کئی بار رسوائی ہوئی کئی بار مجھ کو رلایا گیا

کئی بار رسوائی ہوئی کئی بار مجھ کو رلایا گیا

معاشرتی نظام میں ایسے سقم موجود ہیں جہاں خواتین کوغیر مساوی رویوں کا سامناہوتا ہے۔خواتین ہماری آبادی کا 51فیصد حصہ ہیں۔عورت جس روپ میں ہو،،ماں بہن ،بیٹی بیوی جس رشتے میں بھی ہو قابل قدر ہے۔۔اسی طرح موجودہ دور میں گھر سے باہر مختلف شعبوں میں بھی خواتین نہایت جانفشانی اور احسن طریقے سے اپنا کردار اداکرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔

عورت،،جس سے عزت و ناموس کو جوڑا جاتا ہے،،اسی عورت کی تذلیل کی بہت سی مثالیں بھی ہمارے ہی معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔عورت جس کے عمل کو مرد یا پھر پورا خاندان اپنی عزت و غیرت کے پیمانے پر جانچتا ہے۔ اسی عورت کی عزت کو ارزاں کرنے میں پھر یہی مرد کسی طرح سے عار ،کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔۔مثال کے طور پر ڈیرہ اسماعیل خان کی شریفاں بی بی جو ایسے ہی مردوں کے ہاتھوں بے عزتی کا شکار ہوئی۔ان ظالموں کے حساب سے کسی غلطی کا مرتکب شریفاں بی بی کا بھائی ہو الیکن سزاواراسے ٹھہرایا گیا ۔شریفاں بی بی کا مسئلہ تو باآواز بلند اٹھا لیا گیا ہے لیکن ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں خواتین پر ظلم،جبر یا تشدد کسی نہ کسی صورت ہوتا ہے لیکن ان واقعات کو آواز نہیں ملتی ۔
گزرے چند برسوں میں خواتین کے ساتھ غیر منصفانہ اور پرتشدد رویے کے تدارک،خواتین کو بنیادی حقوق کی رسائی،گھریلو سطح پر تشدد اور ساتھ ہی گھروں سے باہر مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کے استحصال کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔کئی قوانین بنے ہیں تو کئی مسودے ابھی دستور ساز ایوانوں میں زیر غور لائے جانے کے منتظر ہیں لیکن ان سب قوانین کی موجودگی سے خواتین کی اکثریت شاید ہی واقف ہوگی۔بہت کم ہی عورتیں ہوں گی جو یہ جانتی ہونگی کہ انکے حقوق کی فراہمی،انکے تقدس و حرمت کی حفاظت ان پر روا جبر کے خلاف قوانین بھی موجود ہیں جن کی مدد لے کر اپنے مجرم کو سزا دلا سکتی ہیں۔جو تھوڑی بہت واقفیت رکھتی بھی ہونگی انکے لیے بہت سے سوالیہ نشان ہوتے ہیں کہ کیسے اور کس طرح وہ اپنے مسئلے کی شنوائی کرے،خود پر بیتی تکلیف کا مداوا کرنے کے لئے وہ کو نسا در کھٹکھٹائے‘ ایسے میں ان کو بس ایک ہی راستہ نظر آتا ہے کہ چپ کی چادر اوڑھ کر خود پر ہوتا ظلم برداشت کرے۔۔
خیبر پختونخوا میں خواتین کے تشدد واقعات سامنے آتے رہتے ہیں،حقوق نسواں کے لئے سرگرم غیر سرکاری ادارے ان کے اعداد وشمار مرتب کرتے ہیں۔ اسی طرح کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں برس کے ابتدائی آٹھ ماہ میں بھی قریباً200ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں خواتین کو مختلف صورتوں میں تشدد کا سامنا رہا۔یہ تو صرف وہ واقعات ہیں جو سامنے آئے ہیں بہت سی کہانیاں تو ان کہی ہی رہ جاتی ہیں کیونکہ اوپر ذکرکردہ وجوہات خواتین کو انصاف کے حصول میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
انہی خواتین کی رہنمائی کے لیے خیبر پختونخوا میں ایک قدم اٹھا گیا ہے۔۔محکمہ سماجی بہبود و ویمن ایمپاورمنٹ کی جانب سے گزشتہ برس دسمبرسے ٹیلی فون ہیلپ لائن 0800-22227کا اجراء کیا گیا ہے ۔۔بولو ہیلپ لائن کے نام سے اس سروس کو شروع کرنے میں محکمہ سوشل ویلفئیر کو غیر سرکاری تنظیموں کا تعاون بھی حاصل رہا ہے ۔یہ ہیلپ لائن بنیادی طور پر ان خواتین کی رہنمائی کے لیے ہے جو خود پر روا استحصالی رویوں اور تشدد سے نالاں کسی مدد کی متلاشی ہیں ۔24گھنٹے کی ٹیلی فون سروس پر رابطہ کرکے خواتین اپنے مسئلے کے مطابق قانونی تقاضوں سے آگاہی لیتی ہیں،، ہیلپ لائن کی بدولت ظلم و ناانصافی سے بچائو کے لیے واقفیت لیتی ہیں۔ابھی یہ ہیلپ لائن سہولت خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور،صوابی،مردان ، نوشہرہ،سوات،ایبٹ آباد،چارسدہ،لوئر دیر کے ساتھ ساتھ خیبر ایجنسی کی خواتین کے لیے میسر ہے۔
قوانین تب ہی موثر ہوسکتے ہیں جب انکو استعمال کیا جائے،جن کے لیے یہ بنے ہیں وہ ان سے استفادہ کریں۔اور یہ تب ہی ممکن ہے جب عوام میں شعور و آگاہی ہو اور انکی مناسب رہنمائی ہو۔۔ظلم کی چکی میں پسنے والی خواتین کو اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کی خاطر بولو ہیلپ لائن بھی ایسا ہی پلیٹ فارم ہے جس میں خواتین کو اپنے گھر بیٹھے ہی ٹیلی فون کے ذریعے معاونت مل جاتی ہے۔اپنے اجراء سے لے کر اب تک281خواتین کی رہنمائی کر چکا ہے۔یہ رہنمائی صرف قانونی پیچ و خم سمجھانے کے مشوروں تک ہی محدود نہیں بلکہ مسئلے کی نوعیت کے مطابق امداد کا طریقہ کار بھی متعین کیا جا تا ہے،اگر کسی مسئلے کے حل کے لیے پولیس سے مدد کی ضرورت ہے تو اس بارے میں رہنمائی کی جاتی ہے۔خواتین کو خود بھی اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے دستیاب ہر سہولت سے فائدہ اٹھانا ہو گا ۔ہم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آگاہی و رہنمائی کا ایک وسیلہ بنیں ،،بہت سی عورتیں جو گھروں تک محدود ہیں ان تک معلومات پہنچائیں کہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے انہیں ہمت کرنی ہوگی،،اگر وہ واقف نہیں ہیں ان وسائل و قانونی سہاروں سے جو انکی دادرسی کا موجب بن سکتے ہیں تو ہمیں انہیں اس بارے میں تو آگاہی دینی چاہیئے تاکہ وہ ظلم و ناروا رویوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت کرسکیں۔

متعلقہ خبریں