Daily Mashriq


زلف امروز کی ظلمت میں گھرا جاتا ہوں

زلف امروز کی ظلمت میں گھرا جاتا ہوں

حالات جیسے بھی ہوں زندگی کی گاڑی نے آگے بڑھتے رہنا ہوتا ہے، اچھے برے حالات زندگی کا اٹوٹ انگ ہوتے ہیں کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں! لیکن جب حالات حاضرہ کو کئی برس بیت جائیں اور امید کی کوئی کرن نظر نہ آئے تو کبھی کبھی اُمیدیں دم توڑ دیتی ہیں:

رخ فردا کے اجالو مجھے آواز بھی دو!

زلف امروز کی ظلمت میں گھرا جاتا ہوں

آج ہر سوچنے والا وطن عزیز کے حالات پر پرنم ہے، حالات جس ڈگر پر چل نکلے ہیں وہ بہت ہی پریشان کن ہے، ہمارے ایک مہربان اکثر کہتے ہیں کہ یار مایوسیاں نہیں پھیلانی چاہئیں، لوگوں کے سامنے امید کی شمع جلاتے رہنا چاہئے، ہمارا بھی اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے، ہر تاریکی میں روشنی کی کرن ضرور ہوتی ہے۔ مسلمان کو ہر لمحہ پُرامید رہنا ہی زیب دیتا ہے لیکن اب اس کا کیا علاج کہ ہم ہر طرف سے آنکھیں موند کر صرف اور صرف اپنے مفادات کے حصول کیلئے سرگرم عمل ہوجائیں، ایک بہت بڑا سوال اکثر ہمارے سامنے کھڑا ہو کر ہمارا منہ چڑاتا رہتا ہے کہ کیا ہم نے پاکستان جیسی نعمت عظمیٰ کی قدر کی؟ آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم یقینا کفران نعمت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ آزادی کے بعد ہم نے جو ذمہ داریاں نبھانی تھیں انہیں ہم نے کس حد تک پورا کیا؟ کیا آج ہر محب وطن پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور نہیں ہے کہ ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانیں قربان کرکے انگریز سے آزادی صرف اس لئے حاصل کی تھی کہ ہم آپس میں ہی لڑتے رہیں، نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی آپس میں اتحاد قائم نہ رکھ سکیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے الجھتے رہیں۔ ہم آج تک اپنا قبلہ درست نہیں کرسکے، سیاستدانوں کا آپس میں دست وگریباں ہونا قومی سلامتی کے حوالے سے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے، اس کے علاوہ قومی سلامتی کے اداروں سے الجھنا کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ اپنے اہم ترین اداروں کو بھی ہم نے اپنی ذاتی خواہشات کے حصول کا ذریعہ بنادیا ہے، اس وقت ہمارا بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے، معیشت روزبروز کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ کمرتوڑ مہنگائی نے سفیدپوش آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے، توانائی کا بحران ہمارا سنگین مسئلہ ہے، صنعتیں رکی ہوئی ہیں، سرمایہ کار اپنا سرمایہ باہر منتقل کررہے ہیں، وطن عزیز کی سلامتی ان کی نظروں میں مشکوک ہے جب حالات خراب ہوں گے تو اپنے سرمائے کے پیچھے ہم بھی باہر کوچ کرجائیں گے۔ اس قسم کی سوچ یقینا بہت بڑی بدقسمتی ہے! ہماری بے اتفاقی اور آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے ہم دشمن کیلئے تر نوالا ثابت ہورہے۔ وہ ہمارے خلاف بڑی آسانی اور سہولت سے سازشوں کے جال بن رہا ہے! وطن عزیز کی موجودہ صورتحال ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے ہم سب جانتے ہیں کہ آج کے جدید دور میں حضرت انسان کی ساری لڑائیوں کی بنیادی وجہ اقتصادیات ہی ہے۔ امریکہ اپنے وطن سے ہزاروں میل دور یہاں کیا کررہا ہے؟ اس کی وجہ بھی اقتصادی ہے اس کے اپنے اہداف ہیں، اپنی ضرورتیں ہیں جنہیں اس نے پورا کرنا ہے۔ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم سب آپس میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں، سیاستدانوں نے اختلافات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے، دشمن کا نادیدہ ہاتھ بھی اپنی جگہ موجود ہے جو بظاہر نظر تو نہیں آتا لیکن اسے ہر جگہ محسوس کیا جاسکتا ہے! لاقانونیت کا بازارگرم ہے امن وامان کی صورتحال ابتر ہے آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا، کیا کسی کے پاس ان مایوس کن حالات کو سدھارنے کا نسخہ نہیں ہے؟ نسخے بھی بہت ہیں اور حکیم صاحبان کی بھی کمی نہیں ہے لیکن اگر کمی ہے تو اخلاص کی! جن کو رہنمائی کا دعویٰ ہے ان کی گردن کا سریا انہیں فریق مخالف کی بات سننے نہیں دیتا، مسیحائی کا دعویٰ کرنے والے اپنے اپنے مفادات کی تکمیل میں کوشاں ہیں، جتنی منصوبہ بندیاں بھی کی جارہی ہیں ان کا تعلق اقتدار کیساتھ ہے اختیار کیساتھ ہے، سب کو اپنے اپنے اثاثوں کی فکر ہے اب تو وہ دل دکھانے والی باتیں کی جاتی ہیں کہ نفرتیں مزید بڑھتی چلی جاتی ہیں، دوریاں ہیں کہ بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالے جانے کی مشق بڑے تواتر کیساتھ جاری ہے، علامہ اقبال نے جس میر کارواں کی بات کی تھی اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر! نگاہ اسی وقت بلند ہوتی ہے جب عام آدمی کیلئے سوچا جائے، عوامی تکلیفات ومشکلات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے، اب یہاں صورتحال یہ ہے کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں روزبروز اضافہ کیا جارہا ہے، عوام بیچارے مشکل حالات کیساتھ اپنی جان ناتواں کیساتھ نبرد آزما ہیں، نوجوان صبح ملازمت کرتے ہیں اور رات کو رکشہ چلاتے ہیں، اب تو ایک ملازمت کا تصور بھی ختم ہوتا چلا جارہا ہے، رزق حلال کی تگ ودو میں ہی سارا وقت صرف ہو جاتا ہے، کسی دوسری طرف دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا، بیروزگاری عروج پر ہے، نوجوانوں کی ڈگریاں گھر میں پڑی پڑی دیمک زدہ ہوچکی ہیں! ہمارے اپنے شہر پشاور میں راہزنی کی وارداتیں روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہیں، گلبہار کے علاقے میں اس قسم کی وارداتیں تو اب روز کا معمول ہوتا چلا جارہا ہے، لوگ نماز کیلئے بھی گھر سے نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں، جانے کس گلی سے کوئی پستول بدست موٹر سائیکل سوار آکر سب کچھ سمیٹ لے جائے! (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں