Daily Mashriq


ایڈیشنل آئی جی کی شہادت‘ اندوہناک واقعہ

ایڈیشنل آئی جی کی شہادت‘ اندوہناک واقعہ

حیات آباد میں ایک مرتبہ پھر پولیس کے اعلیٰ افسر کے قافلے کو نشانہ بنایاگیا۔ قبل ازیں حیات آباد میں دفتر جاتے ہوئے پولیس افسران اور فوجی افسران کے قافلوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ تازہ حملے میں ایڈیشنل آئی جی کے عہدے کے سینئر ترین افسر شہید ہوگئے ہیں گوکہ پولیس اسے موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور کے گاڑی سے ٹکرانے کا نتیجہ قرار دے رہی ہے لیکن متاثرہ گاڑی کی دستیاب تصویر سے پولیس کی رائے درست معلوم نہیں ہوتی اور یہ شہید ڈی آئی جی صفوت غیور کی شہادت کے واقعے سے مماثل واقعہ نظر آتا ہے۔ اس وقت بھی پولیس نے کمانڈنٹ ایف سی کی گاڑی سے فٹ پاتھ پر کھڑے خودکش حملہ آور کے ٹکرانے کا شبہ ظاہر کیا تھا جبکہ بعد میں گاڑی میں دھماکے کے امکانات بھی ظاہر کئے گئے۔ اس واقعے میں بھی کمانڈنٹ ایف سی کی گاڑی میں آگ لگی تھی جبکہ ایڈیشنل آئی جی کی گاڑی میں بھی بری طرح سے آگ لگی۔ خود کش حملہ آور کے ٹکرانے سے گاڑی کی سائیڈ کو زیادہ متاثر ہونا چاہئے تھا۔ مگر دستیاب تصویر میں اے آئی جی کی گاڑی کا اگلا حصہ زیادہ متاثر دکھائی دے رہا ہے۔ تصویر کا ایک دستیاب رخ دیکھنے کے بعد قائم کئے گئے اس تاثر کے درست نہ ہونے کا امکان تو موجود ہے مگر اوپر اٹھائے گئے سوالات شاید بالکل بے جا نہ ہوں۔ ایک اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی کی گاڑی کو اطراف میں سیکورٹی گاڑیوں کا کور ہوتا ہے اور گاڑیاں اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں اس صورتحال میں خودکش حملہ آور کا آئی جی کی گاڑی کے قریب آنے کے نہ ہونے کے برابر امکانات ہونے کے باوجود خود کش حملے میں کامیابی لمحہ فکریہ ہے۔ علاوہ ازیں سینئر ترین پولیس افسر کی گاڑی میں یا اسی قافلے میں جیمرز والی گاڑی بھی اکثر موجود ہوتی ہے۔ غرض سیکورٹی سے متعلق کئی ایسے سوالات اٹھتے ہیں جو جواب طلب ہیں۔ بہر حال اس کا درست تجزیہ ماہر سیکورٹی اہلکار ہی کرسکتے ہیں لمحہ موجود کی حقیقت یہ ہے کہ حیات آباد کے ایک ایسے علاقے میں پولیس کے سینئر ترین افسر کو نشانہ بنایاگیا ہے جہاں چار پانچ میٹر کے فاصلے پر پولیس افسران کے دفاتر ہیں جس کے صدر دروازے کے گیٹ کے ساتھ اوپر بنے واچ ٹاور پر مستعد سنتری ڈیوٹی پر ہوتا ہے جبکہ سی سی ٹی وی کیمرے پر ارد گرد کی باآسانی مانیٹرنگ ممکن ہے اس کے باوجود اس کے سامنے ایک سینئر ترین افسر کے قافلے پر خود کش حملہ آور کا پہنچنا اور دھماکہ کرنے میں کامیابی پر حیرت و استعجاب کا اظہار ہی ہوسکتا ہے۔ یہ حملہ غیر متوقع بالکل ہی نہیں تھا کیونکہ گزشتہ روز کے اخبارات میں یہ رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ نیکٹا نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی ہے۔ اس حوالے سے سجنا گروپ نے 7سے 9خودکش بمباروں کو افغانستان کے راستے پاکستان منتقل کیا ہے جو پاکستان بھر کے ہوائی اڈوں پر خود کش حملے کرنے کی کوششیں کریں گے جبکہ دہشت گرد پاک افواج کے تعلیمی اداروں اور سول ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت نے تمام صوبوں کے صوبائی محکمہ داخلہ کو مراسلے لکھ دئیے ہیں جس میں واضح کیاگیا ہے کہ تمام صوبے اپنے اپنے علاقے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کریں جبکہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کا از سر نو سیکورٹی آڈٹ کروائیں اور تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کردیں۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر سات سے نو خودکش بمباروں کی آمد اور خطرات سے آگاہی دی جا چکی تھی جبکہ حیات آباد میں سیف حیات آباد کی گاڑی دو تین روز سے اس مقام پر مخالف سمت کی جانب سے کھڑی رہتی دیکھی گئی جہاں حال ہی میں ایک فوجی افسر کے قافلے کو نشانہ بنایاگیا تھا جبکہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر باغ ناران کے قریب جہاز چوک کے بریکر پر اور اس سڑک پر قبل ازیں دو تین اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ جس مقام پر اے آئی جی کے قافلے کو نشانہ بنایاگیا وہ اس سے زیادہ دور نہیں البتہ غالباً اس قافلے کی سمت اور راستہ دوسری جانب تھا۔ محولہ تفصیلات کے ضمن میں یہ ہائی سیکورٹی رسک زون ضرور قرار پاتا ہے۔ اس سڑک پر پولیس کے اعلیٰ افسران اور فوجی قافلوں کے علاوہ سینئر سول حکام کی بھی آمد و رفت رہتی ہے۔ محولہ وجوہات کی بناء پر اس سارے علاقے میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کی ضرورت تھی مگر صورتحال یہ ہے کہ پولیس اور حساس ادارے مل کر ایک اعلیٰ پولیس افسر کے قافلے کو خودکش حملہ آور کی زد سے نہ بچاسکے۔ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس طرح کے بار بار کے واقعات کا پیش آنا ہمارے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حیات آباد میں سیف حیات آباد کی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں نے گشت شروع کردیا ہے اس کے بعد سے حیات آباد پولیس کی کوئی گاڑی کم ہی گشت پر نظر آتی ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں کہ اس سڑک پر ہر پانچ دس منٹ میں سول و فوجی حکام کی گاڑیاں گزرتی ہوں اس علاقے کا دہشت گردوں کا نظر انتخاب ہونا اور خطرات میں اضافہ ادراک کے لئے کوئی مشکل امر نہیں۔ دکھ کا باعث امر یہ ہے کہ یہاں بار بار پیش آنے والے واقعات کے باوجود سیکورٹی کے انتظامات پر توجہ نہیں دی جاتی اور کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ پولیس اور دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام کو تازہ درپیش صورتحال میں ضروری اقدامات اٹھاتے وقت محولہ عوامل اور اس سے مماثل معاملات کو مد نظر رکھنے میں تغافل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے مکمل احتیاط اور پوری تیاری ہی سے اس طرح کے واقعات کا مقابلہ اور ان کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں