Daily Mashriq

فرشتہ کے لواحقین کو انصاف دیا جائے امدادی رقم نہیں

فرشتہ کے لواحقین کو انصاف دیا جائے امدادی رقم نہیں

اسلام آباد میں اغوا اور زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی فرشتہ کے کیس میں غفلت برتنے پر ایم ایل او پولی کلینک ہسپتال کی برطرفی اپنی جگہ لیکن پولیس نے پیٹی بند بھائیوں کی نصف یوم میں ہی ضمانت کروا کر اس کا نوٹس لینے والوں کا جو مذاق اڑایا ہے یہ وہ روایتی ہتھکنڈے ہیں جس کے باعث اس طرح کے واقعات کا اعادہ کرنے والوں کو ذرا بھی خوف نہیں آتا۔حکومت کا فرشتہ کے لواحقین کو مالی امداد کے طور پر 20 لاکھ روپے دینے کی منظوری غمزدہ خاندان سے ہمدردی میں کیا ہوتا تو درست تھا لیکن پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں لواحقین کی مالی مدد کا مطالبہ بالکل بھی مناسب نہ تھا۔پشتون تحفظ موومنٹ ایک جانب پشتونوں پر مظالم کی بات کرتی ہے اس طرح کے واقعات کے متاثرین کو امداد دلوانے کے بعد احتجاج ختم کر کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دینے کے مترادف ہے نقیب اللہ محسود کا کیس بھی اسی طرح سے کمزور کیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انسانی معاملات نا انصافی، یہاں تک کہ قتل اور بربریت کے واقعات کے ذمہ داروں کو ریاست وحکومت پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام تک پہنچانے اور انصاف دینے کے بعد ہی لواحقین ومتاثرین کی تالیف قلب کیلئے بلکہ ریاست وحکومت کی ناکامی کے خراج کے طور پر اگر مالی مدد کرے تو احسن ہوگا ابھی فرشتہ کے قاتلوں اور درندوں کو بے نقاب ہونا باقی ہے ان کی گرفتاری اورعدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کی ذمہ داری باقی ہے اس موقع پر متاثرین کی مالی امداد کی نہیں ان کو انصاف دلانے کی ضرورت ہے پھر بھی اگر امداد ضروری ہو تو حکومت اس کا اعلان کر کے اورنوٹیفیکشن کا اجراء کر کے اس کی تشہیر کر کے نہ کرے بلکہ خاموشی کے ساتھ لواحقین کی مدد کر ے احتجاج ختم کرنے کیلئے عوض طے کرنے والوں کو بھی سوچنا چاہیئے کہ ان کے اس اقدام سے لواحقین کی مدد ہوگی یا تضحیک ۔فرشتہ کے والد کا بیان تھا کہ میڈیا اور حکومت ان کو اکیلا چھوڑ دیں ان کو تماشہ نہ بنایا جائے حکومت جب تک انصاف کی ذمہ داری پوری نہیں کرتی اس وقت تک امدادی رقم کی وصولی کو مئوخر رکھا جائے اور بنیادی مطالبہ انصاف ہی کا رکھا جائے تو بہتر ہوگا۔

پسند کی شادی کرنے والوں کا قتل کب تک؟

خیبرپختونخوا میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کا ان کے رشتہ داروں کی طرف سے تاک میں رہ کر قتل کے واقعات کا روزانہ کی بنیادوں پر ہونا ایک المیہ بن چکا ہے ہمارا معاشرہ پسند کی شادی اور لڑکا لڑکی کی رضامندی جیسی بنیادی چیز کو اہمیت دینے پر تیار نہیں جبکہ معاشرے کی سخت گیری کے باعث معاشرتی بغاوت اور والدین کی سخت روی کے باعث ان کے بچے جو فیصلہ کرتے ہیں وہ نہ تو ان جوڑوں کے حق میں اچھا ثابت ہوتا ہے اور والدین کیلئے تو یہ معاشرہ بہرحال شرمساری کے باعث ہی ٹھہرتا ہے معاشرے اور ثقافت کا تعین چونکہ افراد کرتے ہیں اس لئے اس کی تبدیلی اور اس بارے کوئی تجویز کا ر گر نہ ہوگی البتہ دینی حوالوں سے دیکھا جائے تواسلام عاقل بالغ کو اپنی مرضی سے جوڑا چننے کی نہ صرف پوری آزادی دیتا ہے بلکہ اس موقع پر پردے کے حکم میں بھی نرمی کرتے ہوئے ایک نظر دیکھنے کی بھی اجازت دیتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی اولاد کی تربیت اس طرح نہیں کرتے جس طرح ماضی میں ممکن تھا لیکن ان سے توقع غیر حقیقت پسندانہ طور پر رکھتے ہیں اولاد کی مرضی او رپسند کا خیال نہ رکھنے ہی کی بناء پر وہ ایسا قدم اٹھاتے ہیں جسے برداشت نہیں کیا جاتا اگر معاملات کونصیحت اور روکنے کی کوشش تک رکھا جائے اور پھر بھی اولاد ماں باپ پر اپنے فیصلے کو تسلیم کرنے پر اور دینے پر ان کی خوشی کو مقدم رکھا جائے تو اس قسم کے واقعات کی نوبت نہ آئے یا کم از کم ان کی شرح خاصی کم ہوسکتی ہے جوبچے بغاوت پر اتر آئیں اور غلط قدم اٹھائیں ان کو قتل کرنے ان کی زندگی چھین کر اپنی دنیا وآخرت کی بربادی اور تکلیف دہ بنانے کا راستہ اختیار کرنا نہ کوئی بہادری ہے اور نہ ہی اسے غیرت کا تقاضا گرداناجانا چاہیئے۔ اولاد کو بھی حتی الوسع ایسے قدم اٹھانے سے گریز کی ضرورت ہے جو ان کے والدین کیلئے گھریلو اور معاشرتی طور پر تکلیف اور خجالت کا باعث ہوں۔

ڈاکٹروںکو رعایت پوری تصدیق کے بعد دی جائے

ڈاکٹرز کی جانب سے تبادلوں پر اعتراضات کی روشنی میں محکمہ صحت نے ذاتی دشمنی اور سپائوس پالیسی کی روشنی میں ڈاکٹرز کو ڈومیسائل کے مطابق آبائی اضلاع میںتبادلوں میںرعایت دینے کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہیئے لیکن اس امر کی تصدیق میں احتیاط کی ضرورت ہوگی کہ پیش کردہ جوازحقیقی ہے تاکہصرف حقیقی افراد ہی کو رعایت مل سکے۔ اور اس رعایت کا غلط استعمال نہ ہو۔

متعلقہ خبریں