Daily Mashriq


قبرستان پر قبضہ کرنے والے مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے

قبرستان پر قبضہ کرنے والے مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے

ضلعی حکومت کی جانب سے فصیل شہر کو نقصان پہنچانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کرانے کا اقدام اپنی جگہ احسن ضرور ہے لیکن اگر ضلع ناظم اس سے زیادہ ضروری اور اہمیت کے حامل مسئلے کی طرف بھی توجہ دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اخباری اطلاعات میں بتایاگیا ہے اور موقع کی تصویروں میں دکھایاگیا ہے کہ چشتی آباد میں قبضہ مافیا قبریں ہموار کرکے باقاعدہ سڑک تعمیر کرکے شہر خاموشاں کو زیر تسلط رہنے کی دیدہ و دانستہ کوشش کر رہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے قبرستان پر قابض ہو کر آبادی تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ نیبر ہڈ کونسل کے ناظم کی جانب سے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ٹائون ون کے اہلکاروں کی قبضہ مافیا سے ملی بھگت اور ساز باز کا الزام زیادہ سنگین معاملہ ہے جس کی موقع پر تصدیق ممکن ہے مگر اس کے باوجود اس کا نوٹس نہ لیا جانا حیرت انگیز امر ہے۔ ہمارے تئیں فصیل شہر سے کہیں زیادہ اہمیت کا مسئلہ قبرستان پر قبضہ ہے جس کے ذمہ داروں کے خلاف نہ صرف ایف آئی آر درج ہونی چاہئے بلکہ ان کو گرفتا کیا جانا چاہئے۔ ٹائون ون کے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ عملے پر الزام کی بھی سنجیدہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس واقعے میں ملوث ہونے والے عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ شہر پشاور میں قبرستانوں پر قبضے کا معاملہ سنگین سے سنگین تر صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ لوگوں کا اپنے آبا و اجداد کے مقابر کی بے حرمتی اور مسمار کرنے پر غم و غصہ فطری امر ہے۔ اس سے حکومت کی بھی بدنامی ہو رہی ہے اور عوام کا اس ضمن میں احتجاج و اشتعال بھی بڑھ رہا ہے۔ اس مسئلے کا عدالت عالیہ نے بھی قبل ازیں نوٹس لیا تھا اور رپورٹ طلب کرلی تھی۔ محکمہ مال اور پولیس کو خصوصی ہدایات کا اجراء بھی ہو چکا تھا مگر با اثر افراد ملی بھگت سے قبضہ کرنے سے باز نہیں آئے جن کے خلاف سخت سے سخت اقدامات سے ہی قبرستانوں کا تحفظ ممکن ہوگا۔

قابل توجہ مطالبات

پاکستان تحریک انصاف ٹانک کے ضلعی نائب ناظم کی علاقے کے رہائشیوں کا تالابوں سے پینے کا پانی لانے کی مجبوری کو سامنے لا کر پریس کانفرنس اور اپنی ہی حکومت کے ذمہ دار عہدیداروں کی سرد مہری کی مذمت سنجیدہ معاملہ ہے۔ ان کی جانب سے ڈیرہ میں لڑکی سے زیادتی کے واقعے میں بھی اپنی ہی جماعت پر تنقید بھی سنجیدہ معاملہ ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جبکہ پارٹی ہی کے ایک ممبر قومی اسمبلی نے بھی اسی طرح کا بیان دیا ہے جس سے اس واقعے میں دال میں کچھ کالا کا گمان فطری امر ہے۔ اس واقعے میں حکومتی محکموں کی سرد مہری بھی بلا سبب نہیں۔ بہر حال ہر دو معاملات اپنی اپنی جگہ اہم اور قابل توجہ امور ہیں۔ حکمران قیادت اپنے کارکنوں اور ناظمین و ممبران اسمبلی کی شکایات اور سامنے لائے جانے والے حالات خواہ وہ الزامات کی صورت ہی میں کیوں نہ ہوں اس لئے وقعت دینی چاہئے کہ یہ مخالفین کی آراء نہیں بلکہ آواز دوست ہیں۔ اس طرح کرکے ہی حکومتی جماعت اپنے کارکنوں کا اعتماد بحال رکھ سکتی ہے اور اچھی حکمرانی بھی اسی طریقے سے ہی ممکن ہوگی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ان شکایات و مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے گا اور ان کے حل کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

پی ڈی اے حکام کی توجہ درکار ہے

حیات آباد فیز6کے مکینوں کی جانب سے علاقے میں پی ڈی اے کی جانب سے شروع کئے گئے کاموں کی تحسین کے ساتھ اس امر کی جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ علاقے میں نوٹسسزکے اجراء کے باوجود گلیوں میں پانی کے بہائو اور تالاب بننے کے عمل کی ہنوز روک تھام کی ضرورت ہے۔ گلیوں کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کے لئے بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو باقی ماندہ حصوں کے بھی شکستہ ہونے کے باعث پکی گلیوں کا کچی گلیوں کی صورت اختیار کرنے کاخدشہ بے جا نہیں۔حیات آباد سے پی ڈی اے کو ماہانہ لاکھوں کروڑوں روپے کی آمدن ہوتی ہے جبکہ پی ڈی اے شہریوں سے اپنی خدمات کا باقاعدہ معاوضہ وصول کرتی ہے جس کی بناء پر یہ اس کا فرض بن جاتا ہے کہ وہ شہریوں کو خدمات اور سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے۔

متعلقہ خبریں