Daily Mashriq


سٹریس

سٹریس

رمضان کا مہینہ تدبر سکھاتا ہے ۔ بھوکے پیٹ اور پیاسے لبوںسے انسان کومادیت سے تھوڑا کنارہ میسر آجاتا ہے ۔ایسے میں کچھ سوچا جائے تو سمجھنے میں آسانیاں آجاتی ہے ۔جیسے انسان جب مرجاتا ہے تو اس کا جسم اکڑجاتا ہے اور یہی مردے کی نشانی ہے ۔زندہ لوگ اکڑتے نہیں ۔ میں اکثر اس بات پر سوچتا ہوں کہ اس بات میں کتنی سچائی ہے ۔ ہم زندہ ہیں مگر مردوں کی طرح اپنے اکڑے ہوئے جسموں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ نہ جانے کیوں ہم بلاوجہ اپنے شب و روز ایک خاص سڑیس کی کیفیت میں گزارتے ہیں ۔ ہم اپنے دفتر یا کاروبار میں،بازاروں میں اور اپنے گھروں میں سچ مچ ایک سٹریس کی کیفیت میں رہتے ہیں ۔اس کیفیت کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم بہت سی نازک اور منفرد احساسات جو محسوس ہی نہیں کرپاتے ۔ ہمارے اردگر دبہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن سے تحمل سے بات کرکے ، ان کی کمپنی میں بیٹھ کر ہم لطف اٹھا سکتے ہیں ۔مگر اس اعصابی دباؤ کی وجہ سے ہمیں ان پیارے لوگوں کی صورتیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں اور باتیںپھیکی سی لگتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد بہت سی خوبصورتیاں موجود ہوتی ہیں مگر ہم انہیں دیکھ ہی نہیں پاتے ۔یہ خوبصورتیاں فطرت کی خوبصورتیاں بھی ہیں اور انسانوں کے رویوں کی بھی ۔ فضا میں پھیلی بے شمار خوشبوئیں ہمارے مشام جان تک پہنچ ہی نہیں پاتیں۔پہنچیں بھی کیسے کہ سونگھنے کے لیے سونگھنے کی صلاحیت بھی تو ہونی چاہیئے جب یہی صلاحیت معطل ہوجائے تو خوشبو اور بدبو میں تمیز قائم نہیں رہ پاتی ۔ ہم بہت سے کھانوں کے ذائقے تک محسوس نہیں کرسکتے ۔اعصابی دباؤ کی مثال کسی بخار جیسی ہے کہ جیسے بخار میں ہمارے منہ کا ذائقہ خراب ہوجاتا ہے اور لذیذ سے لذیذچیز بھی ہمیں بدذائقہ ہی محسوس ہوتی ہے ۔اور تو اور ہم اپنے گھروں میں اپنے بچوں کی معصومیت تک کومحسوس نہیں کرپاتے ، کہ جن کی پیاری پیاری باتیں ہماری روح تک کو بالیدہ کرسکتی ہیں لیکن ہمیں اپنے سٹریس کی وجہ سے ان کا معصوم وجود محسوس ہی نہیں ہوتا وجہ یہی ہوتی ہے کہ ہمارے اعصاب اکڑچکے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے اس کا جواب اگر تلاش کیا جائے تو اس کی وجوہات سامنے آسکتی ہیں ۔اعصاب کا تعلق ظاہر ہے انسان کے دماغ سے ہے اور انسان کا دماغ شعور اور لاشعور کے ساتھ چلتا ہے ۔ انسان کی خواہشیں ، انسان کے کمپلیکس ہی انسان کے رویوں پر اثرانداز کررہے ہوتے ہیں ۔ ہم جس منطقے میں رہتے ہیں اس میں مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ وہ وسائل کو کھاجاتے ہیں اور ہم اپنی ادھوری آرزوئوں کے ساتھ جیتے جیتے جب تھک جاتے ہیں ہمارے اعصاب اکڑنے لگتے ہیں اور پھر ہمارا چہرہ سپاٹ ہو جاتا ہے ۔ ہماری آنکھیںروایتاً یا عادتاً مسکراتی ہیں ۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہمیں غصہ آنا شروع ہوجاتا ہے جسے ہم خود سے کمزور پرنکال لیتے ہیں ۔ ہمارے اس سٹریس کی وجہ سے بہت سے لوگ ہم سے دور رہتے ہیں۔ ہم چونکہ ایک مصنوعی قسم کے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں سچائی کی جگہ جھوٹ اور منافقت کی حکمرانی ہے۔ جھوٹ کا یہی سائیڈ ایفکٹ ہماری رہتل میں بھی در آتا ہے اور ہماری اپنی ذات کے گرد بہت سارے مصنوعی حصار چڑھادیتے ہیں ۔ اور ہماری اصل شخصیت کہیں دب کر رہ جاتی ہے ۔اس مصنوعیت کے بھرم کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں جہاں ہزار جتن کرنے پڑتے ہیں وہیں غیر محسوس طور پر ہم اپنی ذات میں ایک اعصابی تناؤ محسوس کرتے ہیں ۔ جیسے کوئی افسر اپنے ماتحتوں کے ساتھ ایک خاص تکلف والا رویہ رکھتا ہے اور بدلے میں چاہتا ہے کہ ماتحت بھی جی حضوری ٹائپ کا انداز اپنائے ۔ یہاں ہماری انا بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے ۔ انا کی بھی دو کیفیات ہوتی ہیں۔ صحت مند انا کو یہ مسئلہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا ہے اور کیا کررہی ہے بس اس کا انداز بالکل نارمل ہوتا ہے ۔ جبکہ بیمار انا ہر ایک بات پر فیصلہ دیتی ہے اور انسان کا رویہ اسی انا کے مطابق تبدیل ہوجاتا ہے مگر یہ تبدیلی فطری نہیں ہوتی بلکہ مصنوعی ہوتی ہے ۔سادگی اس ساری صورتحال کا اچھا توڑ ہوسکتی ہے۔ سادگی انسان کی زندگی کو آسان بنادیتی ہے اور جب زندگی آسان ہوجائے تو رویوں میں مثبت تبدیلی آجاتی ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم سماج سے سیکھتے ہیں اور آج کے دور میں سادگی سکھانے والا کوئی سماجی ادارہ موجود نہیں ۔ ہر طرف مصنوعیت کا بول بالا ہے ۔ زندگی اور زندگی کے رویے اتنے میک اپ زدہ ہوچکے ہیں کہ ہمارے سادہ چہرے ان منوں میک اپ تلے چھپ گئے ہیں ۔ عاجزی و انکساری کہ جو انسان کی اعلیٰ صفات ہیں وہ آج کے دور میں انسان کے ورتاوے سے نکل چکی ہیں ۔ عاجزی وانکساری کی وجہ سے انسان تصنع اور بناوٹ سے پاک ہوجاتا ہے ۔ مصنوعیت کا کیڑا انسان کو نہیں کاٹتا ۔ انسان اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے کمتر محسوس کرتا ہے اور یہی انسانیت کی معراج ٹھہرتی ہے ۔ اللہ انسان کی اس صفت کو پسند کرتا ہے کہ بہت کچھ ہوکر بھی خود کو کچھ نہ سمجھے ۔ اور سمجھے بھی کیوں جب ہر چیز جو انسان کو دی گئی ہے وہ واپس لے لی جائے گی یہاں تک کہ انسان کی جان بھی تو پھر غرور کیسا اور تکبر کیوں ۔