Daily Mashriq


ون بیلٹ، ون روڈ کی مخالفت کیوں ؟

ون بیلٹ، ون روڈ کی مخالفت کیوں ؟

چین کے مالی تعاون سے پاکستان نے جب سے سی پیک منصوبے کا اعلان کیا ہے بھارت سمیت بہت سے ممالک کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر اس عظیم منصوبے کو ناکام بنا دینا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو سکے ،چین کے صدر شی چن پنگ نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ ’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘ خوشحالی کا منصوبہ ہے اور ہم باہمی تعاون کی حکمتِ عملی سے مزید کامیابیاں حاصل کریں گے۔ چین دوسرے ممالک کے لئے آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے گا تاہم وہ اپنے قانونی حقوق اور مفادات سے بھی دستبردار نہیں ہو گا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ چین نے اپنے ملک کے لئے جو نظام اپنایا ہے اس کی خاص بات یہ ہے کہ ہر صدر کو دس سال (دوٹرم) تک برسر اقتدار رہنے کا موقع ملتا ہے۔اس عرصے میں نئی قیادت تیار ہوتی رہتی ہے اور جونہی صدر کے دس سال پورے ہوتے ہیں ان کی جگہ نئی قیادت منصب سنبھال لیتی ہے۔ جو کارِ حکومت کی تربیت لے چکی ہوتی ہے۔ صدر شی چن پنگ ابھی مزید پانچ سال تک صدارتی ذمہ داریاں سنبھالے رکھیں گے۔پالیسیوں کے تسلسل کے لئے نئی قیادت کو مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جن پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے ان پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ چینی صدر شی چن پنگ کے وژن کے تحت تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے اس کے تحت بیک وقت ریل، روڈ اور سمندری ٹریفک کے منصوبوں کوپایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے، جس سے تین براعظم باہم مربوط ہو جائیں گے اور دنیا کے درجنوں ممالک چینی سرمایہ کاری سے مستفید ہو کر ترقی کی برکات حاصل کریں گے،اس وژن کے تحت بہت سے منصوبے پایہ تکمیل پر پہنچ چکے اور اقتصادی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔سی پیک کا منصوبہ ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے، اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کی معاشی شرح نمو میں معتدبہ اضافے کی امید کی جا سکتی ہے اس وقت بھی اگر جی ڈی پی کی شرح نمو5.3 فیصد پر ہے تو اس میںان منصوبوں کا بھی حصہ ہے جو سی پیک کے تحت برق رفتاری سے مکمل ہو کر بجلی کی پیداوار دینا شروع ہو گئے ہیں۔سی پیک کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے بعض سیکشن بھی تکمیل کے قریب ہیں جن سے آمدو رفت میں انقلابی تبدیلیوں کی امید کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے اندر اور باہر سی پیک کے بارے میں ایک مخصوص طرزِ فکر کی جانب سے مخالفانہ پروپیگنڈہ بھی ہو رہا ہے امریکہ نے بھی بھارتی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے سی پیک پر انہی خطوط پر نکتہ چینی کر دی،جن کا تذکرہ بھارت کرتا رہتا ہے،حالانکہ چینی حکومت نے بھارت کو بھی دعوت دی تھی کہ وہ سی پیک سے استفادہ کر سکتا ہے، بھارت کے اندراس رائے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکومت کو سی پیک کے متعلق ناقدانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے اس سے استفادے کی فراخ دلانہ چینی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہئے،لیکن بھارت پاکستان دشمنی میں اندھا ہو کر نہ صرف خوداس منصوبے پر بے سرو پا نکتہ چینی کر رہا ہے،بلکہ اب امریکہ کو بھی اس سلسلے میں بیان بازی پر آمادہ کر دیا ہے،لیکن مقام اطمینان ہے کہ امریکہ کو اس بھارتی چال بازی کی جلد سمجھ آ گئی اور اس نے سی پیک کی بلا سوچے سمجھے جو مخالفت شروع کر دی تھی اس کو ختم کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے،حالانکہ چند ہفتے قبل امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا تھا کہ سی پیک متنازعہ علاقوں سے گزر رہی ہے،لیکن امریکہ کو جلد ہی احساس ہو گیا ہے کہ نہ صرف یہ الزام غلط ہے،بلکہ سی پیک سے پاکستانی عوام کو بہت زیادہ معاشی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ امریکہ کو اب یہ احساس بھی ہو گیا ہے کہ سی پیک کے تحت ٹرانسپورٹیشن، انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں سے پاکستان سمیت خطے میں استحکام اور خوشحالی آئے گی۔

ون بیلٹ ون روڈ کے متعلق پاکستان کے اندر بعض حلقے دانستہ یا نادانستہ طور پر یہ بے بنیاد پروپیگنڈہ بھی کرتے رہے ہیں کہ اس کا مقصد چین کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے راہ ہموار کرناہے۔چینی صدر نے اپنی پارٹی کی اہم ترین پانچ سالہ میٹنگ میں واضح طور پر کہہ دیا کہ چین کے کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں اور اس کی آزاد خارجہ پالیسی جاری رکھی جائے گی۔چین کی ترقی کسی تیسرے ملک کے خلاف بھی نہیں ہے اور نہ ہی چین کی ترقیاتی سرگرمیوں کا مقصد کسی دوسرے ملک کو نیچا دکھانا ہے،بلکہ اس کے پیشِ نظر یہ اعلیٰ مقصد ہے کہ دنیا کو ان فوائد میں شریک کیا جائے جو چین کو ترقی کی دوڑ میں حاصل ہوئے،چین میں کروڑوں لوگوں کو غربت کی سطح سے اٹھا کر خوشحالی سے ہمکنار کر دیا گیا ہے۔چین اپنی اس خوشحالی میں دوسرے خطوں کے لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے اور جو منصوبے تکمیل کے بعد روبہ عمل ہیں اْنہیں دیکھنے کے بعد چین کی اس پالیسی کی صداقت بھی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ چین میں کرپشن کے مسئلے کو بھی قیادت سنجیدگی سے لیتی ہے اور اس کا قلع قمع کرنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ چینی صدر کی طر ف سے بر وقت ان خیالات کے اظہار کے بعد ان حلقوں کو بھی اطمینان ہو جانا چاہئے جو خواہ مخواہ سی پیک کی مخالفت کر رہے تھے۔

متعلقہ خبریں