Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

الحکم کا پوتا محمد اپنے باپ عبدالرحمن دوم کی وفات کے بعد 852ء میں ہسپانیہ کا فرمانروا ہوا۔ رحم دلی، عدل اور شجاعت میں بے نظیر تھا۔ اس کے زمانے میں انڈالوشیا (اسپین) کے عالموں میں یہاں تک اختلاف ہوگیا کہ بادشاہ تک ایک دوسرے کی شکایتیں پہنچنے لگیں۔ علمائے قرطبہ کی دارالخلافہ میں رہنے کی وجہ سے بادشاہ تک رسائی تھی، اسلئے حافظ عبدالرحمن باقی بن مجالہ (باشندہ انڈالوشیا) کو اپنی عزت کا بہت خطرہ تھا۔ علمائے قرطبہ نے بادشاہ سے کہا کہ حافظ باقی فتنہ وفساد کرتا ہے اور اس قسم کی تعلیم دیتا ہے جو آیات واحادیث کیخلاف ہے، ہمارے موید تیرہ سو اور اس کے صرف 284علماء ہیں اور ان میں بھی جو اصل علماء کہلانے کے مستحق ہیں، وہ صرف دس ہیں۔ بادشاہ خود بھی عالم تھا، اس نے کہا میں حافظ باقی کو بلاتحقیقات نہ جلاوطن کر سکتا ہوں، نہ قید اور نہ کوئی سزا دے سکتا ہوں، میں ہر گروہ کے دلائل خود سنوں گا۔چنانچہ وقت مقررہ پر حافظ باقی اور بڑے بڑے علماء شاہی محل میں جمع ہوئے، بادشاہ نے ابوحوسیبہ کی کتاب کو خود دیکھا اور جانچا اور جس طرح وہ ابوحوسیبہ کی شرح کرتے تھے، اس کو سنا اور بعد میں کہا کہ دونوں گروہوں میں جو اختلاف ہے، وہ نہایت ضعیف ہے اور بالکل خفیف باتوں میں ہے، حافظ باقی کے مسائل بالکل صحیح ہیں اور ان کے وعظ اور درس میں دست اندازی کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ لوگوں کو روشن ضمیری اور شائستگی اختیار کرنے سے منع کرنا ہے، علمائے قرطبہ یہ سن کر خاموش ہوگئے۔

(سنہرے واقعات)

شاہ محمد ہسپانیہ کے بہترین مسلمان بادشاہوں میں تھا، 35سال کی حکمرانی کے بعد887ء میں انتقال ہوا، اس کی موت کا واقعہ نہایت عجیب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بادشاہ کیسا رقیق القلب اور خوف خدار کھنے، موت کو یاد کرنے اور عبرت انگیز حالات سے متاثر ہونے والا تھا۔ بادشاہ ایک دن مصاحبین کیساتھ شاہی محلات کے باغات کی سیر کر رہا تھا کہ ایک مصاحب نے کہا، زندگی کا لطف صرف بادشاہوں کیلئے ہی ہے، خوشی اور عیش فقط انہی کیلئے ہے، لیکن موت ایک ایسی زبردست چیز ہے کہ عیش وعشرت کا تمام کارخانہ درہم برہم کر دیتی ہے۔بادشاہ نے کہا ظاہر بینوں کو بادشاہ مثل خوشبودار پھولوں کے دکھائی دیتے ہیں، لیکن کیا ان کو معلوم نہیں کہ گلاب کے پھولوں کیساتھ تیز اور نوک دار کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ موت بیشک سب قصے تمام کر دیتی ہے لیکن موت ان لوگوں کیلئے حیات ابدی اور مسرت روحانی کا باعث ہے، جو دنیا میں نیک نام رہے اور نیک کام کرتے رہے ہیں۔ اس کے بعد مجلس برخاست ہوگئی، بادشاہ آرام کرنے کیلئے محل میں گیا اور سو گیا لیکن جب خدام نے دیکھا کہ بادشاہ حسب معمول نماز کو بھی نہیں اٹھا تو انہیں فکر دامن گیر ہوئی، وہ خواب گاہ میں گئے، وہاں جاکر معلوم ہوا کہ بادشاہ کچھ اس طرح سویا کہ حشر تک دوبارہ نہیں جاگ سکتا۔ (سنہرے واقعات)

متعلقہ خبریں