Daily Mashriq

بی جے پی کی کامیابی اور پاک بھارت تعلقات

بی جے پی کی کامیابی اور پاک بھارت تعلقات

بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی کی جماعت بی جے پی اور ان کے اتحادیوں کو عام انتخابات میں واضح برتری بھارت میں حکومت سازی اور وہاں کے عوام کیلئے ہی اہمیت کا حامل ہے اس کے باوجود اسے پاک بھارت تعلقات سے بھی جوڑا جارہا ہے اصولی طور کسی ملک کی خارجہ پالیسی اس ملک کی ہوتی ہے کسی سیاسی جماعت کی کامیابی اور حکومت سازی ملکی خارجہ پالیسی پر پوری طرح اثر انداز نہیں ہوتی بنا بریں امکان اسی کا ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں البتہ عالمی حالات ، عالمی طاقت کا دبائو اور خطے کی صورتحال کا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہونا نا ممکن نہیں ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پلوامہ واقعہ بالاکوٹ حملہ اور پاکستانی شاہینوں کے مسکت اور مئوثر جواب جیسے معاملات انتخابات میں کامیابی اور بی جے پی کا قوم پر ستانہ جذبات ابھار کر کامیابی کی راہ ہموار کرنے کی حد تک ہی ہونے اور رہ جانے کا زیادہ امکان ہے نریندر مودی نئی مدت اقتدار میں شاید ہی اس کرداروعمل کا مظاہرہ دہرائیں جو انتخابی تیاری کے دنوں میں کیا تھا اس کے باوجود یہ امر بھلانے کا حامل نہیں کہ بھارت اس گہرے گھائو کو بھلا نہ پائے جو اتنا غیر متوقع اور مئوثر تھا کہ جسے دنیا نے دیکھا حقیقت اس سے کہیں بڑھ کر تھی پاکستان کا گزشتہ روز بیلسٹک میزائل شاہین ٹو کا کامیاب تجربہ دفاعی صلاحیتوں کو تقویت دینے کا عملی اظہار ہے اگرچہ کوئی فوری خطرہ نہیں لیکن اس کے باوجود صوبائی دارالحکومت کی فضائوں میں جنگی طیاروں کی گھن گرج سنی گئی ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی اور میچ کی ہار جیت پر فائرنگ کے واقعات معمول کا حصہ ہیں ان حالات میں حکومت کی تبدیلی زیادہ اہمیت کا حامل معاملہ نہیں لیکن بہرحال حکومت کی پالیسیوں کے اثرات اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوبت سے انکار ممکن نہیں ہر کامیابی کے بعد روایتی پیغامات کا جس طرح تبادلہ ہوتا ہے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان اس کا اعادہ ہوا ہے۔ ماضی میں دیکھاجائے تو بی جے پی کے دور حکومت میں پاک بھارت تعلقات نسبتاً بہتر رہے ہیں۔ بی جے پی کے مختلف ادوار میں پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں مثبت تبدیلیاں آتی رہی ہیں جبکہ کانگرس کی ادوار میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ بلکہ کانگرس کے ادوار میں دونوں ممالک میں تعلقات کے حوالے سے بڑے بڑے سانحات پیش آئے ہیں۔البتہ پاکستان کے لیے مودی کا باحیثیت وزیراعظم آپشن ہمیشہ سے تشویش کا باعث رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان کے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کو لے کر چلنے کا طریقہ کار اور فرقہ واریت پر مبنی سیاست کو ہوا دینا ہے۔ تاریخی اعتبار سے جب انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اس میں بڑی طاقتوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 1950میں لیاقت علی خان اور نہرو کے درمیان صلح کی بات ہو یا نہرو اور ایوب خان کے درمیان بات چیت، بھٹو اور سردار سوران سنگھ کے درمیان مذاکرات ہوں یا ضیا الحق کے دور میں کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے تعلقات بہتر کرنا، کارگل واقعے سے پہلے ہونے والے مذاکرات یا مشرف کے زمانے میں مذاکرت کی بحالی ہر مرتبہ بیرونی قوتوں بشمول امریکہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں کہ تعلقات میں بہتری کی مساعی کے ساتھ ہر قسم کے حالات کیلئے تیار رہے اس وقت صورتحال زیادہ حوصلہ افزاء بھی نہیں حالیہ کشیدگی کے بعد سے اب تک دونوں ممالک میں افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور اعتماد کی بحالی کی جانب پہلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ اس حوالے سے صورتحال کو معمول پر لایا جائے۔بی جے پی کی حکومت اس مرتبہ زیادہ مینڈیٹ کے ساتھ آئی ہے اور ان پر اب ایسا اندرونی دبا ئونہیں ہو گا جو کم اکثریت سے بننے والی حکومتوں پر عموما ہوتا ہے تاہم اب دیکھنا ہو گا کہ حاصل ہونے والی اس اکثریت کی جھلک مودی سرکار کی فیصلہ سازی میں نظر آئے گی یا نہیں۔ نئی حکومت کے پاس اب پانچ سال ہیں اور ان کو سوچنا ہو گا کے معاملات کیسے آگے بڑھیں گے۔ الیکشن میں عوامی پذیرائی کے لیے مودی نے اپنا لب و لہجہ اور پالیسیاں پاکستان کے حوالے سے سخت رکھی ہیں مگر اب وہ جیت چکے ہیں اور ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ واجپائی جیسا کوئی کارنامہ سرانجام دے پائیں گے۔ماضی میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دینے والے پاکستان کے متعدد سینیئر ریٹائرڈ فوجی افسران کا خیال ہے کہ انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی کامیابی برصغیر کے لوگوں کی قسمت بدل سکتی ہے اور امن کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔اور ایک طاقتور جماعت ہی ایسا کر سکتی ہے۔پاکستان اور بھارت کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ وہ باہم تعلقات کو کشیدگی کے ماحول سے پاک کرتے ہوئے متنازعہ معاملات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں سرحد کے دونوںپار آنے والی حکومتوں کی اولین ترجیح امن وآشتی ہونی چاہیے تاکہ خطے میں امن اور عوام کی خوشحالی کی راہ ہموار ہو۔

متعلقہ خبریں