Daily Mashriq


خالص ہی تو سب کچھ ہے

خالص ہی تو سب کچھ ہے

اخبار میںایک خبر نظر سے گزری کہ پشاور میں سات شیر فروشوں کو دودھ میں پانی ملانے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا۔چھاپہ مار ٹیم نے دودھ کے نمونے لے کر موبائل لیبارٹری میںٹسٹ کیا تو دودھ میں زیادہ مقدار میں پانی پایا گیا۔عموماً ایسی خبریں ہمیں اچھی لگتی ہیں جن میں سماج دشمن عناصر کو گرفتار کرنے کا ذکر ہولیکن یہ خبر ہمیں اداس کرگئی اور ان سات ’’نیک ‘‘لوگوں پر ترس بھی آگیا کہ ایک اچھے کام کی انہیں سزامل گئی۔ہماری جوانی بلکہ نوجوانی کے دنوں کی بات ہے کہ اس وقت کے ایک مشہورڈاکٹر صاحب کا جعلی میڈیسن کا سکینڈل سامنے آیا تھا کہ موصوف دوائیوں میں چونا ڈالتے تھے ۔گرفتار ہوئے پھر آزاد ہوئے ، پھر کیا ہوا ہمیں نہیں معلوم ۔لیکن اس سکینڈل میں بھی ہمیں جعلی دوائیاں بنانے پرگلہ نہیں تھا ، گلہ تھاتو یہ تھاکہ جناب دوائی ، گولی یا کیپسول میں چونا ہی کیوں ڈالتے ہو، بھلے سے آٹا ڈال دو ، سوکھا دودھ ڈال دو۔ منافع ہی کمانا ہے نا، ایک بیمار اوپر سے چونایعنی مرے کو مارے شاہ مدار، چلومریض سوکھا دودھ یا آٹا دوائی کی صورت میں کھا لے گا تو اچھانہیں تو خراب بھی نہیں ہوگا۔اس پر عجیب بات یہ کہ ہمارے یہاں سکینڈل جنم لیتے ہیں لیکن اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتے ۔میڈیا ان سکینڈلز کو ان کی دلچسپی تک تو فالو کرتا ہے لیکن شاید ان کے منطقی انجام سے اسے کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ دوسرا ہمارے یہاں جزا تو سرے سے ہے ہی نہیں لیکن سزا بھی ملتی ہے تو صدیاں بیت جاتی ہیں ۔ ان گرفتار دودھ فروشوں کی عظمت کو سلام پیش کرنے کو دل کرتا ہے کہ انہوں نے دودھ کو’’صدیوں‘‘ تک محفوظ رکھنے والی دوا فارملین تو نہیں ڈالی ناں ۔فارملین وہ دوائی ہے جوعام طور پرلاش کو محفوظ کرنے کے لیے مردوں کے جسم پر لگائی جاتی ہے ۔ پشاور شہر میں اسی فیصد یہی دودھ بک رہا ہے اور ہم اسی دودھ کو پی رہے ہیں ۔ مارکیٹ میں جعلی دودھ بھی بک رہا ہے جس میں سنا ہے کہ ڈٹرجنٹ، چونا وغیرہ قسم کی چیزیں شامل کی جاتی ہیں۔ مہارت کا عالم یہ ہے کہ عام نظر سے وہ دودھ ہی دکھائی دیتا ہے سو لوگ اسی دودھ کو خریدتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں ۔ اسی طرح باڑوں میں بھینس کا زیادہ مقدار میں دودھ لینے کے لیے انہیں اسٹرائیڈ والے انجکشن لگاتے ہیں ،اب اس انجکشن والے دودھ کا ہمارے جسموں پر کیا اثر ہوتا ہوگا جو انجکشن حاملہ خواتین کو زچگی کے وقت دیا جاتا ہے ۔یہ جو سات لوگ پکڑے گئے ہیں یہ میرے خیال میں’’شریف ‘‘قسم کے لوگ تھے کہ جنہیں کم ازکم اپنے گاہکوں کے حفظان صحت کا تھوڑا بہت خیال ضرورتھا کہ پانی تو زندگی ہے بہرحال۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ پشاور میں مردہ مرغیا ں اور مضر صحت مچھلیاں بیچنے کے جرم میں بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں ۔ اب یہ مردہ مرغیاں کہاں سے آتی ہیں ، کون بیچتا ہے اور کن کن لوگوں کی پشت پناہی انہیں حاصل ہے ۔یا پھرہم ہی مجرم ہیں کہ بے خوف اپنے لیے زہر خریدرہے ہیں ۔ عام طور پر یہ کام شہری حکومتوں کا ہے کہ وہ ان معاملات کو دیکھے ورنہ انسان تو ظالم ہے اور پیسے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے ۔ اس ظلم سے سے شہری حکومتیں ہی بچاتی ہیں ۔ اس ضمن میں شہری حکومتوں کی کارکردگی سوالیہ نشان ضرورہے ۔ ہمارے شہری ادارے اس طرح کام نہیں کرتے جیسا انہیں کرنا چاہئیے ۔ دراصل یہ کام روزانہ کی بنیاد پر کرنے کاہے جبکہ ہمارے یہاں یہ کام ہنگامی بنیادوں پر کیا جاتا ہے ۔ جب کوئی نیا افسر آتا ہے وہ ہنگامی بنیادوں پر چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ چند ملاوٹ کرنے والے ، گراں فروش وغیرہ پکڑ لیے جاتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ سب ٹھیک ہوگیا ہے اور شہری حکومت کے اہلکار آرام سے بیٹھ جاتے ہیں ۔ جبکہ یہ عمل ایک مستقل سسٹم کا متقاضی ہے ۔ موجودہ سسٹم میں شہری ادارے اور دکاندار ؎ہی شامل ہیں جبکہ صارف اس میں موجود نہیں ہے ۔ اگر ایک ایسا سسٹم بنایا جائے کہ جس میں صارف کو اہمیت دی جائے کیونکہ سارا سسٹم تو صارف ہی کے لیے ہے اور اسی کے دم سے چلتا ہے ۔موجودہ سسٹم میں صارف مکمل طور پر سارے عمل سے لاتعلق ہے ۔ سبزی ہو فروٹ ہو گوشت ہو یا دودھ وغیرہ بس جو مارکیٹ میں میسر ہے وہی خریدنے پر مجبور ہیں ۔ دودھ کی بات کی جائے تو کھلے دودھ کا الٹرنیٹ ٹیٹرا پیک ہے کہ جس پر خود بہت سے سوال اٹھے ہیں ۔زیادہ تر تو ان میں ٹی وائیٹنرز ہیں ۔خدا جانے کہ ان میں اور کیا کیا کچھ ڈالتے ہوں گے ۔ سنا ہے کہ ایک ادارہ لائیوسٹاک اور ڈیری کابھی ہے ۔ مجھے اس ادارے کے دفاتر کے بورڈز تو دکھائی دیتے ہیں یعنی اس میں کچھ کام تو ضرور ہوتا ہوگا لیکن وہ کام کیا ہے اس کا کوئی علم نہیں ۔کیونکہ ہمارا دودھ پنجاب سے آتا ہے ، مرغیاں بھی کچھ پنجاب سے اور اپنے صوبے کے فارموں سے اور مچھلی کے لیے اللہ نے سمندر اور دریا بھر دیے ہیں جبکہ باقی کام پرائیویٹ سیکٹر کے تالاب زندہ باد ۔لائیوسٹاک نے زیادہ دودھ دینے والے کتنے مویشیوں کی نسل کَشی کی ، زیادہ گوشت دینے والے مویشیوں کی کتنی نسلوں کو فروغ دینے کا کام ہوا ہے ہماری نظر سے نہیں گزرا ۔ اگر روٹین کے کام ہی ادارے کریں گے تو پھر یہی حال ہوگا کہ فارملین بھرا دودھ ہم پیئیں گے اور مردہ مرغیاں اور باسی مچھلیاں کھائیں گے ۔ ایسی صورتحال میں کوئی شریف آدمی خالص دودھ میں صاف پانی ڈالے تو کم از کم اسے گرفتار نہ کیا جائے بلکہ اس کی اچھی نیت پر اسے حسن کارکردگی کا ایوارڈ دیا جائے کہ میرے خیال میں دودھ میں پانی ڈالنے سے دودھ گاڑھا نہیں رہتا لیکن خالص رہتا ہے اور خالص ہی تو سب کچھ ہے ۔

متعلقہ خبریں