالانکہ انتخابات کے حوالے سے نگران حکومتوں تک بات جانی ہی نہیں چاہیئے ۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں برسر اقتدار حکومتیں ہی اگلے انتخابات کروانے کی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں یعنی جو حکومت بر سر اقتدار ہو وہی اگلے انتخابات کروانے کا فریضہ انجام دیتی ہیں تاہم وہاں بھی چنداصول ہیں ،وہاں کی پارلیمانی روایات میں انتخابات کے مواقع پر الیکشن کمیشن اس قدر مضبوط اور بااختیار ہوتے ہیں کہ اس کے احکامات سے سر تابی کی کسی میں جرأت ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی الیکشن کے شیڈول کے مطابق انتخابی سرگرمیاں شروع ہوتی ہیں بر سر اقتدار حکومتوں کے اختیارات محدود ہوجاتے ہیں ، بد قسمتی سے ہم اپنے ہاں اس قسم کی پارلیمانی روایات قائم کرنے میں آج تک کامیاب نہیں ہوسکے بلکہ ہمارے ہاں انتخابات میں دھاندلی کی نئی شرمناک داستانیں رقم ہوتی رہتی ہیں ، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آج تک سیاسی رہنمائوں نے مل کر ایسے قوانین بنانے پر توجہ ہی نہیں دی جن سے الیکشن کمیشن کو مضبوط اور با اختیار بنا کر اسے انتخابی دھاندلیوں کی موثر روک تھام کے قابل بنایا جا سکے ۔ کیا آنے والی اسمبلی اس اہم سوال پر غور کرنے کو تیار ہے ؟ اور کیا ساری جماعتیں اپنے انتخابی منشور میں بااختیار الیکشن کمیشن کیلئے قانون سازی کا نکتہ شامل کرکے اسے عملی صورت دیں گی ؟ تاکہ کسی نگران حکومت کی ضرورت ہی نہ پڑے !!۔

تم سے اک رسم تک نہیں ٹوٹی

بات کرتے تھے تم ستاروں کی

متعلقہ خبریں