Daily Mashriq

مرگ بر امریکہ (ll)

مرگ بر امریکہ (ll)

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ تنازعے کے پہلے مرحلے کا آغاز 2007ء میں اس وقت ہوا جب ایران نے اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جوہری وسائل استعمال کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے خلیجی اتحادیوں کا خیال تھا کہ ایران توانائی کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنارہا ہے۔ 2010ء میں ایران پر سخت تجارتی پابندیاں عائد کردی گئیں اور چین نے وعدے کے باوجود پابندیوں کی قرارداد کو ویٹو نہ کیا۔سخت پابندیو ں سے پریشان ہوکر ایران نے مذاکرات شروع کیے اور برسوں کے جانگسل مول تول کے بعد 14 جولائی 2015ء کو پابندیاں ہٹانے کے عوض ایران یورینیم کی افزودگی ختم کرکے اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے پر رضامند ہوگیا۔ معاہدے کے متن کی تیاری کا مرحلہ بھی اتنا آسان نہ تھا۔ آخرکار 18 اکتوبر 2015ء کو معاہدے پر دستخط کے بعد 16 جنوری 2016ء سے اس پر عمل درآمد شروع ہوااور ایران پر سے پابندیاں ہٹالی گئیں۔ یہ معاہدہ برنامہ جامع اقدام مشترک یا JCPOAکہلاتا ہے۔اس معاہدے کو صدر اوباما اور اقوام متحدہ نے مثالی قراردیا کہ طاقت کے استعمال کے بغیر جوہری تنازع پرامن انداز میں حل کرلیا گیا۔ لیکن اسرائیل کو JCPOA پر شدید تحفظات تھے۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس دوران امریکہ میں صدارتی مہم چل رہی تھی۔ ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ JCPOAکے سخت مخالف تھے۔ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران جوہری معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ انہوں نے تہران کے جوہری پروگرام کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ قراردیا، اور ان کا خیال تھا کہ ایرانیوں نے صدر اوباما کو بے وقوف بناکر ایک جعلی معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں ایران پر عائد معاشی پابندیاں ختم کردی گئیں۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ برسراقتدار آکر وہ اس معاہدے کو منسوخ کردیں گے۔ دلچسپ بات کہ JCPOAکی امریکی سینیٹ سے ایک کے مقابلے میں 98 اور ایوان زیریں سے 25 کے مقابلے میں 400 ووٹوں سے توثیق ہوچکی ہے۔معاہدے کو عالمی جوہری کمیشن IAECکی سہ ماہی تصدیق سے مشروط کیا گیا ہے۔ IAEC اب تک ایرانی جوہری تنصیبات کے 10 معائنے کرچکا ہے اور ہر بار اس کی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ایران جوہری معاہدے پر مخلصانہ عمل درآمد کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود صدر ٹرمپ نے مارچ 2018ء میں JCPOAکی تصدیق کی۔تاہم تصدیق کے صرف دو ماہ بعد 8 مئی کو اپنی نشری تقریر میں صدر ٹرمپ نےJCPOA سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا۔ ان کے لیے امریکی کانگریس سے اپنے فیصلے کی توثیق ممکن نہ تھی، چنانچہ انہوں نے صدارتی فرمان جاری کرکے اپنی خواہش کو مہر تصدیق عطا کردی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ ایران پر دوبارہ وہی پابندیاں عائد کردی جائیں جو رول بیک کے اس معاہدے سے پہلے اس پر لگائی گئی تھیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایک آمرانہ حکومت ایرانی عوام کے سروں پر مسلط ہے جو 1979ء کے شدت پسند اسلامی انقلاب کا تسلسل ہے، ایران حزب اللہ، حماس اور القاعدہ کا پشتی بان ہے اور مرگ بر امریکہ و مرگ بر اسرائیل ایران کا قومی نعرہ ہے۔ شام میں بشارالاسد کی حکومت کی مدد کے علاوہ ایران عراق اور افغانستان میں بھی شدت پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کو فروغ دے رہا ہے۔ امریکی صدر نے الزام لگایا کہ ایران درپردہ (proxy) لڑائیوں کی سرپرستی کے ذریعے علاقے میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے جس کی وجہ سے تہران علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سیکورٹی کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے تہران کے خلاف فردِ جرم میں یہ الزام بھی ٹانک دیا کہ ایرانی حکومت شمالی کوریا کو مالی و تیکنیکی مدد فراہم کررہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہ کرسکے، تہران پر عبرت ناک پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

اگر امریکہ ایران کے گھیرائو میں سنجیدہ ہے تو یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر نہیں، کہ امریکہ اسلام آباد کو اس جنگ کا ہراول دستہ بنانے کی کوشش کرے گا۔اس ضمن میں یہ بات بھی بڑی شد ومد کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہے کہ ملک میں ہونے والی دہشت گرد وارداتوں کے لیے ایرانی سرزمین استعمال ہورہی ہے۔ فرقہ وارانہ تعصب کے زیراثر پاکستان اور ایران کے درمیاں خلیج پہلے ہی خاصی گہری ہے۔ آئی ایم ایف اور FATF کی صورت میں ایک طرف پاکستان امریکہ کے شدید دبائو میں ہے تو دوسری طرف اعلیٰ عہدوں پر براجمان آئی ایم ایف کے تنخواہ دار امریکہ کو مفت میں ترغیب کاری (Lobby) کی سہولت فراہم کررہے ہیں۔ امریکیوں کے خیال میں مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے یہ گرم لوہے پر ضرب لگانے کا نادر موقع ہے۔اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے ارباب اختیار خطے کی بدلتی صورتحال سے مکمل آگاہ رہنے کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار رہیں کیونکہ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے ،دوپڑوسی ممالک بھارت اورافغانستان ہمارے لئے پہلے ہی خطرے کی علامت بن چکے ہیں،

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں