Daily Mashriq


مدت پوری کرتی اسمبلی اور کمزور ہوتی جمہوریت

مدت پوری کرتی اسمبلی اور کمزور ہوتی جمہوریت

بہت سے لوگوں کو شبہ تھا کہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی، مگر اگلے ہفتے قومی اسمبلی اپنی 5 سالہ مدت پوری کرلے گی۔ کئی طوفان آئے جنہوں نے سیاسی عمل کو جھنجھوڑا مگر نظام قائم رہا۔ ایک منتخب حکومت کی جانب سے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار کی منتقلی اب ایک حقیقت کا روپ لیتی نظر آرہی ہے، تاہم پھر بھی کچھ رکاوٹیں ہیں جنہیں پار کرنے کی ضرورت ہے۔یہ حقیقتاً ملک کے ناہموار جمہوری سفر میں ایک نازک وقت ہے۔ یہ 5 برس بھی گزشتہ 5 برسوں کی ہی طرح ہنگامہ خیز رہے، جس میں ایک بار پھر ایک منتخب وزیرِاعظم کو عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ انتخابات کے بعد ملک کا نگران تو ہر صورت تبدیل ہوگا لیکن کیا اس سے نظام میں کوئی معیاری تبدیلی واقع ہوسکتی ہے؟یہ دیکھنا باقی ہے کہ جس منتقلی کے بارے میں اتنا شور مچایا گیا ہے وہ موجودہ طاقت کی ڈائینامکس کو تبدیل کرپاتی ہے یا نہیں اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرسکتی ہے یا نہیں، یا پھر یہ منتخب باڈیز کو مزید کمزور کرنے کی وجہ بنتی ہے جن کی کمی کو غیر منتخب ادارے پورا کرنے آجائیں گے۔ ایک ایسے ہائبرڈ سیاسی نظام کے قیام کے بارے میں خدشات کو بے بنیاد نہیں کہا جاسکتا کہ جس سیاسی نظام میںغیر سیاسی قوتیں اقتدار پر حاوی ہوں بلکہ ملک پہلے ہی اس عجیب سی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔

یہ صرف ریاست کے اداروں میں طاقت میں عدم توازن کا تنازع ہی نہیں جو اس بے ترتیبی کی وجہ بنی ہے بلکہ سیاسی قیادت بھی اس جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی ذمہ دار ہے۔ پارلیمنٹ تو بس ایک تند و تیز بحث و مباحثہ کرنے والی جگہ بننے تک محدود ہوچکی ہے جہاں قیادت منتخب ایوان کا ادب و احترام ہی نہیں کرتی۔اراکین سے لے کر بڑے سیاسی رہنماؤں تک تمام ہی اسمبلی کی کارروائیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اجلاس میں اراکین کی شرکت کی شرح 25 فیصد سے بھی زیادہ ہوگئی ہے جس کے باعث اجلاس کو ملتوی کردیا جاتا ہے۔ جب نواز شریف خود اقتدار میں تھے تب بھی وہ شاذو نادر ہی اجلاسوں میں شرکت کرنے آئے۔ منتخب اداروں کی اس طرح توہین کرنے کے بعد اب ان کا نعرہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کھوکھلا سا محسوس ہوتا ہے۔

چند حزب اختلاف جماعتیں بھی پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے تقریباً ایک سال تک قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کیے رکھا اور جب ان کی پارٹی نے بائیکاٹ ختم بھی کردیا اس کے بعد بھی وہ بہت ہی کم ایوان میں نظر آئے۔ اس طرح قانون ساز سیاسی اور ادارتی بحرانوں کو حل کرنے کے قابل ہی نہیں رہے، اور اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ ملک مضبوط جمہوریت کے لیے مستحکم منتقلی میں ناکام رہا ہے۔یہ سچ ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ میں بغیر کسی رکاوٹ کے سویلین حکمرانی کے طویل ترین دور میں داخل ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود بھی جمہوریت کمزور ہوتی نظر آرہی ہے۔منتخب قیادت کی جانب سے پارلیمنٹ اور سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر مؤثر قرار دیئے جانے اور کمزور گورننس سے عدلیہ کو اپنا کردار وسیع کرنے کا موقع فراہم ہوا۔داخلی پالیسی پر ہم آہنگی کی کمی اور قومی مسائل پر عدم توجیہی سے جمہوری عمل مزید کمزور ہوا۔ جمہوری کلچر اور اقدار کے نہ پنپنے کی ایک وجہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کا نہ ہونا بھی ہے۔ زیادہ تر جماعتیں خاندانی موروثیت یا پھر شخصیت پرستی کا شکار ہیں۔اہم پالیسی مسائل پر پارٹی کے اندر بحث و مباحثے کی کوئی روایت نہیں اور تمام تر فیصلے بس لیڈران ہی کرتے ہیں۔ پہلے سے بہتر معیاری جمہوریت کی طرف بڑھنے کے بجائے پاکستان برعکس سمت پر گامزن ہے خاص طور پر 2013ء سے تو بڑی تیزی سے اس سمت میں گامزن ہے جب مسلم لیگ اقتدار میں لوٹی اور نواز شریف ریکارڈ تیسری بار ملک کے وزیرِاعظم بنے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرینسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، جہاں 2013ء میں جمہوریت کا معیار 4 برسوں میں اپنی بلند ترین شرح 54 فیصد پر تھا، وہیں 2014ء میں یہ شرح 10 فیصد تک گرتے ہوئے 44 فیصد رہ گئی۔ پھر 2015ء میں یہ صورتحال تھوڑی بہتر ہوئی اور 50 فیصد ہوئی لیکن 2016ء کے آخر تک یہ شرح ایک بار پھر گر کر 46 فیصد پر آگئی۔ گزشتہ 2 برسوں میں صورتحال اور بھی خراب ہوچکی ہے۔پاکستان میں جمہوریت کی صورتحال بد سے بدتر ہونے کی وجہ انتہائی اہم مطلوبہ اصلاحات کی کمی ہے۔ جمہوری اداروں میں اہم کام کرنے کے انداز میں کوئی ٹھوس بہتری نہیں آئی۔ جمہوری طرزِ حکمرانی کی مجموعی ناکامی کا ایک پہلو اس کا اہم معاشی، سماجی اور سیاسی معاملات پر ڈلیور نہ کرنا بھی ہے، جس کے نتیجے میں جمہوریت پر لوگوں کا اعتماد انتہائی کمزور ہوا۔یہ وہ اہم مسائل ہیں جو ملک کے سیاسی عمل کے لیے وبالِ جان بنے ہوئے ہیں۔ عنقریب ہونے والے انتخابات ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے کافی اہم ہیں۔ انتخابات کے بعد ایک نئی پارلیمنٹ اور نئی حکومت کو مضبوط حکمرانی کے لیے ان اہم مسائل کو حل کرنا ہوگا اور انہیں منتخب کرنے والوں کو ڈلیور کرنا ہوگا۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سطح پر اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن آخر میں سوال وہی ہے کہ کیا ہمارے لیڈران اپنی کوتاہیوں سے سبق حاصل کرپائیں گے اور ملک کو جمہوری استحکام کی طرف لے جائیں گے؟ ۔ (بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں